پمز اسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے معاملے پر وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔
اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف نے متعلقہ افسران پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو فوری طور پر معطل کر کے عہدے سے ہٹا دیا۔
وزیرِ اعظم نے اعلیٰ سطح کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی۔
سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ ہوں گے جبکہ دیگر ممبران میں سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹر بیرسٹر نویل اعوان شامل ہیں۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے بھی واقعے کی انکوائری کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں 8 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے، انکوائری کمیٹی آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کرے گی۔
انکوائری کمیٹی کے سربراہی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کریں گے جبکہ کمیٹی میں کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے ڈی جی اور ایس پی سٹی بھی شامل ہیں، اسسٹنٹ کمشنر آئی نائن اور ڈی جی سی ڈی اے بھی کمیٹی میں شامل ہیں۔
آئیسکو اور پمزاسپتال کے افسران کو بھی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے، انکوائری کمیٹی تحقیقات کے بعد 24 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرے گی۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ پمز اسپتال کی انتظامیہ اور متعلقہ حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوں، اگر کسی کی لاپرواہی کی وجہ سے یہ واقعہ رونما ہوا ہے تو اسے نہیں چھوڑا جائے گا، اگر واقعے میں میری غلطی ہوگی تو مجھے بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔
واضح رہے کہ آج صبح اسلام آباد کے پمز اسپتال کے گائنی وارڈ کی نرسری میں آگ لگنے سے 15 نومولود جھلس کر جاں بحق ہو گئے ہیں۔
ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ پمز اسپتال کی نرسری میں صبح 6 بج کر 45 منٹ پر ایئر کنڈیشن کمپریسر پھٹنے سے آگ لگی جو بجھا دی گئی، کولنگ کا عمل جاری ہے۔
اسپتال حکام نے کہا ہے کہ آگ لگنے کے وقت نرسری میں 16 بچے موجود تھے، لیڈی ڈاکٹر صرف ایک بچے کو بچاسکی جب کہ 15 جاں بحق ہوگئے۔