• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آزادی میں سندھ کا کردار اور موجودہ پاکستان

14 ؍اگست صرف کیلنڈر پر درج ایک تاریخ نہیں بلکہ برصغیر کے مسلمانوں کی ایک طویل سیاسی جدوجہد، قربانیوں اور ایک آزاد ریاست کے خواب کی تکمیل کا دن ہے۔ پاکستان کا قیام محض ایک جغرافیائی تبدیلی نہیں تھا بلکہ اسکے پیچھے ایک ایسا سیاسی تصور موجود تھا جس میں عوام کی مرضی، آئین کی بالادستی، بنیادی حقوق، مذہبی آزادی اور جمہوری اصولوں کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ یومِ آزادی مناتے ہوئے ہمیں یہ سوال بھی خود سے کرنا چاہیے کہ جس پاکستان کا خواب دیکھا گیا تھا، کیا ہم اسکی روح کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں؟

پاکستان کی جدوجہد آزادی میں سندھ کا کردار کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ 3مارچ 1943ء کو سندھ اسمبلی برصغیر کا پہلا قانون ساز ادارہ بنی جس نے پاکستان کے قیام کے مطالبے کی حمایت میں قرارداد منظور کی۔ یہ واقعہ پاکستان کی تاریخ میں سندھ کی سیاسی وابستگی اور کردار کی ایک اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس قرارداد نے مسلم لیگ کے سیاسی مؤقف کو تقویت دی اور یہ ثابت کیا کہ سندھ کی سیاسی قیادت برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک الگ ریاست کے تصور کی حمایت کر رہی تھی۔

سندھ نے صرف ایک قرارداد کے ذریعے نہیں بلکہ تحریکِ آزادی کے مختلف مراحل میں سیاسی، فکری اور عوامی سطح پر اپنا کردار ادا کیا۔ قائداعظم محمد علی جناح کا تعلق بھی سندھ سے تھا اور کراچی انکی سیاسی زندگی کے اہم مراکز میں شامل رہا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی تشکیل کی تاریخ میں سندھ کو ایک بنیادی مقام حاصل ہے۔قیامِ پاکستان کے بعد ریاست کو یہ طے کرنا تھا کہ اس کا آئینی اور سیاسی نظام کس بنیاد پر قائم ہوگا۔ اسی سلسلے میں قراردادِ مقاصد 12مارچ 1949ء کو دستور ساز اسمبلی نے منظور کی۔

اس قرارداد میں ریاستی اختیار، جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری، سماجی انصاف اور بنیادی حقوق جیسے اصولوں کو اہمیت دی گئی۔ بعد میں یہی قرارداد پاکستان کے آئینی ڈھانچے میں ایک بنیادی حیثیت اختیار کر گئی۔قراردادِ مقاصد کا بنیادی پیغام یہی تھا کہ ریاستی نظام عوام کی نمائندگی، قانون کی حکمرانی اور بنیادی انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق چلایا جائے۔ اس میں اقلیتوں کے حقوق اور انہیں اپنے مذہب اور ثقافت کے مطابق زندگی گزارنے کی ضمانت دینے کا تصور بھی موجود تھا۔ یعنی پاکستان کا آئینی سفر صرف ریاست کے قیام تک محدود نہیں تھا بلکہ ایک منصفانہ اور ذمہ دار ریاست کی تشکیل بھی اس مقصد کا حصہ تھی۔

مگر آج، آزادی کے کئی دہائیوں بعد، ہمیں اپنے اردگرد کے حالات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے بے شمار کامیابیاں حاصل کیں، ایٹمی طاقت بنا، انفراسٹرکچر میں ترقی کی، تعلیم اور ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھا اور دنیا میں اپنی شناخت قائم کی، لیکن اس کیساتھ سیاسی عدم استحکام، معاشی مشکلات، مہنگائی، بے روزگاری، اداروں کے درمیان کشمکش اور جمہوری تسلسل کے مسائل بھی ہماری تاریخ کا حصہ رہے ہیں۔

جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں۔ جمہوریت کا اصل حسن آزاد سیاسی سرگرمی، اختلافِ رائے کا احترام، مضبوط پارلیمنٹ، آزاد صحافت، قانون کی بالادستی اور عوام کے ووٹ کے احترام میں ہے۔ اگر انتخابات تو ہوں مگر عوام کی رائے کو اہمیت نہ دی جائے، اگر پارلیمنٹ موجود ہو مگر اسکا کردار کمزور ہو، اگر سیاسی اختلاف کو دشمنی سمجھا جائے اور اگر تنقید کو برداشت نہ کیا جائے تو جمہوریت کا بنیادی تصور کمزور پڑ جاتا ہے۔

آج پاکستان کو جمہوریت کے حوالے سے سب سے بڑا خطرہ کسی ایک سیاسی جماعت یا شخصیت سے نہیں بلکہ اداروں کی کمزوری، سیاسی عدم برداشت اور آئینی اصولوں سے انحراف کے رجحان سے ہے۔ جب سیاسی جماعتیں اقتدار میں ہوں تو اپوزیشن کو برداشت نہیں کرتیں اور اپوزیشن میں ہوں تو نظام کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہیں، تو جمہوری عمل کمزور ہوتا ہے۔ اسی طرح جب ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کی حدود واضح نہ رہیں تو عوام کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔پاکستان کی تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ سیاسی بحران کا حل طاقت نہیں بلکہ آئین، پارلیمنٹ اور مذاکرات کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کی خوبصورتی ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنا جمہوری نظام کیلئے خطرناک ہے۔

اس ماہ اگست میںہمیں یہ بھی سوچنا چاہئےکہ کیا عام پاکستانی کو اس کے بنیادی حقوق حاصل ہیں؟ کیا اسے انصاف بروقت ملتا ہے؟ کیا اس کا ووٹ واقعی اس کی مرضی کی نمائندگی کرتا ہے؟ کیا سیاسی اختلاف رکھنے والا شخص خود کو محفوظ سمجھتا ہے؟ اور کیا ہمارے ادارے آئین کے دائرے میں رہ کر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں؟

سندھ نے قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں اپنا تاریخی کردار ادا کیا۔ سندھ اسمبلی کی 1943ء کی قرارداد اس تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ آج سندھ سمیت پاکستان کے تمام صوبوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ وفاق کو مضبوط بنانے کیلئے آئینی اور جمہوری راستے کو اختیار کریں۔ اسی طرح وفاق کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام صوبوں کے حقوق، وسائل اور سیاسی آواز کا احترام کرے۔آج کے پاکستان کو کسی نئے نعرے سے زیادہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، معاشی انصاف، سیاسی برداشت اور جمہوری تسلسل کی ضرورت ہے۔ آزادی کا مطلب صرف بیرونی حکمرانی سے نجات نہیں بلکہ اپنے شہریوں کو عزت، انصاف، مساوات اور بنیادی حقوق فراہم کرنا بھی ہے۔

اسلئے یومِ آزادی پر ہمیں صرف یہ نہیں کہنا چاہیے کہ پاکستان زندہ باد، بلکہ یہ عہد بھی کرنا چاہیے کہ ہم پاکستان کے آئین، جمہوریت اور عوامی حقوق کی حفاظت کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے۔ کیونکہ پاکستان صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ لاکھوں لوگوں کی قربانیوں، امیدوں اور خوابوں کا نام ہے۔ اس خواب کی حفاظت اسی وقت ممکن ہے جب ریاست مضبوط ہو، آئین بالادست ہو، ادارے اپنی حدود میں رہیں اور عوام کی رائے کو حقیقی معنوں میں اہمیت حاصل ہو۔یہی یومِ آزادی کا اصل پیغام ہے اور یہی اس وطن کے مستقبل کی ضمانت بھی۔

تازہ ترین