سکھر (بیورو رپورٹ) جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ ظلم کرنیوالی حکومت سے عدل کی توقع کیسی؟ غلط ریاستی پالیسی کی مخالفت کریں گے، ہندوستان چوتھی معیشت بن گیا، ہم کہاں کھڑے ہیں، محاسبہ کریں؟ انا کا مسئلہ نہ بنائیں،حکمران اپنی پالیسیوں اور سمت کا ازسرنو جائزہ لے کر فوری اصلاح کریں۔ عوامی رائے نظر انداز کرکے جبری فیصلے مسلط کئے تو اس کا رد عمل آئے گا. جبر ٹھیک نہیں۔ کیا یہ ملک صرف تمہارا ہے؟ ہمارا بھی ہے. آپ سے وفاداری کا سرٹیفکیٹ نہیں لینا چاہتے، اپنا قبلہ درست کرو ،ہماری جماعت آپ کی رائے نہیں مانتی تو غدار ٹھہری؟۔ وہ سکھر میں جے یو آئی سندھ کی مجلس عمومی کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا آئین واضح کہتا ہے کہ پارلیمنٹ سپریم ہے لیکن پارلیمنٹ بھی تو دھاندلی سے نہ بنی ہو. محصولات میں صوبوں کا حصہ اور ذخائر پر صوبوں کا حق، یہ دو باتیں برداشت نہیں ہورہی۔ صوبوں کی بات چھیڑ دی اور تیاری ہے نہیں، اس لئے مخالفت کرتا ہوں۔ ماں کا کام بچوں کو آپس میں لڑانا نہیں ہوتا، صوبوں کے نام پر عوام کو لڑانے کے علاوہ آپ کے پاس کیا ہے؟۔ ریاست قوم میں شعور پیدا کرتی ہے، بد قسمتی سے ہماری ریاست شعور چھیننا جانتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل سپریم کورٹ نے ختم نبوت سے متعلق قرآن اور حدیث ایسے کوڈ کئے جس سے علما متفق نہیں اور کورٹ پھنس گئی۔ ہمارے ملک میں قانون کی تعلیم میں قرآن و حدیث کا کوئی حصہ نہیں رکھا گیا۔