• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غزہ جامع منصوبے اور فلسطینی ریاست کو مسترد کرنے کے اسرائیلی اعلان پر اسلامی ممالک کا شدید ردعمل

فائل فوٹو
فائل فوٹو 

غزہ جامع منصوبے اور فلسطینی ریاست کو مسترد کرنے کے اسرائیلی اعلان پر 8 اسلامی ممالک نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ مشترکہ بیان میں اسرائیل کے مؤقف کو غزہ میں جنگ کے خاتمے اور پائیدار امن کی کوششوں میں براہ راست رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔

پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ جامع منصوبے کے روڈ میپ کو مسترد کرنا منصوبے پر عملدرآمد سے واضح انکار ہے۔

مشترکہ بیان کے مطابق روڈ میپ میں فلسطینی دھڑوں کی جانب سے قبول کیے گئے انتظامات شامل ہیں، جن میں اسرائیلی افواج کا انخلا، بین الاقوامی استحکامی فورس کی تعیناتی، غزہ کا انتظام قومی کمیٹی کے سپرد کرنا اور غزہ کی تعمیر نو شامل ہے۔

8 اسلامی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے جامع منصوبے اور روڈ میپ پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائے۔

بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اسرائیل کے انکار، رکاوٹ یا تاخیر کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کی ذمہ داری بھی اسرائیل پر عائد ہوگی، مشترکہ بیان میں غزہ میں سنگین انسانی صورتحال سے نمٹنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے جامع منصوبے پر فوری عملدرآمد پر زور دیا گیا ہے۔

اسلامی ممالک نے فلسطینی ریاست کے قیام سے انکار کی ہر کوشش مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں پر آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام، جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو، ہی دو ریاستی حل کے ذریعے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے۔

مشترکہ بیان میں بورڈ آف پیس سے بھی جامع منصوبے کے روڈ میپ پر عملدرآمد اور صدر ٹرمپ کے منصوبے کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید