ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جنگ کو 6 ماہ گزرنے کے بعد عام ایرانیوں کی زندگی شدید مشکلات کا شکار ہو گئی ہے، جنگ، سخت پابندیوں، معاشی بدانتظامی اور بدعنوانی کے باعث مہنگائی میں اضافہ، آمدنی میں کمی اور بنیادی سہولتوں کی قلت نے عوام پر دباؤ بڑھا دیا۔
جنگ کا آغاز 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے ہوا تھا جن میں اس وقت کے رہبر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای، پاسداران انقلاب اور دیگر اہم اداروں کے کئی اعلیٰ عہدیدار شہید ہو گئے تھے، اس کے باوجود ایرانی حکومت برقرار رہی اور علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا رہبر منتخب کیا گیا تاہم حالیہ سپریم لیڈر مجتبیٰ علی خامنہ ای تاحال منظرِ عام پر نہیں آئے ہیں۔
عرب میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی حکام میں جنگ کے مستقبل کے حوالے سے اختلافات موجود ہیں، ایک حلقہ سفارتی حل چاہتا ہے جبکہ دوسرا امریکا کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا حامی ہے تاہم دونوں دھڑے اس بات پر متفق ہیں کہ امریکا اور اسرائیل کے سامنے کوئی پسپائی قبول نہیں کی جائے گی۔
ایران کے مطابق آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راستہ کھولنے کے لیے عمان سے مفاہمت ہوئی ہے تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اس انتظام کی مخالفت کر رہی ہے اور آبنائے ہرمز کو مکمل اور بلا رکاوٹ کھولنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
ایران کے جوہری پروگرام سمیت کئی اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں اور مذاکرات میں بھی تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی معیشت پہلے ہی کئی برسوں کی پابندیوں، بدانتظامی اور بدعنوانی سے متاثر تھی تاہم جنگ نے صورتحال مزید خراب کر دی ہے۔
ایرانی شماریاتی مرکز کے مطابق 22 اگست کو ختم ہونے والے ایرانی مہینے مرداد میں سالانہ مہنگائی 89 فیصد جبکہ اشیائے خورونوش کی مہنگائی 127 فیصد سے تجاوز کر گئی۔
تہران میں ایک ٹیکنالوجی کمپنی سے وابستہ 33 سالہ شہری نے عرب میڈیا کے رپورٹر سے گفتگو میں بتایا کہ تقریباً 3 سال قبل اس کی ماہانہ تنخواہ 1,000 ڈالرز سے زیادہ تھی لیکن اس کے بعد 3 مرتبہ تنخواہ بڑھنے کے باوجود اب اس کی آمدنی کی قدر 500 ڈالرز سے بھی کم رہ گئی ہے۔
ایرانی ریال بھی تاریخ کی نئی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے اور تہران کی کھلی منڈی میں ایک ڈالر کی قیمت 2.06 ملین ریال تک پہنچ گئی ہے۔
جنگ کے دوران تیل و گیس، پیٹرو کیمیکل، اسٹیل اور بجلی کے مراکز کے ساتھ گھروں، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان نے بحران مزید بڑھا دیا ہے۔
وسائل سے مالا مال ایران کو اب ایندھن اور بجلی کی بڑھتی ہوئی قلت کا سامنا ہے جبکہ سردیوں میں قدرتی گیس کی کمی کا بھی خدشہ ہے۔
ایرانی حکومت نے ذاتی گاڑیوں کے لیے ایندھن کا کوٹہ کم کر دیا ہے اور آئندہ ہفتوں میں پیٹرول کی قیمت بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکومت جنگ کے دوران قومی اتحاد کے پیغام پر زور دے رہی ہے لیکن ملک کے اندر سیاسی اور سماجی اختلافات نمایاں ہیں، صدر مسعود پزشکیان نے سرکاری ٹیلی وژن کو بتایا کہ حکومت شدید مالی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے، تیل فروخت کرنے میں دشواری ہے اور محصور عوام کے حالات بہتر بنانا مشکل ہو گیا ہے۔
ایران میں رواں ہفتے کئی کیفے، آئس کریم پارلر اور نجی آن لائن کاروبار مبینہ طور پر اسلامی قوانین اور سرکاری ضوابط کی خلاف ورزی پر بند کر دیے گئے۔
عرب میڈیا کے مطابق تہران کے شہریوں کا کہنا ہے کہ بیرونی دباؤ بڑھنے کے ساتھ حکومت اندرونی گرفت بھی مزید سخت کر دیتی ہے۔
عام ایرانیوں کے لیے مستقبل غیر یقینی، معاشی حالات پریشان کن اور روزمرہ زندگی مسلسل جدوجہد بن چکی ہے۔