• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی: ملیر سٹی میں پولیس کی مبینہ حراست میں نوجوان جاں بحق

کراچی کے علاقے ملیر سٹی میں پولیس کی مبینہ حراست میں نوجوان جاں بحق ہوگیا۔

اہل خانہ نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے گرفتار کیا اور تھانے میں کرنٹ لگا کر مار دیا۔

دوسری جانب ایس ایس پی ملیر کا کہنا ہے کہ چھاپہ کسی اور کے لیے مارا گیا تھا جبکہ مرنے والا نوجوان پولیس کو دیکھ کر بھاگا اور اس دوران اسے کہیں کرنٹ لگا واقعے کی انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔

ملیر سٹی کے رہائشی ارشاد نامی نوجوان کے اہل خانہ نے ملیر سٹی پولیس پر الزام عائد کیا کہ پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور ارشاد کو گرفتار کرکے تھانے لے گئے جہاں اس پر تشدد بھی کیا گیا اور کرنٹ دے کر مار دیا گیا ارشاد طالب علم تھا اور اپنی پڑھائی مکمل کر رہا تھا۔

واقعے کے خلاف اتوار کی دوپہر پریس کلب کے باہر مظاہرہ بھی کیا گیا اس سلسلے میں جیو نیوز سے ٹیلی فونک گفتگو میں ایس ایس پی ملیر عبدالخالق شیخ نے بتایا کہ پولیس نے ملیر سٹی کے علاقے لاسی گوٹھ میں ارشد نامی منشیات فروش کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا جوکہ پکڑا بھی گیا تھا اسی دوران ارشاد پولیس کو دیکھ کر بھاگ گیا۔

پولیس اہلکاروں کو علاقہ مکینوں نے بتایا کہ دوسری گلی میں ایک شخص گرا ہوا ہے، جس پر پولیس اہلکار وہاں پہنچے اور اس شخص کو اٹھا کر جناح اسپتال منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد بتایا کہ وہ اسپتال پہنچنے سے قبل دم توڑ گیا ہے اور اس کی ہلاکت کرنٹ لگنے سے ہوئی ہے اس کے ہاتھ پر کرنٹ لگنے کا نشان بھی تھا۔

ایس ایس پی نے مزید کہا کہ واقعے کی انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے اور ایس پی ملیر کو انکوائری افسر مقرر کیا گیا ہے، انکوائری رپورٹ میں جو بھی ذمے دار نکلا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

قومی خبریں سے مزید