آزاد کشمیر انتخابات کے تیسرے مرحلے میں الیکشن کمیشن نے ضلع پونچھ، پلندری(سدھنوتی) میں انتخابات ملتوی کر دیےجبکہ باغ اور حویلی میں 10 اگست کو انتخابات پروگرام کے مطابق ہوئے۔ یہ اقدام امن و عامہ کی خراب صورتحال کی روشنی میں، ووٹرز اور امیدواروں کے تحفظ کے پیشِ نظر اٹھایا گیا۔ اب آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی آئین کے تحت وجود میں آئے گی اور کامیاب اراکین حلف اٹھا کر قانون سازی کی جانب بڑھ سکیں گے یعنی ملتوی شدہ حلقوں کے اراکین کے بِنا بھی اسمبلی فعال ہو جائے گی۔ یوں کلعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی سرتوڑ کوششوں، منفی ہتھکنڈوں،شر انگیزیوں ، افواجِ پاکستان کے خلاف سازشوں و جھوٹے بیانیے کے باوجود انتخابات کا کامیابی سے انعقاد ہو گیا۔ کالعدم تنظیم جو 95 فیصد کشمیریوں کی نمائندگی کی دعویدار ہے کا اثر صرف دو علاقوں تک محدود نظر آیا حالانکہ کلعدم تنظیم ہجوم کے زور پر ووٹ کی طاقت کو پچھاڑنا چاہتی تھی۔تین بار حکومت نے انکے جائز ناجائز مطالبے مانے، اس پر بھی کلعدم تنظیم کا اسمبلی اراکین کے خلاف گالم گلوچ ، اداروں اور پاکستان کی ہرزہ سرائی،ناجائز مطالبے اور مطالبوں سے نکلتے انڈے بچے، بھلا کوئی ریاست کیسے ہر بار سرنگوں ہوتی رہتی ۔ دراصل وہ ناممکن مطالبوں سے عوام کو خوا ہ مخوا ہ الجھا رہے ہیں کیونکہ مقصد مطالبات منوانا نہیں بلکہ ہندوستانی ایماء پر کشمیر میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ انتخابات ملتوی ہونے والے علاقے وہ مخصوص علاقے ہیں جہاں سے ماضی میں جنگِ آزادی میں فیصلہ کن کردار ادا ہوا تھا۔ یہاں کے سادہ لوح، اعتبار کرنے والے،بہادر، جری و نڈر عوام نے ڈوگرہ راج کے ظلم و ستم کے خلاف مثالی مزاحمت کی تھی۔اسی لئے کلعدم تنظیم نے بھی اپنی ناجائز ، بے فائدہ اور عبث مزاحمت کے لئے اس علاقے کو چنا۔ دوسری جنگِ عظیم سے فارغ ہزاروں ریٹائرڈ فوجی جوانوں اور مجاہدین نے کشمیر کے مایہ ناز سپوت کیپٹن حسین خان(ر) شہید کی قیادت میں ڈوگرہ راج کے خلاف عسکری جد وجہد کی تھی۔ کیپٹن صاحب تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے عظیم ترین عسکری ہیرو ہیں۔ان میں جنگی حکمتِ عملی، قوت ایمانی اور فوری فیصلہ کرنے کی صلاحیت جیسی خوبیاں کسی طور پر ایک جرنیل سے کم نہ تھیں۔ غازیٔ ملت سردار محمد ابراہیم خان نے انہیں "فاتح راولاکوٹ" کا خطاب دیا تھا، ان کی مقامی سپاہیوں سے تشکیل کی گئی لڑاکا فورس بعد میں آزاد کشمیر رجمنٹ بنی۔ 26 اگست 1947 میں باغ کے مقام پر ڈوگرہ فوج کے مسلمانوں کے قتلِ عام پر شروع ہوئی تحریک نے ڈوگرہ فوج پر مسلسل حملے جاری رکھے، یہانتک کہ نومبر 1947 میں راولاکوٹ میں ڈوگرہ فوج کا مضبوط قلعہ فتح کر لیا گیا اور ڈوگرہ فوج نے بھاگ کر پونچھ میں پناہ لی۔ 11 نومبر 1947 کو کیپٹن حسین شہید تنگی گلا (شہید گلا) میں ڈوگرہ فوج سے لڑتے ہوئے شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے اور ہلالِ کشمیر کے اعزاز سے نوازے گئے۔ کیپٹن حسین شہید نے اپنی جان ومال سے وطن کے لئے لازوال داستانِ شجاعت و بہادری رقم کی۔ آج کا آزاد کشمیر انہی بہادروں اور جان نثاروں کی قربانیاں کا نتیجہ ہے۔ تاریخِ کشمیر سے نا بلد آج کی نسل کو یہ دراصل آزادی پلیٹ میں رکھ کر ملی، تبھی وہ سوشل میڈیا اکاؤنٹوں پر اپنی ولدیت ڈوگرہ لکھ کر یا خود کو ڈوگرہ کہلا کر فخر محسوس کرتے ہیں۔قابلِ نفرت ڈوگرہ فوج کے مظالم یا مسلمانوں پر مہاراجہ ہری سنگھ کی چیرہ دستیوں سے لاعلم وہ ایسی خیالی آزادی کے خواب دیکھ رہے ہیں جو انہیں مکڑی کے جالے میں پھنسا دے گی مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوگی۔
