• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

19 اگست کو ہندوستان میں تعینات امریکی سفیر سرجیو گور نے سرینگر میں وزیراعلی ٰمقبوضہ کشمیر سے جموں کشمیر کو ہندوستان کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے اعادہ کیا کہ وہ امریکی شہریوں پر جموں کشمیر کے سفر پر انتباہی ہدایات نرم کرنے پر غور کریں گے۔ پاکستان کی جانب سے امریکی ناظم الامور کو بلا کر اس بیان کی مذمت کے علاوہ ڈی مارش(اظہارِ ناپسندیدگی) بھی کیا گیا۔ پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد ہندوستان نے پاکستان پر جھوٹے الزامات لگا کر دھمکیاں دیں تو صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ چونکہ دونوں ممالک ہزار برس سے آپس میں لڑ رہے ہیں لہٰذا انہیں اپنے مسائل آپس میں حل کرنا ہوں گے۔وہ اس گمان میں تھے کہ جوہری پاکستان معاشی طور پر تو گھٹنوں کے بل گرایا جا چکا ہے، اب ہندوستان عسکری طور پر بھی اسے چومکھی مار دے کر کمزور کر دے گا ۔یوں پاکستان کی جوہری صلاحیت پر سودے بازی کا راستہ ہموار ہو جائےگا۔ ہندوستان کے حملے کے جواب میں پاکستان کے غضب ناک ترین وار کے نتیجے میں ہندوستانی فضائیہ دو روز تک مکمل طور پر غیر فعال ہوگئی جبکہ اس کی فوج نے کشمیر کے محاذ پر ہتھیار ڈالنا شروع کر دیے۔ "موذی" اور ٹرمپ کی چال جب الٹی پڑی تو صدر ٹرمپ جنگ کو آپس کا معاملہ کہتے کہتے فوراً میدان میں کود پڑے۔کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے دو گھنٹے سے زیادہ جنرل عاصم منیر سے ٹیلی فون پر بات کی لیکن آرمی چیف صرف اس بات پر جنگ بندی پر مانے کہ امریکہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کروائے گا۔ وگرنہ اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کا پاکستان نے ایسا "دھوبی پٹڑا" کرنا تھا کہ ہندوستان دہائیوں تک اٹھ نہ پاتا۔ بعد ازاں" موذی" عوامی ردِعمل اور جگ ہنسائی کے خوف سے پردہ نشین ہو گیا اور اپنی فوجی قیادت سے فتح کے جھوٹے اعلانات کراتا رہا۔ تاہم آج کی باخبر دنیا نے ہر بار اس کا پول کھول کر میڈیا پر رکھ دیا۔

