اگرچہ میرا تعلق ایک کشمیری خاندان سے ہے، مگر میں لاہور، پنجاب میں پیدا ہوا اور اپنی زندگی کا بیشتر حصہ پنجابیوں کے درمیان گزارا، لاہور سے لے کر خلیجی اور مغربی شہروں تک جہاں یہ برادری اپنی جڑوں سے دور ایک نئی دنیا آباد کر چکی ہے۔ میں جہاں بھی گیا، ایک جملہ ہر جگہ میرے ساتھ رہا۔شاید ہی کوئی فقرہ کسی قوم کے جذباتی مزاج کو اتنے مکمل انداز میں بیان کرتا ہو جتنا "جی آیاں نوں"۔ اس کا لفظی ترجمہ عموماً خوش آمدیدکیا جاتا ہے، مگر یہ ترجمہ اس کی گرم جوشی کا حق ادا نہیں کرتا۔ یہ فقرہ محض کسی کی آمد کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ اس کا جشن مناتا ہے، مہمان کو احساس دلاتا ہے کہ اس کی موجودگی اہمیت رکھتی ہے۔
یہ فقرہ محض ایک رسمِ استقبال نہیں بلکہ سخاوت، کھانے پینے اور انسانی رشتوں پر مبنی ایک مکمل معاشرتی ضابطے کی نمائندگی کرتا ہے۔ لیکن اس کے پیچھے چھپی تاریخ ایک زیادہ پیچیدہ سبق بھی رکھتی ہے۔ پنجاب کی کشادہ دلی نے غیر معمولی مہمان نوازی کو جنم دیا، مگر صدیوں تک مسافروں، حملہ آوروں اور بدلتے حکمرانوں کو خود میں سمو لینے کی اسی روش نے شاید طاقت کا مقابلہ کرنے کے بجائے اس سے مصالحت کا رجحان بھی پروان چڑھایا۔
پنجاب طویل عرصے سے تہذیبوں کا سنگم رہا ہے، جو وسطی ایشیا، ایران، افغانستان اور برصغیر کے درمیان واقع ہے۔ اس کی سڑکوں، دریاؤں اور زرخیز میدانوں نے اسے خوشحال بھی بنایا اور غیر محفوظ بھی۔ ایسے خطے میں اجنبی کا استقبال محض شائستگی نہیں بلکہ بقا اور معاشرتی وقار سے جڑا معاملہ تھا۔اس روایت کو روحانی اور ثقافتی قوتوں نے مزید تقویت بخشی۔ صوفی درگاہوں نے زائرین اور غریبوں کو بلا امتیاز خوش آمدید کہا، اور پنجابی صوفی شاعری نے محبت اور عاجزی پر زور دیا۔ سکھوں کے ادارے لنگر نے مہمان نوازی کو ایک شہری فریضہ بنا دیا: گوردوارے میں داخل ہونے والا ہر شخص، خواہ اس کا مذہب یا حیثیت کچھ بھی ہو، برابری سے بیٹھ کر کھانا کھا سکتا تھا۔ دیہی زندگی، مشترکہ خاندان اور کھلے صحن نے بھی انہی اقدار کو مضبوط کیا۔
پنجابی جملہ’’جی آیاں نوں‘‘یعنی خوش آمدیداسی ماحول کا فطری نتیجہ ہے۔ کوئی ریکارڈ نہیں بتاتا کہ اسے سب سے پہلے کس نے استعمال کیا۔یہ گھروں، کھیتوں اور بازاروں کی روزمرہ گفتگو سے پروان چڑھا، یہی وجہ ہے کہ اس کی جذباتی طاقت کبھی کسی دربار یا حکمران کی ملکیت نہیں رہی یہ عام پنجابیوں کی میراث تھی۔ 1947ء کی تقسیم نے پنجاب کو سیاسی اعتبار سے دو حصوں میں بانٹ دیا، مگر اس کی ثقافتی یادداشت کو تقسیم نہ کر سکی۔ آج یہ لاہور، فیصل آباد اور سیالکوٹ سے لے کر لندن، ٹورنٹو اور دبئی تک سنائی دیتا ہے، جہاں یہ تارکینِ وطن کیلئے شناخت اور گھر کی یاد دہانی ہے۔تاہم پنجاب کی گہری تاریخ ایک زیادہ تنقیدی سوال بھی اٹھاتی ہے۔ وہی خطہ جس نے بار بار مسافروں کا استقبال کیا، اسی نے بار بار حملہ آور فوجوں اور نئے حکمران نظاموں کو بھی جذب کیا قدیم یلغاریں، ترک و افغان حملے، مغل اقتدار، سکھ راج اور برطانوی استعمار۔ پنجابیوں نے کئی طاقتوں کے سامنے حقیقی جرات سے مزاحمت بھی کی: اینگلو سکھ جنگیں، گورو گوبند سنگھ اور بندہ سنگھ بہادر کی جدوجہد، غدر تحریک، بھگت سنگھ کی انقلابی سیاست، اور بعد ازاں کسانوں کی تحریکیں ، یہ سب ثابت کرتی ہیں کہ پنجابی فطری طور پر کبھی بے حس نہیں رہے۔
اس کے باوجود، نئی طاقت کے مستحکم ہونے کے بعد اکثر مزاحمت کی جگہ مصالحت نے لے لی، اور یہ رویہ کمزوری کی بجائے جغرافیائی و معاشی مجبوریوں کا نتیجہ تھا۔ پنجاب کے ہموار میدانوں میں طویل گوریلا مزاحمت کیلئے پناہ گاہیں موجود نہیں تھیں، اور زمین سے بندھے کسان حکمرانوں کی تبدیلی پر پہاڑوں میں غائب نہیں ہو سکتے تھے۔ مصالحت اکثر اخلاقی کمزوری کے بجائے بقا کی عملی حکمتِ عملی تھی۔
