• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہر سال اگست کا مہینہ آتے ہی پاکستان کے چپے چپے میں حب الوطنی کی ایک نئی لہر دوڑجاتی ہے،جوں جوں چودہ اگست کی تاریخ قریب آتی ہے، ہر طرف سبز ہلالی پرچموں کی بہار جوبن پر پہنچنے لگتی ہےاورسرزمین پاک کے گلی گوشوں میں گونجتے مِلی نغمے ہر محب وطن پاکستان کے دِل کو گرماتے ہیں۔ بلاشبہ بانی پاکستان قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں تحریک پاکستان کی جدوجہد میں مسلم اکثریت بنیادی حیثیت رکھتی تھی، تاہم تاریخ کا یہ ناقابلِ فراموش پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ جب 23مارچ 1940کے تاریخی دن عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر لاہور میں جمع تھا تو وہیں مسلم لیگ کا سبز ہلالی پرچم اٹھائے تحریک پاکستان کے غیرمسلم کارکن بھی بہت بڑی تعداد میں شامل تھے، قراردادِ پاکستان کی پرزور حمایت کرنے والوں میں تحریک پاکستان کے عظیم ہندو لیڈر جوگندرناتھ منڈل کا نام سرفہرست ہے۔قائداعظم کی فرمائش پر پاکستان کا پہلاقومی ترانہ میانوالی سے تعلق رکھنے والے ہندو شاعر جگن ناتھ آزاد نے تحریرکیا جو 14اگست 1947 کو ریڈیوپاکستان سےپہلی مرتبہ نشر ہوا اورسرکاری سطح پر بطورقومی ترانہ آزادی کےپہلے ڈیڑھ سال تک نشر ہوتا رہا۔اگر میں تاریخ کے جھروکوں سے جھانکوں تو مجھے چندو لال،راج کماری امریت، سی ای گبون، ایف ای چوہدری، الفریڈ پرشاد اور ایس ایس البرٹ وغیرہ جیسے بے شمار غیرمسلم اکابرین نظر آتے ہیں جنھوں نے تحریک پاکستان کی بھرپور حمایت کی اور قیامِ پاکستان کے فیصلہ کن مراحل میں اہم کردار ادا کیا۔ برطانوی ہندوستان کے آخری ایام میں دیوان بہادر ایس پی سنگھا متحدہ پنجاب قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر تھے جنہوں نے اپنے فیصلہ کُن ووٹ کے ذریعے پنجاب کو پاکستان کا حصہ بنوایا،اسی طرح سروکٹر ٹرنر انگریز پس منظر کے حامل ہونے کے باوجود تحریک پاکستان سے وابستہ تھے، انہیں پاکستان کی سول سروس کا بانی بھی کہاجاسکتا ہے۔ کرسچن کمیونٹی کی ایک اور نامور شخصیت الون رابرٹ کورنیلئس نے قیام پاکستان کے ابتدائی ایام میں وزیرقانون جوگندرناتھ منڈل کے ساتھ بطور لاء سیکرٹری بھی کام کیا، انہیں مسلمان اکثریتی ملک پاکستان کے پہلے کرسچن چیف جسٹس ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ ان سب محب وطن غیر مسلم اکابر کو قائداعظم کی گیارہ اگست 1947ء کی تقریر پر سو فیصدی یقین تھا کہ نوزائیدہ مملکت میں تمام شہریوں کو اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی کیلئے مندر، مسجد یا کوئی اور عبادتگاہ جانے کی آزادی میسر ہوگی، قائداعظم کی اپیل پر میرے اپنے بڑوں سمیت ہزاروں ہندو خاندانوں نے ہجرت کا ارادہ ترک کرکے پاکستان کو اپنی دھرتی ماتا بنا نے کا فیصلہ کیا۔قائداعظم کے شانہ بشانہ غیرمسلم کمیونٹی کی تحریک پاکستان میں بھرپور شمولیت اس امر کی عکاس تھی کہ وہ پاکستان کو کسی ایک مخصوص طبقے کی بالادستی تک محدود نہیں سمجھتے تھے بلکہ انکی نظر میں مسلمان اکثریتی ملک تمام پسماندہ اور محروم طبقات کے سماجی حقوق کی ضمانت بھی ثابت ہوگا۔