• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسرائیل شام میں ترکیہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے کیوں پریشان ہے؟ کیا تشویش صرف شام میں ترک موجودگی تک محدود ہے یا اسکے پیچھے خطے میں تبدیل ہوتا ہوا طاقت کا پورا نقشہ موجود ہے؟گزشتہ ایک دہائی میں ترکیہ نے اپنی عسکری صلاحیت، دفاعی صنعت، ڈرون ٹیکنالوجی اور سفارتی اثر و رسوخ میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔ وہ اب محض ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے تزویراتی توازن کو متاثر کرنے والی اہم قوت بن چکا ہے اور خطے میں صورتِ حال یکسر بدل گئی ہے۔بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد شام میں ترکیہ ایک ایسی طاقت کے طور پر ابھرا ہے جس کا کردار ایران سے مختلف ہے۔ترکیہ کیلئےشام محض اثر و رسوخ کا میدان نہیں بلکہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔ سرحدی تحفظ، دہشت گردی کا خاتمہ اور شام کی علاقائی سالمیت اسکی بنیادی ترجیحات ہیں۔ 2016ء میں ’’فرات ڈھال‘‘سے شروع ہونے والےفوجی آپریشنز نے شمالی شام میں طاقت کا توازن بدل دیا۔ ترکیہ نے واضح کردیا کہ وہ اپنی سرحد کے ساتھ کسی مستقل دہشت گرد راہداری کو قبول نہیں کرے گا۔اس پالیسی کا بنیادی اصول واضح ہے ’’تقسیم کے بجائے علاقائی سالمیت، ملیشیاؤں کے بجائے ریاست اور انتشار کے بجائے استحکام‘‘۔

مشرقِ وسطیٰ کی تقسیم کے حوالے سے 1982ء میں اسرائیلی تزویراتی ماہر اوڈید یینون کی دستاویز کا اکثر حوالہ دیا جاتا ہے، جس میں عراق اور شام سمیت بعض ممالک کو مذہبی اور نسلی بنیادوں پر تقسیم کرنے کا تصور پیش کیا گیا تھا۔ 1996ء میں نیتن یاہو کے دور میں سامنے آنیوالی ’’کلین بریک‘‘ رپورٹ کو بھی اسرائیل کی علاقائی حکمتِ عملی کے حوالے سے زیرِ بحث لایا جاتا رہا ہے۔یہ کہنا درست نہیں کہ خطے کا ہر بحران انہی منصوبوں کا نتیجہ تھا، تاہم عراق، شام اور لبنان میں داخلی تقسیم اور کمزور ریاستی ڈھانچوں نے بیرونی طاقتوں کیلئے ضرور گنجائش پیدا کی۔ترکیہ کی موجودہ پالیسی اس رجحان کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ وہ شام کو مزید تقسیم کرنے کے بجائے ایک مضبوط مرکزی ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے۔ یہی پہلو اسرائیل کی آنکھوں میں کھٹکتا ہےکیونکہ ایک مستحکم شام خطے میں طاقت کا نیا مرکز بن سکتا ہے۔

ترکیہ کی سب سے بڑی تبدیلی اسکی دفاعی صنعت میں آئی ہے۔ ایک وقت تھا جب وہ جدید ڈرون ٹیکنالوجی کیلئے بیرونی ممالک پر انحصار کرتا اور اسرائیل سے بھی ڈرون درآمد کرتا تھا۔ آج ترکیہ خود جدید مسلح ڈرونز اور بغیر پائلٹ جنگی نظام تیار کرکے عالمی منڈی میں اپنی جگہ بنا چکا ہے۔

ترکیہ کی طاقت کو صرف اس کی اپنی عسکری صلاحیت تک محدود کرکے دیکھنا مکمل تصویر نہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ اس کا بڑھتا ہوا دفاعی اور تزویراتی تعاون خطے میں طاقت کے نئے توازن کی بنیاد بن سکتا ہے۔ترکیہ کے پاس جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور مضبوط فوج ہے، پاکستان بڑی اور تجربہ کار فوج کے ساتھ ایک جوہری طاقت ہے، جبکہ سعودی عرب وسیع مالی و معاشی وسائل رکھتا ہے۔

