• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سوشل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ (SDPI) ایک این جی او ہے۔ یہ ادارہ اسلام آباد میں قائم ہے، اس ادارے نے پاکستان کے تعلیمی نصاب میں ہونے والی دھاندلیوں کا انکشاف کیا ہے جسے جنرل ضیاء الحق کے دورِ تاریک میں نصاب کا حصہ بنایا گیا تھا۔ یہ انکشافات 140صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ کی شکل میں پاکستانی عوام و خواص میں پہلی بار پہنچے ہیں جس میں پاکستانی تعلیمی نصاب میں ہونیوالی تاریخی غلطیوںکو اُجاگر کیاگیا ہے۔ نام نہاد ماہرین تعلیم اور انتہا پسند سیاست دانوں نے جس غیر منطقی اور بے دلیل مفروضوں سے اس رپورٹ کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اس سے یوں لگتا ہے کہ یہ حضرات وقت اور تاریخ کےپہیے کو الٹا چلانے پر مصر ہیں ۔

ـ ایسے تمام حضرات نے اپنی اپیل سے ماہرین تعلیم کو اپنا وکیل بنا رکھا ہے اور انکے پاس کوئی دلیل نہیں۔ جس طرح دنیا کے 80فیصد میڈیا پر یہودیوں کا قبضہ ہے اسی طرح پاکستان میں ہر جگہ بنیاد پرستوں کا قبضہ ہے ۔تاہم یہ لوگ اپنی بے وزن دلیلوں سے امن پسندی ،عقل دوستی ،سیکولرزم، خیر سگالی، بھائی چارے،اخوت اور عدم تشدد کے فلسفے کو گزند نہیں پہنچا سکتے۔ وہ اپنے طرز فکر سے حقیقت پسندی،انسانی عظمت اور برصغیر میں پھیلی دوستی کی خوشبو کونہیں روک سکتے۔

میرے حساب سے یہی اور ایسے ہی لوگ پاکستان کی ترقی کی راہ میں سد سکندری ہیں اور بقول میرے بزرگ دوست عبداللہ ملک مرحوم تمام سیاست دانوں نے مل کر بھی پاکستان کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا ایک اخبارنےپہنچایا ہے، ان لوگوں نے ہمیشہ بے مقصد محاذ آرائی کی ہے اسی لیے کہتے ہیں کہ تضاد جتنا بڑا ہوتا ہے ذہن اتنا ہی چھوٹا ہوتا ہے۔

سوشل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ کی یہ رپورٹ آخر ہے کیا ہے آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں یہ رپورٹ میرے سامنے کھلی رکھی ہے انہوں نے اپنی رپورٹ میں نظریہ پاکستان، اسلامی تاریخ ، اسلامی تعزیرات اور مسلم قوانین کے بارے میں جو غلط فہمیاں عوام میں پیدا کی جا رہی ہے ان کی نشاندہی کی ہے انہوں نے رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد میں قائد اعظم محمد علی جناح کے علاوہ اور کسی کا نمایاں حصہ نہ تھا ۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ معاشرتی علوم اور مطالعہ پاکستان کے نصابات میں تاریخ اسلام اور تحریک پاکستان کو کس کس طرح گڈمڈکر کےپیش کیا گیا ہے اور یہ کہ نظریہ پاکستان کو جزو ایمان بناتے ہوئے کس طرح بچوں کو ازبر کرایاجا رہا ہے جبکہ عملی زندگی میں حالات اس کے برعکس ہیں ۔

علاوہ ازیں رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہماری تہذیب و تمدن کے روشن مینار ٹیکسلا کی تہذیب ہڑپہ موہنجوں دوڑو اور بدھ مت کے زمانے کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے ۔سندھ کے خلاف نفرت ابھارتے ہوئے راجہ داہر کو لٹیرے، راہزن اور ڈاکو کے روپ میں پیش کیا گیا ہے مزید برآں رپورٹ میں نصاب کے حوالے سے اس بات کا بھی پردہ چاک کیا گیا ہے کہ ہندو اور سکھوں کے خلاف اور ان کے مذہب کے خلاف پاکستانی نصاب تعلیم بھرا پڑا ہے۔

رپورٹ میں اس بات کی سفارش کی گئی ہے کہ ہمیں اپنے نصاب تعلیم سے دوسرے مذاہب اور تاریخ ثقافت سے نفرت کو ہوا دینے والے واقعات اور تحریروں سے پاک کرنا ہوگا میرے حساب سے جب تک پاک سرزمین کے فکری سیاسی ،سماجی، انتظامی، معاشرتی، سائنسی ،ثقافتی، ادبی، معاشی، تدبیری، ترسیلی اور مذہبی ڈھانچے میں تبدیلی نہیں کی جاتی کشور حسین میں ایک دوسرے سے نفرت کی راہیں کھلی رہیں گی ۔

میں نے کہیں پڑھا ہے کہ ایک صاحب کو کرائے کے مکان کی ضرورت تھی ان کے دوست نے کسی خالی مکان کا پتہ دیا اور یہ پوچھتے،ڈھونڈتے وہاں پہنچے، دیکھا مکان خالی ہے انہوں نے ایک دروازے سے سر اندر کرتے ہوئےپوچھا ’’کیا یہ مکان کرائے کے لیے خالی ہے’’ ؟ جواب ملا ’’ہاں‘‘ انہوں نے کہا ’’ہم نے سنا ہے کہ یہاں جن بھوت رہتے ہیں‘‘ـ جواب ملا ’’ہمیں کیا معلوم کہ یہاں جن بھوت رہتے ہیں یا نہیں۔ ہمیں تو مرے ہوئے 80سال ہو چکے ہیں‘‘۔

تازہ ترین