• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معاشی جنگ کیخلاف ایران کا بڑا فیصلہ، امریکی اقتصادی پابندیوں کے مقابل خود انحصاری پر زور

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

ایران نے نئی امریکی معاشی پابندیوں کے باوجود اپنی معیشت کو سنبھالنے کے لیے داخلی وسائل اور خود مختاری پر انحصار بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم حکام نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ سال عوام کے لیے سخت مشکلات کا سال ہو گا۔

جاری کیے گئے بیان میں ایرانی وزیرِ معیشت علی مدنی زادہ نے کہا ہے کہ حکومت نے موجودہ صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے 2 سالہ منصوبہ تیار کیا ہے، ایران کو پابندیوں سے نمٹنے کا کئی دہائیوں کا تجربہ ہے اور ایران ایسے اقدامات سے بخوبی واقف ہے جن کے ذریعے امریکی پابندیوں کے اثرات کم کیے جا سکتے ہیں۔ 

انہوں نے کہا ہے کہ بدلتی عالمی طاقتوں کے تناظر میں ایران بعض معاملات میں دفاع کے بجائے پیش قدمی بھی کر سکتا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق ایران نے ضروری اشیاء، غیر ملکی کرنسی اور سونے کے ذخائر جمع کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ وسیع وسائل رکھنے کے باوجود ملک میں توانائی کی راشن بندی بھی کی جا رہی ہے۔

مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی نے کاروباری نمائندوں کو بتایا ہے کہ ایران کی آمدنی کا بڑا ذریعہ تیل کی برآمدات تقریباً مکمل طور پر رک چکی ہیں تاہم ضروری اشیاء کی درآمد کے لیے غیر ملکی کرنسی کی کمی نہیں کیونکہ مرکزی بینک کے پاس ایسے مقامات پر نقد ذخائر موجود ہیں جہاں امریکا رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔

عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ عبدالناصر ہمتی نے تسلیم کیا ہے کہ ملک کو بے قابو مہنگائی اور عوام کی مسلسل گرتی قوتِ خرید جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے تاہم بقول ان کے مشکل حالات برداشت کرنا معاشی تباہی کے مترادف نہیں۔

ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجری نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایرانی عوام آئندہ ایک سال میں حالات بہتر ہونے کی توقع نہ رکھیں، ملک میں غربت کی سطح سے متعلق اعداد و شمار جاری کرنے کے لیے قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کی اجازت درکار ہو گی۔

ایرانی کرنسی بھی امریکی ڈالر کے مقابلے میں نئی تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئی اور منگل کو کھلی مارکیٹ میں 1 ڈالر کی قیمت 2.05 ملین ریال تک جا پہنچی تاہم بدھ کو قدر میں معمولی بہتری آئی۔

گھریلو پیداوار پر زور

ایرانی سیکیورٹی سربراہ محسن رضائی نے نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ معیشت میں فعال کردار ادا کریں اور اپنے گھروں اور مقامی برادریوں کے لیے ضروریات کی اشیاء خود تیار کریں۔

ایرانی حکومت کئی دہائیوں سے قومی منصوبوں میں خود انحصاری کو بنیادی ترجیح دیتی رہی ہے، خوراک کے شعبے میں حکومت کا دعویٰ ہے کہ ملک اپنی زرعی ضروریات کا 85 فیصد خود پورا کرتا ہے۔

وزیرِ زراعت غلام رضا نوری کے مطابق ایران مختصر مدت میں غذائی خود انحصاری 90 فیصد تک لے جانے اور بالآخر تمام بنیادی غذائی اشیاء ملک کے اندر پیدا کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔

ایران تقریباً 16 ارب ڈالرز کی زرعی اشیاء درآمد جبکہ 8 ارب ڈالرز کی برآمد کرتا ہے تاہم جنگ شروع ہونے کے بعد مارچ میں بعض زرعی اشیاء کی برآمد روک دی گئی تھی۔

