پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان میں ایک بار پھر صوبوں کی تعداد بڑھانے کے سلسلے میں مختلف مباحثوں اور تجزیوں کی بھرمار ہو چکی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ موجودہ نظام تباہ ہو چکا ہے اور اگر یہ نظام چلتا رہا تو دس سال بعد بھی ہم انہی مسائل پر بات کر رہے ہونگے۔ اسلئے صوبے بنانے سے ہی موجودہ سیاسی اور انتظامی نظام کے ذریعے پاکستان کو بحران سے نکالا جا سکتا ہے۔ لیکن ان مباحثوں میں یہ نہیں بتایا جارہا کہ نئے صوبے اپنے ساتھ کتنا مالی بحران لائیں گے جس کا بوجھ ٹیکس نادہندگان کو نئی صوبائی اسمبلیوں، گورنروں، وزراء اعلیٰ، کابینہ، ہائی کورٹس، پبلک سروس کمیشن، سول سیکٹریٹ اور عسکری ہیڈکوارٹرز کی صورت میں اٹھانا پڑے گا۔ ماہرین کے مطابق پاکستانی سماج کی صورتحال اتنی ڈراؤنی نہیں ہے جتنا کہ بتائی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان بنتے ہی بعض ریاستی دانشوروں نے مسلمان قوم، نظریہ پاکستان اور مضبوط مرکز پر مشتمل نعروں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا تھا تاکہ ملک میں ہزاروں سالوں سے بسنے والی قوموں کے وجود سے ہی انکار کیا جا سکے۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان میں صوبوں کی تشکیل اور ان کے حقوق کسی طرح بھی انتظامی طور پر متعین نہیں کیے گئے تھے اور اس میں لازمی طور پر قومیت کا دخل تھا ورنہ شمال مغربی سرحدی صوبہ پنجاب سے علیحدہ نہ ہوتا اور نہ ہی سندھ کا یہ مطالبہ کہ اسے بمبئی سے علیحدہ کیا جائے، قبول کیا جا سکتا تھا۔ اسی وجہ سے 1935ء کا ایکٹ بھی ایک وفاقی ڈھانچہ ہی تجویز کرتا تھا اور 1940کی قرار داد پاکستان بھی ہندوستان کے شمال مغربی (موجودہ پاکستان) اور مشرقی علاقوں میں آزاد ریاستوں کے قیام کا مطالبہ کرتی تھی۔ جس میں شامل ہر خطے کی حیثیت خودمختار اور مقتدرہ اعلیٰ کی ہو گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ملک کے اتحاد، استقامت اور خوشحالی کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اس ملک میں رفتہ رفتہ واحد قوم تشکیل پائے لیکن پاکستانی عوام اس وقت تک واحد قوم نہیں بن سکتے جب تک یہاں کے فطری اجزاء یعنی پنجابی، سندھی، پختون، سرائیکی اور بلوچ قوموں کی باہمی رضامندی،سودوزیاں کے اشتراک اور برابری کی بنیاد پر وفاق کو تشکیل نہیں دیا جاتا۔
آج پاکستان کے موجودہ سیاسی بحران کا حل نئے صوبے بتایا جا رہا ہے جبکہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی سے ہی اس بحران سے نکلا جا سکتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 32کی روح سے مقامی حکومتیں بھی مملکت کا حصہ ہیں جبکہ آرٹیکلA140نہ صرف مقامی حکومتوں کا نظام بنانے بلکہ ان اداروں کو سیاسی، انتظامی اور مالیاتی ذمہ داریاں بھی تفویض کرتا ہے۔ لیکن پاکستان میں مقامی حکومت کے اداروں کا تسلسل نہ ہونے کی اصل وجہ سیاسی نظام پر جاگیرداروں، قبائلی سرداروں، ریاستی اداروں، سجادہ نشینوں اور سول بیوروکریسی کی گرفت ہے جو سمجھتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات سے نہ صرف نوآبادیاتی حکمرانی کا تسلسل ختم ہو جائے گا بلکہ عام آدمی سیاسی لیڈر بن کر ان کے مفادات کے حصول میں بھی رکاوٹ ڈالے گا۔ پاکستان میں ہر نئی حکومت اپنی مرضی کا لوکل گورنمنٹ نظام لاتی ہے تاکہ جمہوری ادارے اپنی بنیادوں پر کھڑے ہی نہ ہو سکیں اور یوں اشرافیہ کا تسلط سماج پر برقرار رہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نئے صوبے بنانے کی بجائے مقامی حکومتوں کا ایسا قانون بنایا جائے جس میں تعلیم، صحت، ٹاؤن پلاننگ، تعمیرات، پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے تمام انتظامات و اختیارات لوکل گورنمنٹ کو تجویز کیے جائیں۔ پاکستان میں ورلڈ بینک کے ایک مبصر کے آرٹیکل کے مطابق 2005ء تک لوکل گورنمنٹ کو دس فیصد تک کے اخراجات تفویض کیے جاتے تھے جوکہ اب گھٹ کر پانچ فیصد سے بھی کم رہ گئے ہیں۔
یہ بات بالکل واضح ہے کہ جمہوری نظام میں ہی پاکستانی سماج کی بقا ہے اور دنیا بھر میں یہ نظام اپنی خامیوں کے ساتھ ہی ارتقاء پذیر ہوا ہے۔ لیکن آج اگر پاکستان میں کچھ ادارے زیادہ ڈسپلن اور آرگنائزڈ ہیں تو حب الوطنی کے جذبے کے تحت ان کی یہ صلاحیتیں پاکستانی سماج اور اس کی جمہوریت کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہونی چاہئیں۔ یاد رہے کہ آج یورپ میں کرپشن کو کم کرنے میں دو اداروں کا بہت اہم کردار رہا ہے جس میں عدلیہ اور میڈیا سرفہرست ہیں اور پاکستان میں جب تک یہ ادارے سماج میں اپنی جڑیں مضبوط نہیں کر لیتے اس وقت تک کرپشن کا خاتمہ ایک خواب تو ہو سکتا ہے لیکن اس کی کوئی حقیقی شکل ابھر کر سامنے نہیں آ سکتی۔جہاں تک کرپشن کا مسئلہ ہے تو اس کی شدت پاکستان میں 80ء کی دہائی میں ضیاالحق کے غیر جماعتی انتخابات کے ساتھ شروع ہوئی تھی اور مشرف حکومت میں چن چن کر ایسے سیاستدانوں کو گود لیا گیا تھا جن پر کرپشن کے شدید الزامات تھے۔ جہاں تک صدارتی نظام کا تعلق ہے تو یہ بھی پاکستان کی بقا کے لیے نہایت خطرناک ہتھیار ہے کیونکہ آئینِ پاکستان کے مطابق پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے جہاں مختلف قومیں اپنی زبان، ثقافت، تاریخ اور سرزمین کے ساتھ صدیوں سے آباد چلی آ رہی ہیں اس لیے آئین کی اس بنیادی شق کو چھیڑنا پاکستان کے وفاق کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ نظام اس وجہ سے تباہ نہیں ہوا کہ یہاں جمہوریت نے عوام سے کوئی رشتہ استوار نہیں کیا بلکہ یہ نظام اس وجہ سے تباہ ہو رہا ہے کہ یہاں جمہوری روایات کو ارتقاء پذیر ہی نہیں ہونے دیا گیا، یوں جمہوری ادارے کبھی بھی اپنی روایتوں کوسماج میں پیوست نہ کر سکے۔ نئے صوبے بنانے کی کشمکش نہ صرف سیاسی پارٹیوں کو اور مختلف قوموں کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کرے گی بلکہ اس سے جمہوریت کا خواب مزید چکنا چور ہو جائے گا،اس طرح کے کئی منصوبے پہلے بھی آزمائے جا چکے ہیں جن سے سوائے سیاسی تنزلی کے کچھ حاصل نہیں ہوا۔