جمہوریت میں اظہارِ رائے کی آزادی جمہوری معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے، لیکن موجودہ دور میں اختلافِ رائے کو اکثر تنقید اور الزام تراشی کی صورت دے دی جاتی ہے۔میری ذاتی رائے میں محسن نقوی نے ایک اہم اور ناقابلِ تردید حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے۔ انکے مؤقف کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ملک جس نہج پر پہنچ چکا ہے، اسکی تمام ذمہ داری صرف سیاست دانوں یا عسکری قیادت پر عائد نہیں کی جا سکتی۔انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ملکی معیشت کی بہتری کیلئے دن رات کوشاں ہیں، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف بھی طویل اوقات تک کام کر رہے ہیں۔ لیکن اگر موجودہ انتظامی ڈھانچہ اپنی جگہ برقرار رہے تو حکمرانوں کے کام کے اوقات بڑھانے سے بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہونگے۔ اصل مسئلہ اس نظام کی اصلاح ہے جس پر قومی خزانے کا بہت بڑا حصہ خرچ ہو رہا ہے۔ایک ضلع میں ایک ڈپٹی کمشنر کے ساتھ کئی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، متعدد اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر افسران تعینات ہیں۔ اسی طرح ایک ڈی پی او کے ساتھ کئی ایس پی، اے ایس پی اور ڈی ایس پی موجود ہیں۔ اسکے باوجود آئے روز نئے محکمے، عہدے اور انتظامی پوسٹیں بنائی جا رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب سرکاری مشینری کا حجم مسلسل بڑھتا رہے گا تو اخراجات کیسے کم ہونگے اور ملک ترقی کی طرف کیسے بڑھے گا؟ترقی یافتہ ممالک کا تجربہ ہمارے سامنے ہے۔ وہاں ضرورت کے مطابق ورک فورس اور نچلے درجے کے ملازمین میں اضافہ کیا جاتا ہے، جبکہ افسران کی تعداد میں غیر ضروری اضافہ نہیں کیا جاتا۔ میں سال 2000 سے فرانس میں رہتے ہوئے مشاہدہ کر رہا ہوں کہ یہاں افسران کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ نہیں ہوا، لیکن عوامی خدمات کیلئے کام کرنیوالے ملازمین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔پاکستان میں محکمہ تعلیم ہی کی مثال لے لی جائے۔ پرائمری سطح سے اعلیٰ انتظامی سطح تک بے شمار محکمے اور افسران موجود ہیں، لیکن اسکے باوجود ملک میں کروڑوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ اگر اتنا بڑا انتظامی ڈھانچہ عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کر سکتا تو پھر ہمیں اس کے حجم اور کارکردگی دونوں کا جائزہ لینا ہوگا۔محسن نقوی کی گفتگو کا ایک اہم پہلو سول بیوروکریسی کی ڈاؤن سائزنگ اور احتساب بھی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ بعض اوقات افسر شاہی کے بڑے حصے کو قومی وسائل کا فائدہ حاصل ہوتا ہے، لیکن عوامی مسائل کے حل میں مطلوبہ رفتار نظر نہیں آتی۔ تنقید اکثر دفاعی بجٹ یا سیاست دانوں پر ہوتی ہے، جبکہ سرکاری مشینری کے بڑھتے ہوئے حجم اور اخراجات پر کم توجہ دی جاتی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ 1985ء کے وفاقی و صوبائی محکموں میں افسران کی تعداد اور 2026ء کی تعداد کا تقابلی جائزہ لیا جائے۔ ماضی میں جہاں ایک ایس ڈی ایم، ایک انسپکٹر یا ایک ایکسین اپنے فرائض انجام دیتا تھا، آج بعض جگہوں پر کئی اعلیٰ افسران تعینات ہیں، مگر کارکردگی میں اس تناسب سے اضافہ نظر نہیں آتا۔افغان روس جنگ کے دوران آنے والے ڈالرز اور اسکے بعد پیدا ہونیوالے حالات میں سرکاری ڈھانچے میں جو غیر ضروری اضافہ ہوا، اب اس کا ازسرنو جائزہ لینے کا وقت آ گیا ہے۔ غیر ضروری عہدے ختم کیے جائیں، اخراجات کم کیے جائیں، تنخواہوں اور پنشن کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو قابو میں لایا جائے اور اس کے بجائے حقیقی عوامی خدمات سے متعلق ورکنگ اسامیوں میں اضافہ کیا جائے۔آج عوام سماجی اور سیاسی یتیم بن کر رہ گئے ہیں۔ صوبائی حکومتوں کی نااہلی کے باعث دو کروڑ باسٹھ لاکھ بچے اسکول جانے سے محروم ہیں۔ ایسے حالات میں ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے نظام کی بنیادی خامیوں کو دور کرنا ہوگا۔نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث بھی اسی تناظر میں ہونی چاہیے۔ ایک وفاقی وزیرِ مملکت نے نئے صوبوں کی حمایت کیساتھ ساتھ بیوروکریسی کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر مسئلے کی ذمہ داری عسکری قیادت یا سیاست دانوں پر ڈال دینا درست نہیں۔ ریاستی نظام کے ہر حصے کو اپنی کارکردگی اور ذمہ داری کا جواب دینا ہوگا۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے عوامی سہولتوں کیلئے متعدد منصوبے شروع کئے اور ان پر عمل درآمد بھی کرایا، لیکن بعض منصوبوں میں ناقص منصوبہ بندی عوام کیلئے مشکلات پیدا کر دیتی ہے۔ چکوال شہر کے تاریخی چھپڑ بازار کو خوبصورت بنانے کے لیے تقریباً تیس کروڑ روپے خرچ کئے گئے، مگر منصوبے کی ناقص منصوبہ بندی کے باعث قدیمی علاقے کے رہائشی متعدد مسائل کا شکار ہو گئے۔ پاکستان کو اس وقت نعروں سے زیادہ انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ غیر ضروری افسر شاہی کم کی جائے، وسائل کو عوامی خدمت سے جوڑا جائے اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔آخرکار مقصد صرف صوبے یا ضلع بڑھانا نہیں، بلکہ عوام کو بہتر حکمرانی، فوری انصاف، بنیادی سہولیات، روزگار اور باعزت زندگی فراہم کرنا ہونا چاہئے۔ اگر انتظامی ڈھانچہ عوام کی خدمت کے بجائے خود اپنے اخراجات بڑھانے کا ذریعہ بن جائے تو پھر اصلاحات ناگزیر ہو جاتی ہیں۔