ایران گندم، مکئی، چاول اور خوردنی تیل سمیت کئی بنیادی غذائی اشیاء اور جانوروں کی خوراک کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب ایران کو چینی اور گندم کے آٹے کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جبکہ روس اور وسطی ایشیاء بحیرۂ کیسپین کے ذریعے اناج فراہم کرتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارۂ خوراک و زراعت نے خبردار کیا ہے کہ درآمدی اخراجات میں اضافہ، ترسیلی نظام میں رکاوٹیں اور ملکی سپلائی کے تحفظ کے اقدامات ایران میں غذائی مہنگائی بڑھا رہے ہیں اور عوام کی قوتِ خرید کم کر رہے ہیں۔

ادارے کے مطابق زمینی راستے سمندری راستوں سے آنے والی اشیاء کے بڑے حجم کا متبادل فراہم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

ایران کے سرکاری ادارۂ شماریات کے مطابق جولائی میں اشیائے خور و نوش کی قیمتیں ایک سال پہلے کے مقابلے میں 128 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی تھیں۔

ادویات کی بھی قلت

ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی تقریباً 97 فیصد ادویات خود تیار کرتا ہے تاہم درآمد شدہ ادویات دواسازی کے مجموعی اخراجات میں نمایاں حصہ رکھتی ہیں۔

پارلیمنٹ کی صحت کمیٹی کے ترجمان سلمان اشاغی کے مطابق ایران کو تقریباً 1000 ادویات کی کسی نہ کسی سطح پر قلت کا سامنا ہے، حکومت کی جانب سے بعض درآمدات کے لیے سستی غیر ملکی کرنسی کی سہولت بتدریج ختم کیے جانے کے بعد ادویات کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

جنگ نے توانائی کا بحران بڑھا دیا

ایرانی حکام کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی بمباری سے تیل، گیس اور بجلی سمیت بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت تیزی سے جاری ہے تاہم جنگ نے پہلے سے موجود توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل مزید سنگین کر دیے ہیں۔

تہران سمیت ملک کے مختلف شہروں میں روزانہ بجلی کی بندش جاری ہے جبکہ سرد موسم شروع ہونے کے بعد قدرتی گیس کی قلت کا بھی خدشہ ہے۔

تہران، مشہد، کرج اور دیگر شہروں میں متعدد پیٹرول پمپس پر سرکاری کوٹے کا ایندھن ختم ہونے کے باعث طویل قطاریں لگی نظر آتی ہیں۔

حکومتی ترجمان نے بتایا ہے کہ 22 ستمبر تک موجودہ ایندھن کی قیمتیں اور کوٹے برقرار رہیں گے تاہم نجی گاڑیوں کے لیے پہلے ہی ایندھن کا کوٹہ کم کیا جا چکا ہے۔

ایرانی قومی آئل ریفائننگ اینڈ ڈسٹری بیوشن کمپنی کے مطابق جنوبی ایران میں 2 نئی ریفائنریوں کے رواں سال کے اختتام تک فعال ہونے سے یومیہ تقریباً 12 ملین لیٹر اضافی ایندھن پیدا ہو گا جس سے قلت کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ایرانی ماہرِ معیشت صادق الحسینی نے خبردار کیا ہے کہ حکومت کو سماجی بے چینی سے بچنے کے لیے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سمیت مشکل معاشی اصلاحات کرنا پڑ سکتی ہیں، پیٹرول کے لیے طویل قطاروں اور شدید معاشی بدحالی کی صورت میں ملک میں بڑے پیمانے پر انتشار بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران میں ایندھن مہنگا ہونے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا کیونکہ نقل و حمل کے اخراجات بڑھ جائیں گے، ایران تاریخی دباؤ کے باوجود امریکی پابندیوں کا مقابلہ جاری رکھ سکتا ہے لیکن مسلسل جنگ، پابندیوں اور بنیادی وسائل میں کمی ملک کو ایسے معاشی چکر کی طرف دھکیل رہی ہے جہاں اس کے وسائل اور پیداواری صلاحیت بتدریج کمزور ہو سکتی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید