• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

روزانہ سیڑھیاں چڑھنے سے دل کی بیماری سے موت کا خطرہ 39 فیصد تک کم ہوسکتا ہے، تحقیق


اگر آپ جسمانی طور پر فٹ رہنے والے لوگوں سے پوچھیں کہ وہ صحت مند رہنے کے لیے کیا کرتے ہیں تو ممکن ہے وہ کہیں کہ وہ گھنٹوں جم میں ورزش کرتے ہیں۔ لیکن ایک نئی تحقیق کے مطابق روزانہ سیڑھیاں چڑھنے کی عادت دل کی بیماری سے موت کے خطرے کو 39 فیصد تک کم کر سکتی ہے۔ 

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ روزانہ لفٹ یا ایسکلیٹر کے بجائے سیڑھیاں استعمال کرنے کی معمولی سی عادت بھی زندگی کو طول دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

برطانیہ کی یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا کے محققین نے اس حوالے سے 9 تحقیق سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا، جن میں 4 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد شامل تھے۔ 

محققین نے مجموعی طور پر دیکھا کہ جو لوگ باقاعدگی سے سیڑھیاں استعمال کرتے تھے، ان میں دل کی بیماری کے باعث موت کا خطرہ ان افراد کے مقابلے میں 39 فیصد کم تھا جو سیڑھیاں استعمال نہیں کرتے تھے۔

شرکا کا اوسطاً 14 سال تک جائزہ لینے کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ سیڑھیاں استعمال کرنے والوں میں کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ لفٹ استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 24 فیصد کم تھا۔

اس تحقیق میں شامل ماہر امراض قلب ڈاکٹر سوفی پیڈوک نے کہا کہ ہم نے سیڑھیاں چڑھنے اور دل کی بیماری کے باعث موت سمیت مجموعی طور پر موت کے کم خطرے کے درمیان مسلسل تعلق پایا۔ انہوں نے کہا کہ جم جانے یا باقاعدہ ورزش کرنے کے برعکس سیڑھیاں چڑھنا ایک ایسی سرگرمی ہے جسے گھر، دفتر یا باہر روزمرہ زندگی میں باآسانی شامل کیا جا سکتا ہے۔ 

انکا مزید کہنا تھا کہ اگر آپ کے سامنے سیڑھیاں اور لفٹ میں سے کسی ایک کا انتخاب ہو تو سیڑھیوں کا انتخاب کریں۔ جسمانی سرگرمی کے مختصر دورانیے بھی دل کی صحت پر مثبت اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ محققین نے یہ واضح نہیں کیا کہ دل کی صحت کے فوائد حاصل کرنے کے لیے کسی شخص کو کتنی بار سیڑھیاں چڑھنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

تاہم ان کے جائزے میں شامل ایک بڑے تجزیے کے مطابق روزانہ تقریباً چھ منزلیں، یعنی تقریباً 60 سیڑھیاں چڑھنا دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ محققین کی سابقہ تحقیق میں بھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ روزانہ صرف چند منٹ سیڑھیاں چڑھنے سے بلڈ پریشر جیسے دل کی بیماری کے خطرے والے عوامل کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

سیڑھیاں چڑھتے وقت جسم کے پٹھوں کو عام چلنے کے مقابلے میں زیادہ طاقت استعمال کرنا پڑتی ہے تاکہ جسم کو زمین سے اوپر اٹھایا جا سکے۔

اس عمل کے دوران جسم تیزی سے توانائی خرچ کرتا ہے، جس کے نتیجے میں دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے تاکہ جسم کو اضافی آکسیجن اور غذائی اجزا فراہم کیے جا سکیں۔ محققین کے مطابق دل کی سرگرمی میں یہ اچانک اضافہ دل کی صحت کو بہتر بنا سکتی ہے اور دل سے متعلق مسائل کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

امریکن جرنل آف کارڈیو ویسکیولر ڈرگز میں شائع ہونے والے اس تجزیے میں شامل افراد کی عمریں اوسطاً 35 سے 84 سال کے درمیان تھیں۔ شرکا میں نصف خواتین تھیں اور ان کا اوسطاً 14 سال تک جائزہ لیا گیا۔

مختلف مطالعات میں سیڑھیاں استعمال کرنے کی عادت کو مختلف طریقوں سے جانچا گیا۔ بعض تحقیق میں شرکا سے پوچھا گیا کہ وہ بغیر آرام کیے کتنی منزلیں چڑھ سکتے ہیں، جبکہ دیگر میں یہ معلوم کیا گیا کہ وہ ایک مخصوص مدت کے دوران کتنی منزلیں چڑھے۔

امریکا میں دل کی بیماری موت کی سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہے اور تقریباً ہر 34 سیکنڈ میں ایک شخص اس کے باعث جان کی بازی ہارتا ہے۔ زیادہ وزن یا موٹاپا، ہائی بلڈ پریشر، جسمانی سرگرمی کی کمی اور ضرورت سے زیادہ شراب نوشی دل کی بیماری کے خطرے کو بڑھانے والے اہم عوامل ہیں۔ 

محققین کا کہنا ہے کہ دل کی بیماری سے بچاؤ بڑی حد تک ممکن ہے، جس کے لیے سگریٹ نوشی سے گریز، کولیسٹرول کی سطح کو کم رکھنا، صحت مند غذا کا استعمال اور باقاعدہ ورزش ضروری ہے۔

اس تحقیق کی سربراہ ماہر امراض قلب ڈاکٹر واسیلیوس واسیلیو نے کہا سیڑھیاں چڑھنا روزمرہ زندگی میں جسمانی سرگرمی شامل کرنے کا ایک عملی اور اکثر نظر انداز کیا جانے والا طریقہ ہے۔ اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دل کی بیماری سے بچاؤ میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

صحت سے مزید