• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

(گزشتہ سے پیوستہ)

گزشتہ ہفتے ہم کوئین میری کالج /اسکول کے حوالے سے بات کر رہے تھے ۔کوئین میری کالج جسکے قیام کو ایک صدی سے بھی کہیں زیادہ عرصہ ہو چکا ہے اس کے اسکول سائیڈ پر آج بھی جعفری لکڑی لگی ہوئی ہے۔یعنی یہ ایک پردہ اسکول و کالج کے درمیان تھا۔اس لکڑی کو آج تک دیمک نہیں لگی۔بات ہو رہی تھی کہ یہاں پر کبھی لڑکے بھی پڑھتے تھے۔ ویسے تو پتہ نہیں کتنے لڑکے کو ئین میری اسکول کے اولڈ اسٹوڈنٹس ہوں گے۔

یہ بات البتہ خوش آئند ہے کہ سینٹرل ماڈل اسکول کی عمارت کو قومی ورثہ قرار دیا جا چکا ہے یہ علیحدہ بات ہے کہ ابھی تک اس قومی ورثہ کی اس انداز میں تزئین و آرائش، مرمت اوراسے محفوظ کرنے کے لیے وہ اقدامات نہیں کیے گئے،جو کیے جانے چاہئیں۔ ہم والڈ سٹی کے ڈی جی نجم الثاقب کو کہیں گے کہ وہ سینٹرل ماڈل اسکول کا تفصیلی دورہ کریں اور اس عمارت کو بھی محفوظ کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ لالہ میلہ رام کتنے عظیم انسان تھے انہوں نے اسکول اور اس سے ملحقہ سینٹرل ٹریننگ کالج کے لیے زمین عطیہ کی مگر پورے اسکول میں کسی جگہ ان کے نام کی کوئی تختی نہیں ۔ ٹریننگ کالج میں کسی زمانے میں ایک لالہ میلہ رام نام کی ایک تختی لگی ہوتی تھی جو ہم نے اپنے طالب علمی کے زمانے میں دیکھی تھی پتہ نہیں کس پرنسپل کو کیا اذیت ہوئی کہ اس نے یہ تختی زمین سے 30 فٹ اونچی ایک عمارت پر لگا دی۔ اب کوئی ان سے پوچھے کہ کیا بیس فٹ سیڑھی پر چڑھ کر وہ تختی پڑھی جائیگی؟ ہم نے لکڑی کی سیڑھی منگوا کر اس پر چڑھ کر اس تختی کو پڑھا اور اس کی تصاویر بنائیں۔ اب اس پرنسپل کی عقل پر کیا کہیں جس نے یہ کام کیا تھا۔ بہت کم لاہوریے یہ جانتے ہوں گے کہ سینٹرل ماڈل اسکول کا آغاز ایک مڈل اسکول کے طور پر یکم مارچ3 188 کو پنجاب یونیورسٹی کے سینٹ ہال کے سامنے انارکلی گرلز اسکول کی عمارت سے ہوا تھا ۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ دربار دھیان سنگھ کی حویلی جو کہ تحصیل بازار حضرت سید مٹھا کے مزار مبارک کے پاس ہے وہاں پر جو ڈسٹرکٹ اسکول تھا وہ بھی ایک طرح سے سینٹرل ماڈل اسکول کی ابتدا ئی شکل تھی بہرحال اس پر ریسرچ جاری ہے۔ البتہ لاہور ڈسٹرکٹ تو ضرور تھا اور اس کی پڑھائی میں کمزور طلبہ کو سینٹرل ماڈل اسکول میں بھیج دیا جاتا تھا۔گورنمنٹ سینٹرل ماڈل اسکول نےبیوروکریسی، فوج، میڈیکل اور انجینئرنگ کے شعبے میں 1980تک تقریباً 70 فیصد سے زائد افراد مہیا کیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جو بیوروکریٹس اسکول سے پڑھ کر اعلیٰ عہدوں پر پہنچے، ملک کے نامور ڈاکٹرز ،فوج میں اعلیٰ افسر اور انجینئرنگ کے شعبے میں اعلیٰ مقام حاصل کیا انہوں نے اپنے بچے اس اسکول میں نہیں پڑھائے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ اعلیٰ عہدے حاصل کرنے والے اکثر غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے تھے جب یہ خود بڑے افسر بنے اور ان کے پاس ’’مال‘‘ آگیا تو انہوں نے اپنے بچے ایچی سن کالج اور پرائیویٹ سیکٹر کے معروف تعلیمی اداروں میں داخل کرا دیئے۔ اگر یہ لوگ اپنے بچوں کو سینٹرل ماڈل اسکول اور جونیئر ماڈل اسکول ہی میں  داخل کراتےتو اس طرح انکا رابطہ بھی اپنے قدیم تعلیمی ادارے سے رہتا اور اسکا معیار کبھی نہ گرتا۔ ان لوگوں نے اپنے اسکول سے ایک مدت تک رابطہ نہ رکھا اور آج جب یہ سب کوئی ساٹھ،ستر،اسی یا نوے سال کے ہو گئےہیں تو ان کو اپنے پرانے اسکول کی یاد ستانے لگی ہے اور اپنی ایلومنائی بنا کر اکٹھے ہو رہے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ جب یہ حکومتی اعلیٰ عہدوں پر تھے اور سینٹرل ماڈل اسکول کا معیار گررہا تھااس وقت یہ کہاں تھے ؟ ایچیسن کالج اور کنیرڈ کالج کا معیار اس لیے نہیں گرا کہ اس کی ایلومنائی نے، اس کے اولڈ اسٹوڈنٹس نے اپنے ادارے کے ساتھ مضبوط رابطہ رکھا۔ اپنے بچوں اور بچیوں کو وہاں سے پڑھایا ۔یہ وہ سینٹرل ماڈل اسکول ہے جسکی ہمیشہ میٹرک بورڈ کے امتحان میں پوزیشن آیا کرتی تھی ۔یہ لاہور کیا پورے پنجاب کا پہلا اسکول تھا جہاں پر بجلی ،لوہے اور لکڑی کے کام سکھانے کی ورکشاپس تھیں۔ہم نے خود ڈی سی بجلی کا سارا کام اپنے مرحوم استاد محترم مقبول صاحب سے سیکھا تھا۔ ا س زمانے میں ہمارے گھر کیا پورے لاہور میں ڈی سی بجلی ہوا کرتی تھی جس میں ایک تار مثبت اور دوسری منفی ہوتی تھی ۔ہم خود اپنے گھر کی بجلی کو درست کر لیا کرتے تھے، کلاس ششم ،ہفتم اور ہشتم میں ہر طالب علم کو چوائس دی جاتی تھی کہ اس نےبجلی کا کام سیکھنا ہے، لوہے کا یا لکڑی کا ۔لوہے کا کام استاد غالباََ حمید اور لکڑی کا کام استاد رشید سکھایا کرتے تھے۔شاید ان کا ایک ہاتھ بھی خراب تھا ۔جب ان تینوں ورکشاپس کو بند کیا گیا تو کیا اس وقت اس کے اولڈ اسٹوڈنٹس نے ارباب اختیار سے بات کی تھی؟ اب تو اس عمارت کو بھی گرا دیا گیا ہے۔ کیا اسکول تھا۔ لاہور کے لوگوں کا اس اسکول میں داخلہ لینا ایک خواب ہوا کرتا تھا۔ اب تو ہر اچھا اسکول خواب بن گیا ہے۔ہر سال اسکول میں کلاس رومز کے ڈیکوریشن کا مقابلہ بھی ہوا کرتا تھا۔ رات رات بھر اسٹوڈنٹس اپنی اپنی کلاس کو سجایا کرتے تھے۔ اسکول میں بیت بازی کا مقابلہ ہوتا تھا۔ ہر کلاس کے استاد اپنی کلاس میں بیت بازی، مضمون نویسی اور تقریری مقابلے کرایا کرتے تھے۔ اسکول میں سالانہ ڈرامہ اور سالانہ تقریری مقابلہ اور کوئزکے مقابلے ہوتے تھے ۔پنجاب کے وزیر صاحب نے اپنے اس سرکاری اسکول کو ،جہاں ان کا بچہ پڑھتا ہے، کو تو ہر سہولت دے دی ہے۔ کاش وہ انگریزوں کے اس قائم کردہ اسکولو ں، جنکی تعلیمی قابلیت کی شہرت ایک صدی تک رہی، کی حالت بھی درست کر دیتے ۔ہمیں حکومت پر حیرت ہے کہ ایک طرف آپ اسکول آؤٹ سورس کر رہے ہیں دوسری طرف آپ دانش اسکول، نواز شریف اسکول اور دیگر اسکول قائم کرتے چلے جا رہے ہیں ؟ ( جاری ہے)

تازہ ترین