• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دشمن جوابی کارروائی کیلئے تیار رہے: ایرانی وزیرِ معیشت کی امریکا کو دھمکی

ایرانی وزیرِ معیشت علی مدنی زادہ---فائل فوٹو
ایرانی وزیرِ معیشت علی مدنی زادہ---فائل فوٹو 

ایرانی وزیرِ معیشت علی مدنی زادہ نے امریکا کی جانب سے اقتصادی پابندیوں میں مزید توسیع کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران امریکی پابندیوں سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

جاری کیے گئے بیان میں علی مدنی زادہ کا کہنا ہے کہ دشمن ایران کے خلاف اقتصادی حملہ کرنا چاہتے ہیں لیکن ایران کے پاس بھی اپنے وسائل موجود ہیں اور ایران اس جنگ سے نمٹنے کا طریقہ جانتا ہے، ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں کوئی نئی بات نہیں، جنگ نہیں چاہتے لیکن اقتصادی حملے کا مقابلہ کریں گے۔

ایرانی وزیرِ اقتصادی امور و خزانہ کا کہنا ہے کہ دوسرا فریق کئی برسوں سے ملک کی اقتصادی شریانوں کو کاٹنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اب تک وہ اس مقصد کے حصول میں ناکام رہا ہے، امریکیوں نے گزشتہ عرصے کے دوران ایرانی عوام اور حکام کے عزم کو آزمانے کی بہت کوشش کی اور ہر بار ناکام ہوئے، بظاہر وہ ایک بار پھر اسی شکست کا تجربہ کرنا چاہتے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ حکومت نےایسی پابندیوں سے نمٹنے کی پہلے ہی منصوبہ بندی کر رکھی ہے، جس طرح جنگ میں عوام، حکام، فوجی دستے، حکومت اور سفارتی محاذ ملک اور اس کی خودمختاری کے دفاع کے لیے ایک ساتھ کھڑے رہے، اسی طرح اقتصادی جنگ میں بھی یہ اتحاد اور تعاون جاری رہے گا۔

ایرانی وزیرِ معیشت نے خبردار کیا کہ ایران کا دفاع اب صرف دفاعی نوعیت کا نہیں رہا، دشمنوں کو جوابی کارروائی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ چین اور روس نے امریکی اقدامات کو قبول نہیں کیا اور توقع ہے کہ دیگر ممالک بھی امریکی دباؤ پر مزاحمت کریں گے۔

اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا تھا کہ امریکا کی دھمکیوں کو کوئی سنجیدگی سے نہیں لے رہا کیونکہ واشنگٹن کی اپنی اقتصادی صورتِ حال ایسی نہیں کہ وہ دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات مزید محدود کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے اہم تجارتی شراکت داروں نے بھی میڈیا اور براہِ راست پیغامات کے ذریعے واضح کیا ہے کہ وہ امریکی بیانات کو زیادہ اہمیت نہیں دے رہے۔

امریکا کا ایران پر مزید اقتصادی دباؤ

امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کی معیشت کی اہم آمدنی کے ذرائع ختم کرنے کے لیے نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے تاہم انہوں نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کے خلاف فوری طور پر سخت ترین پابندیاں عائد نہیں کیں۔

اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے والے ممالک کو امریکی ڈالرز پر مبنی مالیاتی نظام سے باہر کیے جانے کا خطرہ ہے۔

امریکی وزیرِ خزانہ نے یہ نہیں بتایا کہ کن ممالک کو نشانہ بنایا جائے گا اور پابندیاں کب نافذ ہوں گی۔

امریکی محکمۂ خزانہ نے 60 افراد، متعدد اداروں اور بحری جہازوں پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں تاہم ایران کے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار چین کے ان مالیاتی اداروں کو فہرست میں شامل نہیں کیا گیا جن پر ایرانی تیل کی تجارت میں سہولت کاری کا شبہ ہے۔

آبنائے ہرمز اور خلیجی تیل کی ترسیل کو خطرہ

ایران نے امریکی اقتصادی اقدامات سے قبل ہی فوجی ردِعمل اور خلیج سے تیل کی برآمدات مزید کم کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو امریکا کے اہم مفادات اور توانائی کی گزرگاہوں کو شدید نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کو تقریباً 6 ماہ گزر چکے، اگرچہ گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران دونوں جانب سے بڑے حملے نہیں ہوئے تاہم جنگ کے سفارتی حل کے امکانات تاحال واضح نہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران پر مزید اقتصادی دباؤ بڑھا رہی ہے تاکہ خلیج میں بحری جہازوں اور بحیرۂ احمر میں حملے روکنے کے لیے تہران کو دباؤ میں لایا جا سکے۔

عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ کے دوران ایران کی روایتی فوجی صلاحیت کو نقصان پہنچا اور اس کی معیشت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے تاہم تہران کے پاس اب بھی میزائل اور ڈرونز کی ایسی صلاحیت موجود ہے جس کے ذریعے خلیجی ممالک اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام کی موجودہ صورتِ حال بھی تاحال واضح نہیں جبکہ امریکا اور اسرائیل اس پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے کا ہدف رکھتے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید