• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حیدرآباد میں کئی سرکاری اسپتالوں اور عمارتوں میں فائر سیفٹی آلات نہ ہونے کا انکشاف

فائل فوٹو۔
فائل فوٹو۔

سندھ کے دوسر بڑے شہر حیدرآباد میں کئی سرکاری اسپتالوں اور عمارتوں میں فائر سیفٹی آلات کے نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ انتہائی نگہداشت وارڈ اور بچوں کی نرسری میں بھی آگ بجھانے کے الات نہیں تھے، حیدرآباد میں 8 عمارتوں کو سیل کر دیا گیا۔

صوبے کے دوسرے بڑے سرکاری اسپتال لیاقت یونیورسٹی استپال سمیت حیدرآباد شہر کے کئی سرکاری استپالوں میں فائر سیفٹی کے انتظامات کے حوالے سے اہم خامیاں سامنے آئی ہیں۔

اسسٹنٹ کمشنر سٹی نور حسین کی ابتدائی آڈٹ رپورٹ کے مطابق لیاقت یونیورسٹی اسپتال کے ایمرجنسی آئی سی یو اور پیڈیاٹرکس نرسری میں بھی آگ بجھانے کے آلات موجود نہیں تھے۔

معائنے کے دوران فائر ایمرجنسی ایگزٹ پر رکاوٹ بھی پائی گئی، آگ بجھانے والے آلات کی میعاد ختم ہوچکی تھی یہ ہی صورتحال بھٹائی سمیت کئی سرکاری اسپتالوں میں پائی گئی۔

ڈپٹی کمشنر حیدرآباد زین العابدین کے مطابق 23 سرکاری اسپتالوں سمیت 728 عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کیا گیا، 36 عمارتوں میں سیفٹی آلات کا فقدان پایا گیا جبکہ 8 عمارتوں کو سیل کر دیا گیا۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ فائر سیفٹی آڈٹ کی رپورٹ میں خامیاں کوتاہیاں اپنی جگہ لیکن آگ کے واقعات سمیت دیگر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری حفاظتی انتظامات یقینی بنائے جائیں۔

قومی خبریں سے مزید
صحت سے مزید