وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے پمز اسپتال میں 26 اگست کو آتشزدگی کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے 14 نومولود میں سے ایک بچہ لاوارث تھا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بچے کو ایدھی نے دفنایا، 50 لاکھ ایدھی فاؤنڈیشن کو دیے جائیں گے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ 21 جون کو خاتون بچے کو جنم دے کر چھوڑ گئی تھی، جب سے وہ پمز اسپتال کی نرسری میں تھا، میتوں کی نشاندہی اور لواحقین کو سپرد کرنے کے وقت موجود بچہ لاوارث تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کسی نے شکایت نہیں کی جس کی، بچے کی ماں ابھی تک لاپتا ہے۔
26 اگست کو پمز اسپتال کے گائنی وارڈ میں جھلس کر 14 نومولود جاں بحق ہوگئے تھے، جن کے والدین غم سے نڈھال ہیں، والدین نے بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرنے اور اسپتال انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب سانحہ پمز کی انکوائری رپورٹ کی تفصیلات سامنے آ گئیں، قائم مقام سیکریٹری کیپٹن ریٹائرڈ محمود کی سفارشات بھی رپورٹ میں شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق رپورٹ میں پمز سانحہ پر متعدد سینئر افسران کو غفلت اور کوتاہی کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، کمیٹی نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور متعلقہ عملے سمیت 10 افسران کو عہدوں سے ہٹانے کی سفارش کی ہے۔