• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

موت کے بعد کیا انسانی جسم حرکت کر سکتا ہے؟ سائنس کی حیران کن وضاحت

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

کیا موت کے بعد انسانی جسم حرکت کر سکتا ہے؟ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو نے اس سوال کو ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

اسے طبی سائنس میں پوسٹ مارٹم ریفلیکسز کہا جاتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق دماغ اور دل کے کام بند کرنے کے بعد بھی بعض اوقات جسم میں غیر ارادی پٹھوں کی حرکات ہو سکتی ہیں۔

باقی رہ جانے والی اعصابی سرگرمی، ریڑھ کی ہڈی کے ریفلیکسز، جسم میں ہونے والی کیمیائی تبدیلیاں اور بیرونی جسمانی دباؤ بعض اوقات انگلیوں، پاؤں یا ہاتھ پاؤں میں جھٹکے یا حرکت کا سبب بن سکتے ہیں۔

اس کی ایک نایاب مثال ’لازارس سائن‘ ہے، جو ریڑھ کی ہڈی سے وابستہ ایک ریفلیکس ہے اور بعض برین ڈیڈ مریضوں میں بازوؤں کی حرکت کا باعث بن سکتا ہے۔

ماہرین واضح کرتے ہیں کہ موت کے بعد ہونے والی ایسی حرکات کا یہ مطلب نہیں کہ انسان زندہ یا ہوش میں ہے، یہ جسم میں موت کے بعد ہونے والی قدرتی تبدیلیوں کے دوران پیدا ہونے والے غیر ارادی ردِعمل ہوتے ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ جب جسم میں دیگر تبدیلیاں، بشمول رِگور مارٹس یعنی اکڑن پیدا ہوتی ہیں تو یہ حرکات بھی بالآخر ختم ہو جاتی ہیں۔

خاص رپورٹ سے مزید