آج کشمیر میں کلعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے معصوم کشمیریوں کو غلط بیانیے سے الجھایا ہوا ہے۔ انتہائی ہلکے، نازک اور نفیس انداز میں کہا جاتا ہے کہ ہمیں تو اپنے بنیادی حقوق مانگنے پر سزا دی جا رہی ہے جبکہ یہی کچھ مقبوضہ کشمیر میں بھی روا ہے یعنی آزادی مانگنے پر ان پر بھی مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ در حقیقت یہ دلیل سرے سے غلط ہے! کیسے انسان کے پہلے اور بنیادی حقِ آزادی کے مقابلے میں آٹے ،بجلی، روز مرہ کی ضروریاتِ زندگی کو لا کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ پہلی نظر میں یہ دلیل سادہ، پُرکشش اور قابلِ قبول لگتی ہے لیکن اس میں چھپی تہ در تہ سازش انسان کو بدگمانی کے ایسے جال میں پھنساتی ہے کہ وہ منزل سے بھٹک جاتا ہے۔ "را"کی مالی معاونت سے چلائے گئے سوشل میڈیا اکاؤنٹوں پر منفی بیانیے کا واحد مقصد عوامی جذبات کو بھڑکا کر آزاد کشمیر حکومت اور پاکستان کے خلاف کرنا ہے۔ پراپیگنڈے کا یہ مہلک ترین ہتھیار، بدنامِ زمانہ ہندوستانی انفو لیب یا اس جیسے اکاؤنٹوں سے لاکھوں کشمیریوں تک پہنچایا گیا ہے۔ شر پسندوں کے جھوٹے بیانیے پر من و عن یقین کر کے بہت سے کشمیری ان محرومیوں کو مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی مظالم کے مقابل سمجھنے لگے ہیں۔ یہ ذہن سازی دراصل 78 سال سے مقبوضہ کشمیر میں کیے گئے ہندوستانی مظالم کو پسِ پشت ڈال کر آزاد کشمیر کے حالیہ احتجاجات اور دھرنوں کو مخصوص زاویے سے پیش کرنے کی گہری سازش ہے۔ کمال چالاکی و عیاری سے ایک جھوٹے بیانیے کو دوسرے بیانیے پہ مسلط کر کے معصوم کشمیریوں کو پاکستان سے متنفر کیا جا رہا ہے۔
آج آزاد کشمیر کی عوام کو سازش کے تحت تنہا کیا جا رہا ہے اورپاکستانیوں کے دلوں میں کشمیریوں کی حمایت و محبت معدوم کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔چھوٹی سی آبادی والے آزاد کشمیر کا پاکستان سے علیحدگی پر کیا مستقبل ہوگا؟ ہندوستان محض چند گھنٹوں میں اس پر قابض ہو جائے گا اور جیسی خون کی ہولی آزاد کشمیر میں کھیلی جائے گی دنیا مقبوضہ کشمیر،عراق،لیبیا ،شام و غزہ کے مظالم بھول جائے گی۔پاکستانی پاسپورٹ، پاکستانی شناخت، پاکستان میں کشمیریوں کی نوکریاں، فوج اور دیگر سرکاری اداروں کے خون میں رچے بسےمحبِ وطن کشمیری آخر کہاں جائیں گے؟ تیسری نسل کو مہاجر کہنے پر اعتراض کرنے والی کلعدم تنظیم بتائے کہ تین نسلوں سے برطانیہ میں رہنے والے کشمیری کیا خود کو کشمیری نہیں کہتے ۔کیا وہاں کے مقامی لوگ انہیں انگریز ماننے لگے ہیں؟کیا انہیں خوف نہیں کہ کسی روز انہیں خلائی مخلوق(ایلین)قرار دے کر ملک بدر کیا جاسکتا ہے؟بھولیں نہیں کہ ایسے وقت میں پاکستان ہی وہ ملک ہوگا جہاں وہ واپس آ سکتے ہیں۔ پھر کلعدم تنظیم ان کشمیریوں کو زندہ درگور کرنے کے لئے کس کے ایجنڈے پر تلی ہے؟وہ کشمیریوں کو اپنے واحد ساتھی،غم گسار،ہمدرد پاکستان سے کیوں متنفر کر رہی ہے۔کیا وہ محترم علی گیلانی سے زیادہ کشمیری ہیں؟ تحریکِ آزادیٔ کشمیر کو پہلے اپنے سینکڑوں جوانوں کے خون سے پنجاب کی طرح سینچیں تو پنجاب سے مقابلہ کریں کہ 78 سال سے ہندوستان سے آزادی کی کونسی ایسی تحریک ہے جو بیس کیمپ سے اٹھی ہو اور پاکستانی شہادتوں کا کشمیریوں سے پلڑا بھاری نہ رہا ہو۔ مقبوضہ کشمیر سے آئے ہوئے مہاجرین، مہاجر ہیں اور مہاجر رہیں گے جب تک مقبوضہ کشمیر آزاد کشمیر سے نا آملے! پاکستانی بھی انصارِ مدینہ کی طرح ہمیشہ ان کی قدر کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔انشاءاللہ!
جس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلند
کون کر سکتا ہے اُس نخلِ کُہن کو سرنِگُوں!