امریکی فوج نے دور دراز فوجی اڈوں کو بجلی کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے لیے چھوٹے ایٹمی ری ایکٹرز تیار اور نصب کرنے کا منصوبہ شروع کر دیا۔
امریکی فوج کے مطابق 5 کمپنیوں سے مجموعی طور پر 2 ارب 20 کروڑ ڈالرز تک کے معاہدے کیے گئے ہیں، جن کے تحت فوجی اڈوں پر چھوٹے ایٹمی ری ایکٹرز تیار اور چلائے جائیں گے۔
مائیکرو ری ایکٹرز کہلانے والے یہ چھوٹے ایٹمی پلانٹس فیکٹری میں تیار کیے جا سکتے ہیں، آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیے جا سکتے ہیں اور ہر ری ایکٹر 20 میگا واٹ تک بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ’جینس‘ پروگرام کے تحت تیار کیے جانے والے یہ ری ایکٹرز مستقبل میں الاسکا اور دور دراز جزائر سمیت ایسے فوجی اڈوں کو بجلی فراہم کر سکیں گے جہاں توانائی کی ترسیل مشکل اور مہنگی ہے۔
پروگرام کے تحت پہلا ری ایکٹر ستمبر 2028ء تک نصب کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
پروگرام کے لیے منتخب کی جانے والی کمپنیوں اور فوجی اڈوں میں نارتھ کیرولائنا کے فورٹ بریگ میں اینٹیریز نیوکلیئر، کینٹکی کے فورٹ کیمبل میں بی ڈبلیو ایکس ٹی ایڈوانسڈ ٹیکنالوجیز، ٹیکساس کے فورٹ ہُڈ میں جنرل اٹامکس الیکٹرو میگنیٹک سسٹمز، جارجیا کے فورٹ بیننگ میں ریڈیئنٹ انڈسٹریز اور نیویارک کے فورٹ ڈرم میں ویسٹنگ ہاؤس گورنمنٹ سروسز شامل ہیں۔
امریکی فوج نے ہر کمپنی کو دی جانے والی رقم کی تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم ریڈیئنٹ انڈسٹریز کے مطابق اسے پروگرام کے تحت اپنے ’کلیڈوس‘ ری ایکٹرز کے 15 یونٹس تیار اور نصب کرنے کے لیے 75 کروڑ ڈالرز تک ملیں گے۔
امریکی فوجی حکام کے مطابق ان ری ایکٹرز کو تجارتی ایٹمی پلانٹس پر لاگو تمام ماحولیاتی اور حفاظتی ضوابط پر پورا اترنا ہو گا، تاہم ان کی نگرانی امریکی نیوکلیئر ریگولیٹری کمیشن کے بجائے امریکی فوج کرے گی۔
امریکی فوج کے حکام کا کہنا ہے کہ پروگرام کا مقصد مستقبل میں ایک ایسا تجارتی ماڈل تیار کرنا ہے جسے فوج کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی استعمال کیا جا سکے۔
مائیکرو ری ایکٹرز پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ روایتی ایٹمی پلانٹس کے مقابلے میں زیادہ مہنگے ثابت ہو سکتے ہیں۔
فوجی حکام نے بھی تسلیم کیا ہے کہ مائیکرو ری ایکٹرز کی لاگت روایتی پلانٹس سے کم ہونے کی توقع نہیں، تاہم جینس پروگرام کے ذریعے پیداواری لاگت کم کرنے کے طریقے تلاش کیے جائیں گے۔
امریکی فوج کے مطابق آرکٹک علاقوں میں قائم فوجی تنصیبات کو بجلی فراہم کرنے پر اس وقت تقریباً 40 سینٹ فی کلو واٹ گھنٹہ لاگت آتی ہے، جسے کم کرنا پروگرام کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔
ریڈیئنٹ انڈسٹریز کے چیف کمرشل آفیسر مائیک اسٹارٹ کے مطابق کمپنی کے کنٹینرائزڈ ری ایکٹرز صارفین تک براہِ راست پہنچائے جا سکتے ہیں، جس سے بجلی کی ترسیل کے اخراجات ختم ہو جائیں گے اور بجلی کی فراہم کردہ لاگت تقریباً 20 سے 30 سینٹ فی کلوواٹ گھنٹہ تک ہو سکتی ہے۔