آج قیامِ پاکستان کو آٹھ دہائیاں بیتنے کو آئی ہیں، تاہم پاکستان سے دل و جاں سے محبت کرنے والی غیرمسلم کمیونٹی کا پاک دھرتی کو سنوارنے کا جذبہ مانند نہیںپڑ سکا، آج ہم جس شعبے پر نظر دوڑائیں ہمیںوہاں ہندو، کرسچیئن، سکھ، پارسی اور دیگر برادریوں سے تعلق رکھنے والے اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری سے ادا کرتے نظر آئیں گے، پاکستان کی عدالتی تاریخ کا متفقہ طور پرسب سے ایمانداراور غیرمتنازع چیف جسٹس رانا بھگوان داس کو قرار دیاجاتا ہے ۔ اگر میں اپنی بات کروں تو میں نے ایک پاکستانی ہندو پارلیمنٹیرین کی حیثیت سے ہمیشہ اقلیتی حقوق، بین المذاہب ہم آہنگی، انسانی خدمت اور مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے آواز اٹھائی ہے، میری گزشتہ دو دہائیوں سے زائد پارلیمانی جدوجہد کا محور عوام کی خدمت ہے،رواں ماہ یکم اگست کو میری سماجی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے مجھے کینیڈا کے شہر کیلگری میں گلوبل ہندو ایوارڈسے نوازنے کیلئے مدعو کیا گیا،گزشتہ کئی برسوں سےاس اعلیٰ اعزاز کا حقدار کبھی پڑوسی ملک کا کوئی باسی اور کبھی امریکہ یورپ میں بسنے والا قرار پاتا تھا، تاہم اس مرتبہ میں کینیڈا میں سخت مقابلے کے بعد یہ گلوبل ایوارڈ پاکستان کے نام کرنے میں کامیاب ہوگیا ہوں، قبل ازیں چند سال قبل مجھے متحدہ عرب امارات نے معاشرے میں برداشت اور رواداری کے فروغ کیلئے میری خدمات کے اعتراف میں گلوبل ٹولرینس ایوارڈ سے نوازا تھا، میری نظر میں یہ اعلیٰ عالمی اعزازمیری ذاتی کامیابی نہیں بلکہ اس حقیقت کا اعتراف ہیں کہ پاکستان سے محبت کرنے والی ایک غیر مسلم شخصیت بھی بین الاقوامی سطح پر اپنی خدمات اور شناخت منوانے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔مجھےہمیشہ اس بات پر فخررہا ہے کہ اگر میرے بڑوں نے تحریک پاکستان کو کامیاب بنانے کیلئے قائداعظم کا ساتھ دیا تو آج میں سبز ہلالی پرچم کے سائے تلےبانی پاکستان کے وژن کا پرچار کرتے ہوئے اپنی دھرتی ماتا کا نام روشن کررہا ہوں،تاہم کبھی یہ سوچ کر مجھے افسوس بھی ہوتا ہے کہ جس طرح آج ہم نے تحریک پاکستان کے غیرمسلم اکابر کی تاریخی خدمات کو فراموش کر دیا ہے، اسی طرح کچھ شدت پسند قوتوں کے دباؤ پر آج کی محب وطن غیرمسلم پاکستانی کمیونٹی کی خدمات کو بھی نظرانداز کیاجارہا ہے، میرے ذہن میں ایسے سوال کلبلاتے ہیں کہ آخرہمارے درمیان کچھ لوگ اقلیتی کمیونٹی کی کامیابی پرجزبز کیوں ہوتے ہیں؟ ہمارے ارباب ِاختیار پاکستان کی خاطر اپنا تن من دھن قربان کرنے والے غیرمسلم ہموطنوں کا حوصلہ کیوں نہیں بڑھاتے؟ وہ کب تک پاکستان سے محبت کرنے والوں کی مخلصانہ خدمات سے آنکھیں چُراتے رہیں گے ؟ وقت کا تقاضا ہے کہ محب وطن غیر مسلم پاکستانیوں کی ملک و قوم کیلئے خدمات کو نصاب، میڈیا اور قومی بیانیے میں مناسب جگہ دی جائے۔ہر سال کی طرح جشن آزادی مناتی نئی نسل کو میرا یہی پیغام ہے کہ پاکستان سے محبت کسی مذہب، زبان یا نسل کی میراث نہیں،ہمارا پیارا وطن پاکستان اُس وقت ترقی و خوشحالی سے ہمکنار ہوگا جب اس کے ہر شہری کو یہ احساس ہوگا کہ یہ ملک اس کا بھی اتنا ہی ہے جتنا کسی دوسرے پاکستانی کا۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد.....!

تازہ ترین