نیپال میں امدادی کارکنوں نے 6 سالہ بچی کو تین دن بعد سیلابی ملبے سے زندہ نکال لیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ضلع رسووا میں تباہ کن سیلاب کے بعد زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔
رسووا ضلع کا گاؤں تیمورے حال ہی میں بھوٹے کوشی دریا میں طغیانی کے باعث آنے والے سیلاب سے شدید متاثر ہوا تھا۔
زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے دوران آرمڈ پولیس فورس (اے پی ایف) کے اہلکاروں نے ملبے سے مدھم آواز میں رونے کی آوازیں سنیں۔ اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کھدائی شروع کی اور بالآخر بچی کو تلاش کر کے بحفاظت باہر نکال لیا۔
ابتدائی طور پر بچی کو تیمورے میں قائم اے پی ایف کی بارڈر آؤٹ پوسٹ میں طبی امداد فراہم کی گئی، تاہم اس کی حالت بگڑنے پر اسے فوری طور پر بہتر طبی سہولت کی ضرورت پیش آئی۔
حکام نے جمعے کی شام اسے فضائی راستے سے کھٹمنڈو منتقل کرنے کا انتظام کیا، تاہم خراب موسم اور حدِ نگاہ کم ہونے کے باعث پرواز میں تاخیر ہوئی۔
امدادی کارکنوں نے ہفتے کی دوپہر تک بچی کی حالت مستحکم رکھی، موسم کی صورتحال میں بہتری آنے کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسے کھٹمنڈو کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا۔
بچی کو اب ماہرین کی زیرِ نگرانی خصوصی علاج فراہم کیا جا رہا ہے اور اس کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
بچی کو ملبے سے زندہ نکالنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی، جہاں صارفین نے امدادی اہلکاروں کی کوششوں کو سراہا۔