• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہرسال پوری پاکستانی قوم چودہ اگست کو اپنا یومِ آزادی نہایت دھوم دھام سے مناتی ہے، تاہم رواں برس یومِ آزادی پاکستان کی تاریخ میں ایک غیرمعمولی اور یادگار دن کے طور پر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے رقم ہوگیاہے، وفاقی دارالحکومت میں یادگارِ فتح کی افتتاحی تقریب میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وفاقی وزرا، صوبائی قیادت اور ارکان پارلیمنٹ کی بھرپور شرکت نے پاکستان کے واضح اور دوٹوک مؤقف کے اظہار کا ایک مؤثر موقع بنا دیا، میڈیا پر لائیو کوریج کے دوران اس حقیقت کا اعتراف باربار کیا جاتا رہا کہ گزشتہ برس نو مئی کو تاریخی فتح کے تناظر میں اعلیٰ قومی قیادت، سول انتظامیہ اور سفارتی برادری کی موجودگی نے جشن آزادی کی تقریب کو قومی وحدت کےحقیقی منظرنامہ میں ڈھال دیا ہے، میری نظر میں اتنے بڑے پیمانے پر بہترین انتظامات یقینی بنانے کیلئے چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف اور انکی تمام ٹیم بالخصوص ڈاکٹر انعم فاطمہ مبارکباد کے مستحق ہیں، عالمی میڈیا نے بھی اپنی رپورٹنگ میں اس امر کو اجاگر کیا کہ یادگارِ فتح کا افتتاح دراصل پاکستان کے اسی سالہ قومی سفر میں ایک بہت بڑا سنگِ میل ہے، عمارت کا منفرد اور بامقصد ڈیزائن، نفیس طرزِ تعمیر اور قومی جذبے سے لیس نظریاتی پس منظر اسے پاکستان کی قومی خودمختاری کی جیتی جاگتی مثال بناتاہے۔یادگارِ فتح کی تقریب میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا خطاب قوم کی امنگوں کا ترجمان تھا، انہوں نے امن، استحکام اور قومی عزم کے پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے یادگارِ فتح کو شہداءاور غازیوں کی قربانیوں کی علامت قرار دیا۔وزیراعظم شہباز شریف کے خطاب کا سب سے نمایاں پہلو پاکستان کی امن پسندی اور دفاعی عزم کے درمیان واضح توازن تھا، انہوں نے دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر آئندہ کسی نے پاکستان کی خودمختاری یا سلامتی کو چیلنج کیا تو اسے مئی 2025ء سے بھی زیادہ قوت کے ساتھ جواب دیا جائے گا، یہ انتباہ عالمی قوتوں کیلئے واضح پیغام تھا کہ پاکستان امن ضرور چاہتا ہے، لیکن اپنی آزادی، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ آج سے لگ بھگ اسی سال قبل جب پاکستان دنیا کے نقشے پر اُبھرا تھا تو ہمارے کچھ پڑوسیوں کو یہ غلط فہمی لاحق تھی کہ پاکستان چھ ماہ بھی نہیں چل پائے گااور آج آٹھ دہائیوں بعد وہی پاکستان اپنے آپ کو ایک ایسی ناقابلِ تسخیر قوت کے طورمنوا چکا ہے کہ جب کسی نے پاک سرزمین کی جانب میلی نگاہ سے دیکھنے کی جسارت کی، ہماری بہادر افواج نے پہلے سے بڑھ کر نیا سرپرائز دیکر حملہ آوروں سمیت پوری دنیا کو حیران کردیا۔ ہماری اعلیٰ قیادت کا یہ کہنا پاکستان خطے میں استحکام کی ضمانت بن چکا ہے، میری نظر میں درحقیقت ہماری دفاعی سفارتکاری کی عکاسی کرتا ہے، میں ماضی میں بھی مختلف مواقع پر یہ کہتا آیا ہوں کہ گزشتہ برس نومئی کو ہماری مشرقی سرحدوں کے آسمانوں پر فضائی جھڑپوں میں پاکستان کی عظیم الشان کامیابی نے ہمیں عالمی برادری کی نظر میں وہ عظیم مرتبہ عطا کیا کہ سپرپاور امریکہ کا طاقتور ترین حکمران صدر ٹرمپ بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا ،دنیا بھر کے میڈیا سے وابستہ تجزیہ نگارمتفق ہیں کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی زیرقیادت پاکستان کی شاندار فتح نے آگے چل کرامریکہ اور ایران کو ایک چھت تلے ڈائیلاگ کی میز پر بٹھانے کا ناقابلِ یقین کارنامہ سرانجام دیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یادگارِ فتح کی افتتاحی تقریب نے اس حقیقت کو بھی اجاگر کیا کہ پاکستان کی اصل طاقت قوم کے اتحاد و یکجہتی میں پوشیدہ ہے، سول اور عسکری قیادت نےیوم آزادی کے موقع پر مشترکہ قومی مقصد کے تحت ایک جگہ جمع ہوکر ثابت کردیا ہے کہ پاکستان کے سبز ہلالی پرچم تلے ہم سب ایک ہیں، ہم ایک ایسےامن پسند اور پراعتماد پاکستان کے شہری ہیں جو جنگ کا خواہاں نہیں مگر اپنے دفاع کیلئے ہرپل چوکس ہے، جوعالمی تنازعات کے حل کیلئے سرگرم ہے مگر اپنی خودمختاری پر آنچ نہیں آنے دیتا، جو خطے میں استحکام چاہتا ہےمگر اپنی سرحدوں کے دفاع کیلئے پوری قوت سے جواب دینے کا حوصلہ رکھتا ہے۔میری نظر میں یادگارِ فتح اتحاد، قربانی، دفاع، امن، خودمختاری اور مستقبل کی تعمیر کا عہدنامہ ہے،یہ قائداعظم محمد علی جناح کی پاکستان کو عظیم ملک میں ڈھالنے کی خواہش کا عملی اظہار ہے، یہ قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کے عزم کی کامیابی ہے،یہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سربراہی میں پاک فوج کی اپنے سے طاقتور پڑوسی کے جارحانہ عزائم کو خاک میں ملانے کا راوی ہے۔ تاہم بدقسمتی سے ہر سال کی طرح پاکستان کے مختلف ممالک میں قائم فارن مشن اورسفارتکار یومِ آزادی کے حوالے سے بدستور کنفیوژن کا شکار نظر آئے، سوشل میڈیا پر آفیشل اکاؤنٹس کے مطابق اگر تہران اور نیویارک میں پاکستانی سفارتخانے نے 79ویں یومِ آزادی کی تقریب منائی تو نئی دہلی، رباط وغیرہ میں پاکستانی سفارتکار80ویں آزادی کی تقریب مناتے نظر آئے،دفتر خارجہ کی جانب سے کوئی واضح ہدایات نہ ہونے کے باعث ہر سفارتکارنےاپنے تئیں یومِ آزادی اورجشنِ آزادی کا تعین کیا، ایسی گومگو صورتحال نے ایک مرتبہ پھرسفارتی محاذ پر جگ ہنسائی کا سامان پیدا کیا کہ پاکستانی قوم آزادی کی آٹھ دہائیاں بیتنے کے باوجود اپنی آزادی کے سال پر متفق نہیں ہے۔تاہم مجھے یقین ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں تعمیر کی جانے والی یادگارِ فتح بہت جلد پاکستانی قوم کے اتحاد کی علامت بنکر اُبھرے گی، یہ یادگار ہمارے ملک میں آنے والے ہر غیر ملکی مہمان کو پیغام دے گی کہ ہمارے بزرگوں نے آزادی جیسی عظیم نعمت کتنی بے مثال جدوجہد کے بعد حاصل کی، اس آزادی کے تحفظ کیلئےبہادر افواجِ پاکستان نے کس قدر عظیم قربانیاں پیش کیں، اور اب اپنے پیارے وطن پاکستان کو مزید مضبوط، مستحکم اور خوشحال بنانے کیلئے ہر محبِ وطن پاکستانی کو اپنا کیا کردار ادا چاہیے۔میری نظر میں یہ عظیم الشان یادگار آنے والی نسلوں کو صرف ماضی کی عظیم فتح کی داستان نہیں سنائے گی بلکہ ایک روشن مستقبل کی تعمیر کا راستہ بھی دکھایا کرے گی۔

تازہ ترین