• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پمز اسپتال سے پہلے بھی مختلف اسپتالوں میں آگ سے بچے جاں بحق ہوتے رہے

اسلام آباد کے پمز اسپتال میں آگ لگنے سے 14 نومولود کی جان چلی گئی، لیکن یہ پہلا واقعہ نہیں، گذشتہ برسوں میں اسپتالوں میں آگ لگنے اور ان سے نقصانات کے کئی واقعات ہوئے ہیں۔

7 جون 2012 کو لاہور، سروسز اسپتال کے نرسری وارڈ میں شارٹ سرکٹ سے آگ لگی۔ کم از کم 4 نومولود بچے جاں بحق ہوئے۔ 17 جھلس گئے، وجہ سامنے آئی کہ فائر ایکسٹنگوشر نہیں تھے۔

9 جنوری 2020 کو کراچی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ این آئی سی ایچ میں انکیوبیٹر میں آگ لگنے سے ایک نومولود بچی جاں بحق ہوئی۔ وجہ شارٹ سرکٹ یا تکنیکی خرابی بتائی گئی۔

27 مئی 2023 کو لاہور کے چلڈرن اسپتال کی پیڈیا ٹرک نرسری میں آگ سے ایک نومولود جاں بحق، ایک زخمی ہوا، 8 جون 2024 کو ساہیوال کے ٹیچنگ اسپتال کے بچوں کے وارڈ میں میں اے سی سسٹم کے شارٹ سرکٹ سے آگ لگی۔

 واقعے میں 11 بچوں کی موت ہوئی، اسپتال نے اموات کی وجہ دھواں اور آکسیجن کی کمی بتائی مگر تحقیقات میں غفلت ثابت ہوئی۔

قومی خبریں سے مزید