اندازہ ہے کہ ہونی، ہونے کو ہے، ہونی ہو کر رہتی ہے، چن چڑھنے کو ہے۔ نوشتۂ تقدیر کہاں ٹلتا ہے۔ سیاست کے گھوڑے کو ایڑ لگ جائے تو پھر اسے لگام دینا مشکل ہوتا ہے، شطرنج کی جمی جمائی بازی کے مہرے ایک بار ہل جائیں تو دوبارہ سے انہیں اپنی جگہ رکھنا محال ہو جاتا ہے۔ نظام کی تباہی کے اعلان سے قیدی کے الشفا اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم اور پھر اس پر عجیب و غریب عملدرآمد تک کے سفر نے ان سب معاملات پرکئی نئے سوالات کے در کھول دیئے ہیں۔ کوئی لاکھ کہے کہ بازی کا رنگ اب تک وہی ہے اور وہی رہیگا، اس بات کا یقین نہیں کیا جاسکتا ۔ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا، سیاست جمود توڑ کر تحرک کے دائرے میں داخل ہو چکی ہے، اب پے درپے واقعات سمجھے اور توجیہ دیئے بغیر اگلی منزلوں کو سمجھنا مزید مشکل ہوگا۔ آیئے ناقص عقل کے ذریعے حالات کو انکے سیاسی تناظر میں جاننے کیلئے ٹامک ٹوئیاں ماریں۔ صاحبان علم و عرفان اور مرغانِ دربار و سرکار کو تو اصل حقائق کا علم ہو گا مگر یہ بے نوا وبے رسا قلم گھسیٹیا تو صرف اندازے لگا سکتا ہے اسلئے اندازوں کو خبر نہیں اوہام ہی سمجھنا چاہئے، جن کو الہام ہوتا ہے وہ تو بڑے لوگ ہوتے ہیں ۔
ہم جیسے ادنیٰ لوگ تو خیالی پلائو ہی پکا سکتے ہیں، سو بنا یخنی خیالی پلاؤ کی ڈش کا ذائقہ لیتے ہیں۔ کیا نظام کی تباہی کے اعلان میں ٹائمنگ پر غور کرنا ضروری نہیں تھا؟ موجودہ وفاقی حکومت اپنا آدھا سے زیادہ وقت گزار چکی ہے وزیر اعظم کی ’’شبانہ روز‘‘ محنت کے باوجود نہ سیاسی بیانیہ بنا ہے اور نہ معیشت میں نمایاں ترقی کا کوئی زینہ نظر آیا ہے۔ ایسے میں نظام کےانہدام کی بات وفاقی وزیر کی زبانی ضرور بیان ہوئی ہے مگر دراصل یہ ریاستی سوچ کی عکاس ہے۔ موجودہ سیاسی نظام کے مدار المہام وزیراعظم شہباز شریف اس ریاستی سوچ سے پہلے سے آگاہ تھے اسلئے انہوں نے انہدامِ نظام اور Resetپر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا اورن لیگ نے بھی ابتدائی اشتعال کےبعد سے خاموشی ہی کو مصلحت سمجھا ہے۔انصافی بیگانے کو جیل سے الشفا اسپتال لیجانے کا سپریم کورٹ فیصلہ حادثاتی تھا یا منصوبہ جاتی؟ کیا یہ دھماکہ تھا؟ کوئی شرلی پٹاخہ یا پھر ری سیٹ ڈرامے کا پہلا وار؟ نونی سیانے تو یہ تسلی دیتے ہیں کہ یہ وار نہیں شرلی پٹاخہ تھا جو نادانستہ سرزد ہوگیا۔ کسی سے بھول چوک ہو گئی تھی مگر جب دھواں اٹھنے لگا تو یہ یقینی بنایا گیا کہ الشفا کی بجائے سرکاری اسپتال لیجایا جائے اور اس عمل میں ریاست اور سیاست دونوں شامل تھے،نونی سیانے کےمطابق یہ ری سیٹ نہیں کورس ری کوریکشن تھی ۔
It was not a re-set effort, rather the action proved to be course Re-correction of the perception of any deal or plan
حکومتی عملدر آمد سے یہ لگا کہ ڈیل یا منصوبہ بندی کا تاثر غلط ہے اور ابھی فوراً کچھ بدلنے والا نہیں ہے۔ دوسری طرف شہر کوفہ کے ’’انجانے‘‘سازشی کہانیاں سناتے ہیں۔ اس افسانے کے مطابق سپریم کورٹ کے اس بینچ کی تشکیل پرہی واضح ہو گیا تھا کہ جیل میں بیٹھے انصافی بیگانے کو ریلیف مل سکتا ہے انکے بقول اگر کوئی منصوبہ سازی نہ ہوتی تو پہلے سےہی اس فیصلے کی روک تھام کی جاتی یا پہلے سے اس کیلئے کوئی حل سوچے جاتے مگر ایسا کچھ سوچنے کی کہیں خبر نہیں ملی۔ یہ ’’ انجانے سازشی ‘‘،بینچ کی تشکیل کو بھی ری سیٹ منصوبے کی کڑی سمجھتے ہیں، وہ یہ جھوٹا سچا فسانہ بھی سناتے ہیں کہ ریاست کے اہم رکن نے بیرسٹر گوہر کو فیصلے پر عملدرآمد کرنے اور الشفاہی بھیجنے کی یقین دہانی کروائی تھی اور اس میں یہ توقع چھپی تھی کہ Re-set پلان اور نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام میں تحریک انصاف کی علانیہ مدد ملے گی اور یوں تحریک انصاف دوبارہ سے قومی سیاسی دھارے میں باآسانی شامل ہو سکے گی۔ اس سازشی کہانی کے مطابق عدالتی فیصلہ اور اس پر ہوبہو عملدرآمد ہوتا تو سیاسی موسم بدلنے کی رُت آجاتی۔ ’’انجانے‘‘ سے پوچھا گیا کہ اگر یہ سب کچھ منصوبہ بندی تھی تو پھر اس پر ہو بہو عملدرآمد کیوں نہ ہو سکا؟ ’’انجانے‘‘ نے، جانے نہ جانے انداز میں جواب دیا کہ اس کی وجہ نونی آہ وزاری اور ناراضی تھی، راولپنڈی کے نونی سینیٹر ناصر بٹ نےتو برملا کہہ دیا کہ نونی حکومت کیخلاف پھر سے سازش شروع ہو چکی ہے، نونی بڑوں کے نہ صرف کان کھڑے ہوئے بلکہ سرخ ہوتے ہوئے نظر آئے بس پھر کیا تھا پلان پر نظرثانی کر کے قافلے کا رخ الشفا کی بجائے پمز کی طرف کر دیا گیا۔
نونی سیانے نے اس سازش کو بھول چوک کا نام دیدیا جبکہ سازشی ’’انجانے‘‘ اسے عارضی وقفے کا نام دے رہے ہیں۔ انصافی بیگانے سوچتے ہیں کہ مزید پیشکشیں بھی آئیں گی، اگر اس دفعہ عملدرآمد نہیں ہوا تو اگلی دفعہ عمل درآمد بھی ہوگا۔زیرِ بحث ’’ہونی‘‘ یا ’’چن چڑھنے‘‘ میں مارگلہ کی سب سے اونچی چوٹی پر براجمان پپلی دیوانے کا اہم ترین کردار ہے، سنا گیا ہے وہ اقتدار چھوڑ کر گھر جانے کو تیار بیٹھا ہے۔ ’’صحافی مستانے‘‘ نے عجیب بات سنائی، کہا کہ اہل پنجاب بہت عقلمنداور زندگی پرست ہیں اپنے حال اور زندگی کی خوشحالی اور ترقی کیلئے جان بھی قربان کر سکتے ہیں مگر سندھی اور بلوچ موت پرست ہیںوہاں موت کی روایات پر بہت فخر کیا جاتا ہے اور سوچا جاتا ہے کہ کون کیسے مرا؟ اکبر بگٹی نے اپنے لئے سنہری موت (Golden death) کا انتخاب خود کیا تھا۔ پپلی دیوانہ ویسے تو سیاسی شطرنج کا کھلاڑی اور طاقت کے میدان کا جواری ہے مگر اس بلوچ کے اندر ایک دیوانہ بھی تو چھپا بیٹھا ہے جو اچانک گنجے سر پر سندھی ٹوپی رکھ کر اکبر بگٹی کی طرح سنہری موت کا انتخاب کرسکتا ہےکیونکہ وہ عام آدمی کی طرح نوابشاہ کے قبرستان میں حاکم علی زرداری اور اپنی والدہ کے ہمراہ لحد نہیں اترنا چاہتا، وہ خواہشمند ہے کہ ایسے مرتبے پر فائز ہوجائے کہ سندھ کی شہید رانی بے نظیر بھٹو اور سندھ ساگر کے راجہ ذوالفقار علی بھٹو کی گڑھی خدا بخش قبرستان میں ہمراہی پا سکے۔ ’’صحافی مستانہ‘‘ اس طرح کی ڈینگیں مارتا رہتا ہے ہو سکتا ہے یہ بھی ایک ڈینگ ہو پپلی دیوانہ اتنا بھی دیوانہ نہیں، باقاعدہ دنیا دار ہے، آرام اور اعلیٰ سہولتوں کا عادی ہو چکا ہے سنہری موت کا راستہ ابتلا اور جیلوں سے ہو کر گزرتا ہے، پپلی دیوانہ اب ان مرحلوں سے گزر ہی نہیں پائے گا۔
’’مستانہ صحافی‘‘ چونکہ مست ہے اسلئے اکثر مستیاں کرتا رہتا ہے آج کل کہہ رہا ہے ’ہونی‘ ہونیوالی ہے،چن چڑھنے والا ہے، ری سیٹ ایجنڈا رکے گا نہیں یہ چلتا رہے گا ،کوئی مانےنہ مانےکوئی نہیں مانتا تو جہاں جانا ہے وہاں جائے۔ کٹاکھل چکا ہے، اگلے چند دنوں میں کٹا سربازار دیدار کرائے گا ،ملکی ترقی کیلئے ری سیٹ ہوگا، نئے صوبے بھی بنیں گے، مرکز کا مالیاتی حصہ بھی بڑھے گا ، وہ سب کچھ ہو گا جو ہونی میں لکھا ہے، سب دستاویزات تیار ہیں، منصوبے سوچے جا چکے ہیں ،ضلعی معیشت پر دھڑا دھڑ کام ہو رہا ہے، اس سال اصلاحات شروع ہوں گی اور اگلے سال ان پر مکمل عملدرآمد شروع ہو جائے گا۔ ’’مستانے‘‘ سے پوچھا گیا کہ ری سیٹ (Re-set) میں خدشات (Risks) بہت ہیں، سندھ میں خون بہہ سکتا ہے، بلوچستان میں علیحدگی کو فروغ مل سکتا ہے، پختونخوا میں بدامنی بڑھ سکتی ہے اور پنجاب میں قوم پرستی جاگ سکتی ہے تو ’’مستانے صحافی‘‘ نے جواب دیا کہ اندیشے کے ڈر سے ملکی ترقی کے منصوبے ترک نہیں کئے جا سکتے۔ ہونی، ہونے کو ہے گھوڑے کو ایڑ لگ چکی اب اسے روکا نہیں جاسکتا !!!