پاکستان سے امریکی بے وفائی، ایک لمبی اور دکھ بھری داستان ہے۔ اس کی بنیادی وجہ پاکستان کا امریکہ پر بھرپور اعتماد اور مان ہے جبکہ امریکہ نے ہمیشہ بوقتِ ضرورت پاکستان کو اپنا اسٹریٹجک پارٹنر مانا اور ضرورت ختم ہونے پر آنے بہانے سے پابندیاں لگائیں یا تعلقات کو سرد مہری کی سطح پر لے آیا۔ پاکستان کی امریکی کیمپ میں جانے کی وجہ اپنے سے پانچ گنا بڑا ازلی دشمن ہندوستان تھا جس کے سوویت یونین سے دفاعی اور معاشی تعاون سے وہ خائف تھا ،ادھر امریکہ پاکستان کو خطے میں کمیونزم کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے استعمال کرنا چاہتا تھا۔ اسی لیے امریکہ پاکستان پارٹنرشپ ہمیشہ سطحی،عارضی اور امریکی ضروریات کے مطابق اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے۔ پاکستان نے وجود میں آتے ہی امریکہ سے سفارتی تعلقات قائم کیے، 1954میں سیٹو، 1955 میں بغداد معاہدہ اور سینٹو میں بھی شامل ہوا۔ پاکستان امریکہ سے دفاعی اور معاشی تعاون چاہتا تھا جبکہ امریکہ پاکستان سے تعاون محض اپنے دشمن سوویت یونین کے خلاف چاہتا تھا۔ دونوں کی توقعات میں یہی وہ فرق تھا جو ہمیشہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں خرابی پیدا کرتا رہا۔ پہلا دھوکا پاکستان کو 1965 میں پاکستان ہندوستان جنگ میں پہنچا جب امریکہ نے پاکستان کا ساتھ دینے کے بجائے اس کی عسکری امداد بند کر دی، اس جواز پر کہ وہ جنگ میں نیوٹرل رہے گا۔ پاکستان کے لیے یہ بات پشت میں خنجر گھونپنے کی مانند تھی کیونکہ پاکستان نے سرد جنگ میں نہ صرف امریکہ کا ساتھ دیا بلکہ اسے ہر قسم کا عسکری تعاون بھی فراہم کیا تھا۔1971میں پاکستان نے امریکہ اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کروانے میں خفیہ اور اہم کردار ادا کیا ، اسکے باوجود 1971 کی پاکستان ہندوستان جنگ میں ماسوائے زبانی جمع خرچ کے، امریکہ نے پاکستان کی کوئی مدد نہ کی جبکہ سوویت یونین نے ہندوستان سے مشرقی پاکستان توڑنے کے لئے بھرپور تعاون کیا۔ پاکستان کی درخواست پر امریکہ نے ٹاسک فورس 74 پر مشتمل ساتواں بحری بیڑا خلیج بنگال میں بھیجا لیکن اس کا مقصد پاکستان کی مدد کرنا نہیں بلکہ سوویت یونین کو باور کرانا تھا کہ امریکہ خطے میں توازن بدلنے نہیں دے گا۔ 1972سے 1981 تک امریکہ نےپاکستان پر کڑی پابندیاں لگا کر رکاوٹیں ڈالیں تاکہ وہ ہندوستان کے مقابلے میں جوہری طاقت نہ بن پائے۔ دسمبر 1979میں افغانستان پر سوویت یونین کے قبضے پر امریکہ کو ایک بار پھر پاکستان کی ضرورت پیش آئی ، یوں 1981سے پاکستان کو پھر امریکی معاشی اور عسکری تعاون حاصل ہوگیا۔ جیسے ہی 1989 میں سوویت یونین نے افغانستان سے پیٹھ دکھائی، امریکہ نے بھی پاکستان کو پشت دکھا دی۔اس بار پاکستان پر اتنی کڑی پابندیاں لگائی گئیں کہ وہ اسلحہ جس کی ادائیگی ہو چکی تھی اس کی بھی ترسیل روک دی گئی ۔ 1998میں پاکستان کے جوہری دھماکے سے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہوئی اور پاکستان پر مزید پابندیاں لگا دی گئیں۔2001میںجب دوبارہ امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑی تو افغانستان میں القاعدہ و طالبان حکومت کے خلاف پاکستان کا بھرپور تعاون حاصل کیا گیا۔ اگرچہ یہ تعاون 2021 تک چلتا رہا لیکن 2017سے امریکی انتظامیہ نے افغانستان میں اپنی متوقع شکست کا پاکستان پر الزام دھرنا شروع کر دیا تھا،نتیجتاً پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف اس امریکی جنگ میں اٹھے اخراجات کی ادائیگی روک کر پاکستان کو سزا دی گئی۔

درحقیقت امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کو دھوکہ دیا ہے۔ امریکیوں کو جب پاکستان کی ضرورت پڑی انہوں نے مقتدرہ کو پلکوں پر بٹھایا،انکی تعریفوں کے پل باندھ دیے،انہیں بہترین دوست اور ساتھی قرار دیا لیکن مطلب نکل جانے پر ٹیلیفون کال تک نہ وصول کی۔ ہمارے اربابِ اختیار کو اب اتنے دھوکے کھانے کے بعد ادراک ہو جانا چاہیے کہ وہ بار بار ایک ہی بل سے کیوں ڈسے جا رہے ہیں؟ کشمیر کے حوالے سے امریکہ کی نیت عرصے سے خراب ہے۔وہ مقبوضہ اور آزاد کشمیر کو دونوں جانب سے متنفر کروا کر تھرڈ آپشن کی آڑ میں اس پر اسرائیلی طرز پر قابض ہونا چاہتا ہے۔یوں وہ خطے میں اپنی اجارہ داری قائم رکھ کر ہندوستان اورچین کی نگرانی اور پاکستان کی جوہری صلاحیت پر کڑی نظر رکھ سکے گا۔اقوامِ متحدہ کی قرار داد کے مطابق کشمیر متنازعہ علاقہ ہے جبکہ امریکی سفیر کا بیان اس کی اعلانیہ نفی کر رہا ہے۔اس بیان کا مقصد ہندوستان کو چین کے خلاف کھڑا کرنا، مہنگا امریکی مال ہندوستان کو بیچ کر باہمی تجارت 240بلین ڈالر سے 500 بلین ڈالر پر لے جانا ہے۔ بیان سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کے لئے پاکستان کی افادیت فلحال ختم ہوگئی ہے۔ امریکہ ہندوستان کے حوالے سے غلط فہمی کا شکار ہے، ہندوستان نے کبھی بھی امریکہ کے لیے کوئی قربانی دی ہے نہ دے گا۔امریکہ جتنا چاہے زور لگا لے،دباؤ ڈال لے، ہندوستان کو چین کے خلاف کھڑا نہیں کر سکتا۔ کہاں چین جیسی ابھرتی،مدبر،سنجیدہ و بردبار طاقت اور کہاں مکار، بزدل، شکست خوردہ،ظالم اسرائیل کا حواری اور نہتے کشمیریوں پر ظلم کرنے والا ہندوستان ۔

ہَوا ہے گو تُند و تیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے

وہ مردِ درویش جس کو حق نے دیے ہیں اندازِخسروانہ

تازہ ترین