اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے میرے ایک بیٹے کو قتل کرنے کی کوشش کی تاہم انہوں نے مبینہ حملے کی تاریخ، مقام یا نشانہ بنائے گئے بیٹے کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے یہ دعویٰ ایک اسرائیلی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا ہے۔
نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایران نے میرے ایک بیٹے کو نشانہ بنایا اور اسے قتل کرنے کی کوشش کی۔
نیتن یاہو نے یہ بات سابق اسرائیلی آرمی چیف گادی آئزن کوٹ کی نیتن خاندان کو 24 گھنٹے سیکیورٹی فراہم کرنے سے متعلق گفتگو کے ردِعمل میں کہی۔
انہوں نے کہا کہ میرے خاندان کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنا عیش نہیں بلکہ ضرورت ہے، ورنہ ایرانی میرے خاندان کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
واضح رہے کہ نیتن یاہو کے 2 بیٹے اور ایک بیٹی ہے، اسرائیلی حکام نے جولائی میں نیتن کے دونوں بیٹوں اور اہلیہ کو اضافی ذاتی سیکیورٹی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم کا یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اکتوبر میں ہونے والے اسرائیلی عام انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی اتحادی حکومت رائے عامہ کے جائزوں میں پیچھے چل رہی ہے۔
یاد رہے کہ ایران نے اپنے سابق سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے افراد کی شہادت کا بدلہ لینے کا اعلان کر رکھا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے تہران پر مشترکہ حملے میں علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے 4 افراد شہید ہوئے تھے۔
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کے والد علی خامنہ ای کی شہادت کے ایک ہفتے بعد ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا تھا، مجتبیٰ خامنہ ای تقرری کے بعد سے منظرِ عام پر نہیں آئے تاہم اپنے والد کی تدفین کی تقریبات کے موقع پر جاری پیغام میں انہوں نے سابق سپریم لیڈر کے خون کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