اگر ان تین ممالک کا دفاعی اور تزویراتی تعاون ایک مستحکم شراکت داری میں تبدیل ہوتا ہے تو اس کے اثرات پورےخطے پر پڑ سکتے ہیں۔ اسرائیل نےبرسوں تک اپنی فضائی اور عسکری برتری کو خطے میں اپنی طاقت کا بنیادی ستون بنائے رکھا، لیکن نئی علاقائی صف بندی اورترکیہ کی برتری نے اسے تہس نہس کردیا ہےاور یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی سیاسی اور تزویراتی حلقوں میں ترکیہ کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔ اسرائیلی اخبارات میں ترکیہ کی شام میں موجودگی، مشرقی بحیرۂ روم میں اسکی سرگرمیوں اور مستقبل کے علاقائی کردار پر سخت سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ بعض اسرائیلی تجزیہ کار تو ترکیہ کے خلاف سخت پالیسی اور پیشگی فوجی کارروائی تک کی بات کررہے ہیں۔یہ لہجہ اس حقیقت کی علامت ہے کہ اسرائیل ترکیہ کو اب محض سیاسی یا سفارتی فریق نہیں بلکہ ایک ایسی علاقائی طاقت سمجھنے لگا ہے جو مستقبل کے تزویراتی منظرنامے کو تبدیل کرسکتی ہے۔

تاہم ترکیہ کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی اسرائیل کیلئے غیر معمولی خطرات پیدا کرسکتی ہے کیونکہ ترکیہ ایک بڑی علاقائی طاقت، نیٹو کا رکن اور متعدد ممالک کے ساتھ مضبوط دفاعی و سفارتی تعلقات رکھنے والی ریاست ہے۔درحقیقت اسرائیل کی بنیادی تشویش شاید صرف ترکیہ کی عسکری طاقت نہیں بلکہ اس طاقت کے نتیجے میں تشکیل پانے والا نیا علاقائی نظام ہے۔اسلئے اصل سوال یہ نہیں کہ اسرائیل ترکیہ کی موجودگی سے کیوں پریشان ہے، اصل سوال یہ ہے کہ اسرائیل کو ایسے مشرقِ وسطیٰ سے کتنا خوف ہے جس میں ترکیہ ایک مضبوط عسکری طاقت، پاکستان ایک جوہری ریاست اور سعودی عرب ایک عظیم معاشی قوت کے طور پر باہمی تعاون کے ساتھ موجود ہوں؟

مشرقِ وسطیٰ میں بڑی تبدیلیاں ہمیشہ میدانِ جنگ میں نہیں آتیں۔ کبھی دفاعی صنعت، کبھی ایک ڈرون ٹیکنالوجی اور کبھی چند ممالک کے درمیان تزویراتی تعاون پورے خطے کی سیاست کا رخ بدل دیتا ہے۔ترکیہ آج اسی تبدیلی کے مرکز میں ہے۔وہ ملک جو کبھی جدید دفاعی ٹیکنالوجی کیلئے بیرونی ممالک پر انحصار کرتا تھا، آج خود جدید ڈرونز اور دفاعی نظام تیار کررہا ہے۔ جو کبھی اپنی سرحدوں پر دہشت گردی کا سامنا کرتا تھا، آج اپنے قومی مفادات کے دفاع کیلئے سرحدوں سے باہر بھی کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔اسلئے اسرائیل کی تشویش کو صرف شام میں ترک فوج کی موجودگی تک محدود کرنا درست نہیں۔ اصل معاملہ طاقت کے بدلتے ہوئے نقشے کا ہے۔ اگر ترکیہ اپنی دفاعی خودکفالت کو مزید مضبوط کرتا ہے، شام میں ایک مستحکم ریاست کے قیام میں کردار ادا کرتاہے اور پاکستان و سعودی عرب کے ساتھ تزویراتی تعاون بڑھاتا ہے تو مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا پرانا توازن تبدیل ہوسکتا ہے۔شاید یہی وہ حقیقت ہے جس نے اسرائیل کے سامنے سب سے بڑا سوال کھڑا کردیا ہے: ترکیہ کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ صرف ایک ملک کی طاقت میں اضافہ نہیں، بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے پورے توازن کی تشکیلِ نو کا آغاز ہوسکتا ہے۔

تازہ ترین