• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صبا احمد

تُخمِ بالنگا اپنے غیرمعمولی طبّی خواص کے سبب قدرت کا ایک اَن مول تحفہ ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں اسے عموماً صرف مشروبات اور فالودے کی تیاری ہی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ کسی دَور میں اس بِیج کو بطور کرنسی بھی استعمال کیا جاتا رہا اور توانائی سے بھرپور ہونے کے سبب جنگ سے قبل سپاہی اِسے کھاتے تھے۔

عام طور پر28گرام تخمِ بالنگا میں 137کیلوریز، 12گرام کاربوہائیڈریٹس،4.5 گرام چکنائی، 10.5 گرام فائبر، 0.6 ملی گرام میگنیز، 265 ملی گرام فاسفورس اور177ملی گرام کیلشیم کے علاوہ وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈینٹس پائے جاتے ہیں۔

ذیل میں تخمِ بالنگا کے چند اہم طبّی فوائد پیش کیے جا رہے ہیں۔

جِلد نکھارے، بڑھاپا بھگائے: ایک تحقیق کے مطابق تخمِ بالنگا میں فینولک ایسڈ جیسے قدرتی اینٹی آکسیڈینٹ کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے، جو جسم میں فری ریڈیکلز بننے کاعمل روکتے ہیں۔

یوں اس بِیج کا استعمال ایک جانب جِلد کے لیے مفید ہے، تو دوسری طرف یہ بڑھاپے کے اثرات بھی کنٹرول کرتا ہے۔ اس میں دودھ کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ کیلشیم، پانچ گنا زیادہ وٹامن سی اور تازگی فراہم کرنے والے اجزاء پائے جاتے ہیں۔

ہاضمے کے لیے مفید: فائبر کی زیادہ مقدار کی وجہ سے تخمِ بالنگا نظامِ ہاضمہ کے لیے نہایت موزوں ہے۔ مختلف میڈیکل ریسرچز کے مطابق اس کا باقاعدگی سے استعمال معدے میں صحت بخش بیکٹیریا کی تعداد میں اضافہ، آنتوں کی صفائی میں اہم کردار ادا کرتا ہے، نیز، مدافعتی نظام کو مزید طاقت فراہم کرتا ہے۔

قلب کی صحت کا ضامن: تخمِ بالنگا کولیسٹرول گھٹاتا اور بلڈ پریشر معمول پر رکھتا ہے، جب کہ اس کا باقاعدہ استعمال شریانیں تنگ ہونے سے روکتا اور اُنہیں لچک دار بناتا ہے، نیز اومیگا تھری کا حامل ہونے کے سبب یہ دِل کا ایک اہم محافظ بھی ہے۔

ذیابطیس میں مفید: تخمِ بالنگا میں الفا لائنولک ایسڈ اور فائبر کی موجودگی کے سبب جسم میں فاضل چربی نہیں بنتی اور نہ ہی انسولین سے مزاحمت پیدا ہوتی ہے اور یہی دونوں عوامل آگے چل کر ذیابطیس کا باعث بنتے ہیں۔ لہٰذا، تخمِ بالنگا کا باقاعدہ استعمال ذیابطیس روکنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

توانائی میں اضافہ: ’’جرنل آف اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ ریسرچ‘‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق تخمِ بالنگا توانائی میں اضافہ کرنے والے اجزاء کے سبب ورزش کرنے والے افراد کے لیے خاصا مفید ہے۔ یہ میٹابولزم تیز کر کے چکنائی کم کرتا اور موٹاپے سے بچاتا ہے۔ گرمی کی شدت کم کرنے اور جسم کا درجۂ حرارت معتدل رکھنے میں انتہائی پُراثر ہے۔

ہڈیوں اور پٹھوں کی مضبوطی کا ذریعہ: عام طور پر ایک اونس تخمِ بالنگا میں روزمرّہ ضرورت کی 18فی صد کیلشیم پائی جاتی ہے، جو ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے بہت ضروری ہے، جب کہ اس میں موجود بورون نامی کیمیائی عُنصر فاسفورس، میگنیز اور فاسفورس جذب کرنے میں مدد دیتا ہے، جس کے نتیجے میں ہڈیاں اور پٹّھے مضبوط رہتے ہیں، یہ آرتھرائٹس کے درد میں آرام دیتا ہے، مختلف قسم کے سرطان سے حفاظت کرتا ہے،نیند کو بہتر بنانے میں معاون ہےجب کہ اس میں پایا جانے والا زِنک اور دیگر اجزاء منہ اور دانتوں کی صحت برقرار رکھتے ہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید
صحت سے مزید