نسلوں کے گزرنے سے یہی روش شاید سرپرستی کے نیٹ ورک اور برادری کی سیاست جیسے وسیع تر سیاسی رویوں کی تشکیل کا سبب بھی بنی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مہنگائی یا بدانتظامی پر پیدا ہونے والی مایوسی شاذ و نادر ہی کسی مسلسل اجتماعی تحریک کی شکل اختیار کرتی ہے۔ لوگ عموماً خاندانی سہارے، ہجرت، یا خاموش سمجھوتے کے ذریعے نجی طور پر نمٹنا پسند کرتے ہیں۔یہ بے حسی نہیں بلکہ ایک سیکھا ہوا احتیاطی رویہ ہے۔ مگر اس تحمل کی حدود بھی ہیں: جب زمین، روزگار یا ایمان کو وجودی خطرہ لاحق ہو جائے تو تحریک تیزی سے جنم لیتی ہے۔ 1907ء کی پگڑی سنبھال جٹا تحریک اس کی سب سے واضح مثال ہے، جب لائل پور (موجودہ فیصل آباد) کے کسانوں نے نوآبادیاتی زمین و پانی کے قوانین کے خلاف مزاحمت کی یہاں تک کہ وہ قوانین واپس لے لیے گئے۔قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس کے بعد یہ روش شاذ و نادر ہی دہرائی گئی۔ 1947ء کی تقسیم شاید وہ آخری واقعہ تھا جس نے پنجاب کو حقیقی وجودی خطرے سے دوچار کیا۔ بعد کے عشروں میں جنگیں، سیلاب، معاشی بحران اور سیاسی عدم استحکام جھیلنے کے باوجود کوئی بھی 1907ء جیسی منظم مزاحمت کو جنم نہ دے سکا۔سبق یہ نہیں کہ پنجابی معاشرے میں جرات کی کمی ہے، بلکہ یہ ہےکہ مزاحمت انہی لمحات کیلئےمخصوص رہی جب خطرہ واضح اور ناقابلِ تردید ہو، جبکہ عام سیاسی و معاشی تسلط کو زیادہ تر برداشت یا جذب کر لیا جاتا ہے۔اس سے ’’جی آیاں نوں‘‘ایک زیادہ گہرا اور پیچیدہ مفہوم اختیار کر لیتا ہے۔ یہ کھلے دل اور کھلے باورچی خانوں کے ساتھ دوسروں کا استقبال کرنے کی صلاحیت کی عکاسی کرتا ہے، مگر ساتھ ہی یہ نشاندہی بھی کر سکتا ہے کہ جو کچھ آئے اسے مقابلے کے بجائے جذب کر لیا جائے۔ مہمان اور حکمران ایک جیسے نہیں: ایک مہمان نوازی کا حقدار ہے، دوسرے کو جوابدہ رہنا چاہیے۔جدید پنجاب، اور وسیع تر معنوں میں پاکستان کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ اپنے استقبال کی گرم جوشی کو برقرار رکھتے ہوئے اسے اطاعت میں تبدیل نہ ہونے دیں، اور مصالحت کو شہری جرات کی جگہ نہ لینے دیں۔ ’’جی آیاں نوں‘‘ کو سخاوت اور وقار کی علامت بنا رہنا چاہیے، مگر جس قوم نے لنگر قائم کیے، اجنبیوں کو پناہ دی اور ایک سال طویل زرعی تحریک کو زندہ رکھا، اس میں یقیناً شہری جرات موجود ہے۔ اب ضرورت اس اعتماد کی ہے کہ بحران کے لمحات میں دکھائی گئی یہی جرات روزمرہ جوابدہی میں بھی منتقل ہو۔یہ ذمہ داری خاص طور پر پنجاب پر عائد ہوتی ہے۔ آبادی، سیاسی نمائندگی اور معاشی وزن کے اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی حیثیت سے پنجاب محض ملک کی عادات کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ انہیں تشکیل دیتا ہے، اسی لیے پنجابیوں پر لازم ہے کہ وہ یہ دکھائیں کہ مہمانوں کا دل و جان سے استقبال کرتے ہوئے بھی طاقت کو اپنی حدود کا پابند کیسے رکھا جاتا ہے۔
شاید پنجاب کو ایک ہی سانس میں دو باتیں سمجھنی ہوں گی: مہمان کا خیرمقدم بھی اور طاقت کی حد بندی بھی۔ ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں اتنی سخاوت رکھنے والی قوم جب چاہے اتنی ہی سختی بھی دکھا سکتی ہے۔ یہی امتزاج ایک پراعتماد پنجاب اور ایک پراعتماد پاکستان کی پہچان بن سکتا ہے، جہاں آگے بڑھتے ہوئے طاقت کو اپنی حدود جاننی ہوں گی۔