میرے سینے کی دھڑکن ہیں، میری آنکھوں کے تارے ہیں،سہارا بے سہاروں کا،خدا کے وہ دلارے ہیں، سمجھ کر تم فقط اپنا انہیں تقسیم نہ کرنا،نبی جتنے تمہارے ہیں ،نبی اتنے ہمارے ہیں،سبق تم نے محبت کا ہرایک انسان کو سکھلایا،مقدس راستہ دے کر دین دنیا میں پھیلایا،تم ہی ساگر تم ہی دریا،تم ہی کشتی تم ہی ملاح،رسول اللہ رسول اللہ رسول اللہ رسول اللہ۔
میں ہر سال بارہ ربیع الاول کے مبارک دن کا آغاز کائنات کی اس عظیم ترین ہستی کو دِل کی گہرائیوں سے نذرانہ عقیدت پیش کرکے کرتا ہوں جنہیں دھرتی کے مالک نے تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا، پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی ذاتِ مبارکہ محبت، شفقت، رحم، انصاف اور اخلاقیات کا ایسا روشن مینار ہے جس کی روشنی صرف مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ رہتی دنیا تک پوری انسانیت کیلئےمشعلِ راہ ہے۔ آپ ﷺ نےعملی طور پر ثابت کیا کہ کسی سماج کی اصل پہچان عمارات، دولت اور طاقت سے نہیں بلکہ اس امر سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں، بوڑھوں، بے سہارا افراد، خصوصی افراد اور معاشرے کے کمزور طبقات کے ساتھ کس طرح کا رویہ اختیار کرتا ہے۔رحمت العالمین ﷺ بچوں سے بے حد محبت اور شفقت فرمایا کرتے تھے، آپ ﷺ نے بچوں سے محبت، بوڑھوں کی عزت، خصوصی افراد کے احترام، یتیموں کی کفالت اور بے سہارا انسانوں کی مدد کو معاشرے کی بنیادی ذمہ داری قرار دیا،پیغمبر اسلام ﷺ نے والدین اور بزرگوں کی عزت و خدمت پر خاص زور دیا، یہ حکم صرف اپنےسگے والدین تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کے تمام بزرگ افراد کیلئے ہے،بوڑھے افراد جب آخری عمر میں بیماری یا کمزوری کی وجہ سے دوسروں کے محتاج ہوجائیں تو انہیں تنہا چھوڑ دینا یا بوجھ سمجھنا معاشرے کی اخلاقی پستی کی علامت ہے۔بچوں، بوڑھوں اور خصوصی افراد کو صرف خوراک، لباس اور تعلیم فراہم کرنا کافی نہیں بلکہ انہیں محبت، تحفظ، عزت اور شفقت دینا بھی سماج کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔آج اگر ہم اپنے ارد گرد نگاہ ڈالیں تو ہمیں ایسے بہت سے بچے نظر آئیں گے جنہیں بدقسمتی سے غربت کے باعث تعلیم سے محروم ہوکرچائلڈ لیبرپر مجبور کیا جاتا ہے، بچوں کی معصومیت کو دھتکارا جاتا ہے، بوڑھوں اور معذور افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، معاشرے کے پِسے ہوئے طبقات کو مزید محرومی کا شکار کیا جاتا ہے، ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ وہیل چیئر استعمال کرنے والے افراد، نابینا افراد، سماعت یا گویائی سے محروم افراد اور ذہنی یا جسمانی طور پر مختلف صلاحیت رکھنے والے بچوں کو ترس کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، بدقسمتی سے ہمارے درمیان کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو ایسے اسپیشل چلڈرن کو والدین کے گناہوں کا نتیجہ سمجھتے ہیں، ہمیں یہ سوچ بدلنے کی ضرورت ہے، اگر ہم واقعی اپنے سماج میں بہتری چاہتے ہیں تو ہمیں اسکا آغاز اپنی ذات سے کرنا ہوگا۔آج مجھے یہ دیکھ کرفخر محسوس ہوتاہے کہ تھرپارکرسندھ کےپسماندہ صحراؤں میں ایک سو پچاس ایکڑ پر محیط پریم نگر دی لینڈ آف لوَ تیزی سے محبت ، بھائی چارے اور برداشت کی سرزمین میں ڈھلتا جارہا ہے،آج بارہ ربیع الاول کے مبارک موقع پر پریم نگرمیں عید میلادالنبیﷺکی پروقار تقریبات کا انعقاد ایک فلاحی معاشرے کے قیام کیلئے میری انتھک جدوجہد کا اہم سنگ میل ہے، میری نظر میں پریم نگر کو مثالی جگہ بنانے کا مطلب صرف خوبصورت سڑکیں، جدید عمارتیں اور بڑے منصوبے تعمیر کرنا نہیں بلکہ یہاں ایسا مثالی انسان دوست معاشرہ پروان چڑھانا ہے جہاں ایک یتیم بچہ خود کو تنہا محسوس نہ کرے، ایک بزرگ کو اپنے بڑھاپے کا خوف نہ ہو، ایک خصوصی فرد خود کو معاشرے سے الگ تھلگ محسوس نہ کرے ، پریم نگر کے دروازے ہر اُس انسان کیلئے کھلے ہیں جو خدمت انسانیت کے جذبے سے سرشار ہوکر ہمارے کارواں کا حصہ بننا چاہے۔ یہی وہ انسان دوستی اور خدمتِ انسانیت ہے جسکا حکم اللہ کے آخری نبی ﷺ نے دیا اورآج ہمارے معاشرے کو سب سے زیادہ اسی چیز کہ ضرورت ہے۔
پیغمبر اسلام ﷺ کی سیرت ہمیں ہر کمزور اور بے سہارا انسان کی مدد کا درس دیتی ہے، یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھنا، مسکینوں کی مدد کرنا، بیماروں کی عیادت کرنا اور بے بس افراد کیلئے آسانی پیدا کرنا ایک اچھے دردمند انسان کی نشانی ہے۔ میری نظر میں پیغمبر اسلام ﷺ سے سچی محبت کا سب سے خوبصورت اظہار یہ ہے کہ ہم اپنے آس پاس موجود کسی روتے ہوئے بچے کے آنسو پونچھیں، کسی خصوصی فرد کیلئے راستہ آسان کریں، کسی بوڑھے شخص کا ہاتھ تھامیں اور کسی بے سہارا انسان کو یہ احساس دلائیں کہ وہ اس معاشرے میں تنہا نہیں ہے۔ یہی رحم ہے، یہی شفقت ہے، یہی انسانیت ہے اور یہی اس عظیم پیغام کا عملی اظہار ہے جس کیلئے رحمت العالمین ﷺ دنیا میں تشریف لائے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جومعاشرہ اپنے کمزور افراد کا خیال رکھتا ہے، اوپر والا بھی اس معاشرے پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے۔آج بارہ ربیع الاول کے مبارک دن ہمیں اپنے آپ سے یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم پیغمبر اسلام ﷺ کی محبت کو صرف نعروں اور تقریبات تک محدود نہیں رکھیں گے بلکہ اسے اپنے کردار کا حصہ بنائیں گے، ہم اپنے بچوں کو پیار دیں گے، خصوصی افراد کو عزت اور مساوی مواقع دیں گے، معذور افراد کیلئے آسانیاں پیدا کریں گے، اپنے بوڑھوں کی خدمت کریں گے اور ہر بے بس انسان کی مدد کو اپنا انسانی اور مذہبی فرض سمجھیں گے۔ پریم نگر کا نام بھی محبت سے وابستہ ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کی اصل پہچان بھی محبت ہی ہونی چاہیے، یہاں آنے والے ہر بے سہارا شخص کو محبت ملے، ہر بچے کو تحفظ ملے، ہر بزرگ کو عزت ملے اور ہر خصوصی فرد کو آگے بڑھنے کا موقع ملے۔میں تھر پارکر کے صحراؤں میں قائم پریم نگر کو رحمت العالمین ﷺ کی اعلیٰ تعلیمات کی روشنی میں میں انسانیت کی خدمت اور مذہبی ہم آہنگی کا ایسا روشن مرکز بنانا چاہتا ہوں جہاں سے محبت کا پیغام پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکے۔