• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

راولپنڈی کی 13 سالہ عائشہ کی زندگی ڈوربون میرو ٹرانسپلانٹ سے بندھ گئی

راولپنڈی کی 13 سالہ عائشہ کی زندگی کی ڈور بون میرو ٹرانسپلانٹ سے بندھ گئی، علاج کے لیے 25 لاکھ روپے درکار ہیں جبکہ 15 لاکھ روپے کا بندوبست ہوچکا ہے۔

غریب ڈرائیور باپ کا کہنا ہے کہ باقی رقم بھی جمع ہوپائے تو اس کی بیٹی صحت یاب ہو کر اپنی تعلیم جاری رکھ پائے گی۔

کھیلنے کودنے کی عمر میں 13 سالہ عائشہ کی مسکراہٹ پر فینکونی انیمیا کے موزی کینسر نے چپکے سے وار کر دیا۔

ساتویں جماعت کی طالبہ کو بسترِ مرگ پر دھکیلنے والی اس ناگہانی آفت کے سامنے بھی بچی کے حوصلے بلند ہیں اور وہ جلد صحت یاب ہو کر اسکول لوٹنے کی آس لگائے بیٹھی ہے۔

زندگی کی طرف واپسی کی واحد راہ بون میرو ٹرانسپلانٹ ہے، اخراجات کا تخمینہ 25 لاکھ روپے ہے۔

عائشہ کی سانسیں بچانے کے لیے پاکستان بیت المال نے 10 لاکھ جبکہ ایک مخیر شخصیت نے 5 لاکھ روپے اس کے والد کے حوالے کردیے، تاہم سوال یہ ہے کہ باقی 10 لاکھ روپے کا بندوبست کیسے ہو پائے گا؟

عائشہ کو ابھی جی بھر کر جینا ہے، پڑھنا ہے اور اپنی دوستوں کے ساتھ ہنسنا کھیلنا ہے۔ اس معصوم کے خوابوں کو بکھرنے سے بچانے کے لیےحکومت اور صاحب ثروت افراد کو آگے بڑھنا ہوگا۔

قومی خبریں سے مزید