• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران جنگ: امریکا کو 38 ارب ڈالرز کا نقصان، اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگنے کا امکان

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

امریکی کانگریشنل بجٹ آفس (سی بی او) کے مطابق ایران کے خلاف کئی ماہ سے جاری جنگ پر امریکا اب تک 38 ارب ڈالرز خرچ کر چکا ہے، جبکہ جنگ جاری رہنے کی صورت میں اخراجات میں ہر ماہ مزید 3 ارب ڈالرز اضافے کا امکان ہے۔

سی بی او کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے باعث 2027ء کی پہلی سہ ماہی میں امریکا میں مہنگائی میں 0.5 فیصد اضافے کا امکان ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے دوران امریکی اسلحہ اور گولہ بارود کے ذخائر تیزی سے کم ہوئے ہیں اور انہیں دوبارہ مطلوبہ سطح پر لانے میں تقریباً 5 سال لگ سکتے ہیں۔

امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق 21 جولائی کو جنگ کے اخراجات 37.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکے تھے، جبکہ سی بی او کے تازہ تخمینے میں یکم اگست تک کے اخراجات شامل کیے گئے ہیں۔

سی بی او کے مطابق جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے ساتھ ساتھ اہم ہتھیاروں، خصوصاً میزائلوں اور میزائل شکن نظام کے ذخائر میں کمی نے امریکا کی مستقبل کے کسی بڑے تنازع سے نمٹنے کی صلاحیت پر خدشات پیدا کیے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اہم جنگی ساز و سامان کی کمی مستقبل میں چین اور تائیوان سے متعلق کسی ممکنہ تنازع کی صورت میں امریکی دفاعی ردِعمل کو متاثر کر سکتی ہے۔

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے جولائی میں سینیٹ کی سماعت کے دوران اسلحے کے ذخائر دوبارہ بھرنے کے لیے تقریباً 90 ارب ڈالرز کی ہنگامی اضافی رقم طلب کی تھی۔

سی بی او کے مطابق امریکی محکمۂ دفاع نے مالیاتی آڈیٹرز کے ساتھ مکمل تعاون نہیں کیا، تاہم وائٹ ہاؤس اور محکمۂ دفاع نے سی بی او کی جانب سے اسلحہ ذخائر میں کمی کے خدشات سے اختلاف کیا۔

رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں حملوں اور خلیجی ممالک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان نے توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز کے راستے ہوتی تھی، جس کی وجہ سے اس راستے میں رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہوئی ہے۔

سی بی او کی جانب سے بتائے گئے 38 ارب ڈالرز کے اخراجات میں آبنائے ہرمز میں حالیہ تجارتی بحری جہازوں پر حملوں اور خطے میں امریکی فوجی تنصیبات پر ہونے والے حالیہ حملوں کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔

اسی طرح جنگ کے لیے لیے گئے قرض پر سود اور دیگر مالیاتی اخراجات بھی اس رقم میں شامل نہیں، جو مجموعی لاگت میں مزید دسیوں ارب ڈالرز کا اضافہ کر سکتے ہیں۔

امریکا کا مجموعی عوامی قرض بھی اگست میں 40 ٹریلین ڈالرز سے تجاوز کر گیا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید