پولیس امن کمیٹی لکی مروت نے ریجنل پولیس آفس (آر پی او) بنوں ریجن کو تحریری یقین دہانی کروائی ہے کہ امن کمیٹی کسی متوازی پولیس فورس یا غیر قانونی مسلح گروہ کے طور پر کام نہیں کرے گی اور تمام شرائط کی مکمل پابندی کرے گی۔
خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں قیام امن، نظم و ضبط اور قانون کی بالا دستی کےحوالے سے پولیس امن کمیٹی کے اراکین نے کہا کہ پولیس امن کمیٹی کسی متوازی پولیس فورس یا غیر قانونی مسلح گروہ کےطور پر کام نہیں کرے گی۔
کوئی بھی چھاپا، گرفتاری اور کارروائی ڈی پی او لکی مروت کی پیشگی اجازت کے تحت ہوگی۔ روانگی سے قبل کارروائی کی نوعیت، مقاصد، مقام اور شریک افراد کی تفصیل ڈی پی او کے علم میں لانا لازمی ہوگا۔
امن کمیٹی پولیس کمانڈ کے تحت قیام امن میں کردار ادا کرے گی، اسی طرح کمیٹی کے اراکین احتجاج، دھرنے، سڑکوں کی بندش اور دیگرحکومتی مخالف سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیں گے اور اپنے فرائض قانون، نظم و ضبط اور مجاز پولیس حکام کی ہدایات کےمطابق انجام دیں گے۔
امن کمیٹی نے یقین دہانی کروائی ہے کہ کسی بھی شخص کو ماورائے قانون تحویل میں نہیں رکھا جائے گا۔ مقدمات میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے پر ان کی گرفتاری ظاہر کرکے سی ٹی ڈی یا مجاز ادارے کے حوالے کیا جائے گا۔
کمیٹی کے رکن یا غیر مجاز شخص کو پولیس، سی ٹی ڈی یا سرکاری ادارےکی وردی پہننے کی اجازت نہیں ہوگی۔ امن کمیٹی کے اراکین کو سرکاری اختیارات استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ وردی صرف مجاز اور حاضر سروس اہلکار متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق پہن سکیں گے۔
امن کمیٹی نے کہا ہے کہ ضرورت کےمطابق قانون نافذ کرنے والےاداروں کے ساتھ مشترکہ کارروائیاں صرف مجاز اتھارٹی کی منظوری سے ہوں گی، گرفتاری، تفتیش اور کارروائی آئین، قانون اور مقررہ ضابطہ کار کے مطابق ہوگی۔
امن کمیٹی لکی مروت نے یقین دہانی کرائی کہ امن کمیٹی کے اراکین سیاسی وابستگی، جماعتی سرگرمیوں، کسی فریق کے حق یا مخالف میں وسائل اور اثر و رسوخ استعمال کرنے سے اجتناب کریں گے۔
تمام پولیس اہلکاروں کو ان کی منظور شدہ جنرل ڈیوٹی اور سرکاری تعیناتیوں پر واپس لایا جائے گا۔ سرکاری اسلحہ، گاڑیاں، مواصلاتی آلات سمیت حکومتی وسائل کو ذاتی دشمنی، قبائلی تنازعات یا سیاسی مقصد کیلئے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ سرکاری اسلحے کے اجراء، استعمال اور واپسی کا ریکارڈ رکھا جائے گا۔