• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شوہر کو بیوی کی جاسوسی کیلئے روبوٹ ویکیوم کا استعمال مہنگا پڑ گیا

تائیوان کے ایک شہری کو روبوٹ ویکیوم کلینر کی مدد سے اپنی بیوی کی جاسوسی کرنا مہنگا پڑ گیا۔

تائیوان کی میڈیا نے حال ہی میں ایک عجیب وغریب کیس رپورٹ کیا جس کے مطابق ایک شخص نے اپنی بیوی کی بے وفائی پر مبنی فوٹیج کو ہرجانہ وصولی کے مقدمہ میں استعمال کیا۔

بدقسمتی سے یہ فوٹیج اس کے خلاف اس کی بیوی نے جوابی مقدمہ میں استعمال کر لی، کیونکہ اس نے اپنی بیوی اور اس کے دوست کی اجازت کے بغیر ان کی ویڈیو ریکارڈ کی تھی۔ 

یہ شخص جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، اس کی 2021 میں شادی ہوئی تھی اور وہ شادی کے بعد اپنے والدین کے ساتھ رہتا تھا۔ جبکہ ان کے پاس تعطیلات منانے کے لیے بھی گھر تھا جہاں وہ صرف چھٹیوں کے دوران جاتے تھے۔ 

2023 میں ایسی ہی ایک چھٹی کے دوران اس شخص کو گھر میں ایک اجنبی ٹوتھ برش ملا، جس پر اسے اپنی بیوی کی وفاداری پر شک ہوا۔ اس نے پارکنگ گیراج کی نگرانی کرنے والے کیمروں کی فوٹیج چیک کی تو اسے ایک ایسا شخص نظر آیا جو اس کی بیوی کو کام سے گھر چھوڑ کر گیا تھا۔

جب اس نے اپنی بیوی سے اس بارے میں پوچھا تو اس نے کسی بھی ایسے تعلق سے انکار کیا جس پر اس نے یقین کر لیا۔ تاہم تین ماہ بعد اسے معلوم ہوا کہ اس کی بیوی واقعی کسی اور شخص کے ساتھ ریلیشن میں تھی۔ 

اس نے موبائل ایپ کے ذریعے گھر کے روبوٹ ویکیوم کلینر کو دور سے فعال کیا تاکہ اپنی بیوی کو حیران کرنے کے لیے اس کے ذریعے اس سے بات کر سکے، لیکن اس کے بجائے اس نے اپنی بیوی کو اس کے دوست کے ساتھ دیکھ لیا اور ویکیوم کلینر کے ذریعے ان کی ویڈیو ریکارڈ کرلی اور فیصلہ کیا کہ وہ اپنی بیوی کے خلاف مقدمہ دائر کرے گا اور اس ویڈیو کو بوت کے طور پر استعمال کرے گا۔

بعدازاں اس نے اپنی بیوی کے خلاف عدالت سے رجوع کیا اور 2 ملین تائیوانی ڈالر (تقریباً 68,000 امریکی ڈالر) ہرجانے کا مطالبہ کیا۔ ججوں نے فیصلہ دیا کہ اس کی بیوی اور وہ شخص اسے 500,000 تائیوانی ڈالر ہرجانے کے طور پر ادا کریں۔ تاہم، شوہر کی یہ کامیابی اس وقت ختم ہوگئی جب اس کی بیوی نے بھی اسکے خلاف جوابی مقدمہ کر دیا۔ 

گو کہ روبوٹ ویکیوم کلینر سے بنائی گئی ویڈیو نے بیوی کی بے وفائی ثابت کرنے میں مدد دی، لیکن اسی ویڈیو سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اس نے ان دونوں کی رضامندی کے بغیر ان کی ویڈیو ریکاڈ کی۔ 

شوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کا اقدام جائز تھا، لیکن عدالت نے قرار دیا کہ شوہر کو اپنی بیوی یا اس شخص کی رضامندی کے بغیر ویڈیو بنانے کا حق حاصل نہیں تھا۔

تائیوان کے قانون کے تحت کسی شخص کو اطلاع دیے بغیر اس کی نجی سرگرمیوں یا معلومات کو ریکارڈ کرنا یا افشا کرنا تین سال تک قید اور 300,000 تائیوانی ڈالر تک جرمانے کی سزا کا باعث بن سکتا ہے۔

دلچسپ و عجیب سے مزید