دنیا کے سب سے حساس خطوں میں شمار ہونےوالے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت، سلامتی اور اتحادوں کی پرانی ترتیب تیزی سے بدل رہی ہے۔ ایسے ماحول میں ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کا مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدہ محض تین ممالک کے درمیان ایک دفاعی دستاویز نہیں، بلکہ علاقائی سلامتی کے ایک نئے تصور کی بنیاد رکھنے کی کوشش ہے۔ استنبول میں مکہ دفاعی اتحاد کی اسٹرٹیجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس اسی عمل کا اگلا اور شاید زیادہ اہم مرحلہ ہے، کیونکہ کسی بھی اتحاد کی اصل طاقت اس کے اعلان میں نہیں بلکہ اسکے ادارہ جاتی ڈھانچے، مشترکہ حکمتِ عملی اور عملی صلاحیت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔مکہ دفاعی اتحادکی اسٹرٹیجک،سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور سربراہانِ افواج کی شرکت اس امر کی علامت ہے کہ اتحاد کو سیاسی سطح کے ساتھ ساتھ دفاعی اور عسکری سطح پر بھی سنجیدگی سے آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اجلاس کا بنیادی سوال یہ نہیں کہ تینوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہتے ہیں یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ اس تعاون کو کس ادارہ جاتی اور عملی نظام میں تبدیل کیا جائےگا۔یہی وجہ ہے کہ اتحاد کیلئے ضابطۂ کار یا بنیادی آئینی فریم ورک کی تیاری، کمیٹی کے مستقبل میں کام کرنے کا طریقۂ کار، اجلاسوں کے اوقات اور وقفے، اور رہنماؤں کے باہمی اجلاسوں کی نوعیت جیسے معاملات غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ بظاہر یہ انتظامی نوعیت کے موضوعات ہیں، لیکن حقیقت میں یہی وہ عناصر ہیں جو کسی بھی بین الاقوامی اتحاد کو پائیدار بناتے ہیں۔مستقل سیکریٹریٹ کا سعودی عرب میں قیام بھی اسی ادارہ جاتی سوچ کا حصہ ہے۔ اگر سیکریٹریٹ کو مؤثر انتظامی، رابطہ کاری اور نگرانی کا کردار دیا جاتا ہے تو اسکے ذریعے کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد، مختلف وزارتوں اور عسکری اداروں کے درمیان رابطہ اور مشترکہ منصوبوں کی پیش رفت کی نگرانی ممکن ہوگی۔
مکہ دفاعی اتحاد کی سب سے اہم خصوصیت اس کی دفاعی نوعیت ہے۔ معاہدے میں یہ اصول شامل ہے کہ تینوں رکن ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ شق اجتماعی دفاع کے تصور کو واضح کرتی ہے اور اسی لیے اس کا موازنہ نیٹو کے آرٹیکل 5 سے کیا جا رہا ہے۔
اس اتحاد کی حقیقی آزمائش Interoperability یعنی تینوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان باہمی عملی ہم آہنگی ہوگی۔ مشترکہ دفاعی معاہدہ کرنا نسبتاً آسان ہے، لیکن مختلف عسکری ڈھانچوں، تربیتی نظاموں، ہتھیاروں، مواصلاتی ذرائع اور آپریشنل طریقۂ کار رکھنے والی افواج کو ایک دوسرے کے ساتھ مؤثر انداز میں کام کرنے کے قابل بنانا ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہے۔ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے بھی اسی پہلو کو اہم قرار دیا ہے۔ انکے نزدیک مشترکہ کارروائیوں کی صلاحیت، باہمی تربیت، لاجسٹکس، خطرات کا تجزیہ، انٹیلی جنس کا تبادلہ اور دفاعی صنعت میں تعاون اس اتحاد کو عملی طاقت فراہم کر سکتے ہیں۔ اگر ان شعبوں میں مستقل بنیادوں پر تعاون بڑھتا ہے تو مکہ دفاعی اتحاد ایک علامتی سیاسی بندوبست کے بجائے حقیقی دفاعی شراکت داری میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
دفاعی صنعت اس شراکت داری کا شاید سب سے اہم طویل المدت ستون بن سکتی ہے۔ ترکیہ کی تیزی سے ترقی کرتی دفاعی صنعت، پاکستان کا عسکری تجربہ اور سعودی عرب کی مالی و صنعتی صلاحیتیں ایک دوسرے کیلئے تکمیلی حیثیت رکھتی ہیں۔ مشترکہ پیداوار، تحقیق و ترقی اور دفاعی ٹیکنالوجی میں تعاون تینوں ممالک کو نہ صرف دفاعی خود انحصاری کی طرف لے جا سکتا ہے بلکہ ایک نئی علاقائی دفاعی صنعتی زنجیر بھی تشکیل دے سکتا ہے۔تاہم مکہ دفاعی اتحاد کی اہمیت صرف دفاعی معاملات تک محدود نہیں۔ موجودہ علاقائی صورتحال میں آبنائے ہرمز، بحیرۂ احمر، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی، حوثی حملوں سے بحری راستوں کو لاحق خطرات، اسرائیل کی علاقائی پالیسی اور غزہ امن معاہدے کے دوسرے مرحلے کی پیچیدگیاں ایسے عوامل ہیں جو تینوں ممالک کی سلامتی اور اقتصادی مفادات کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔اسی لیے مکہ دفاعی اتحاد کو ایک ایسے علاقائی پلیٹ فارم کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے جو سلامتی کے مسائل کو محض عسکری طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ تعاون، سفارت کاری اور مشترکہ ذمہ داری کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرے۔ ترکیہ کی جانب سے اس بات پر زور کہ اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں اور خطے کے وہ تمام ممالک جو خودمختاری، علاقائی سالمیت اور عدم مداخلت کے اصولوں کا احترام کرتے ہیں۔جہاں تک اس اتحاد کی توسیع معاملہ ہے یہ ایک حساس معاملہ ہے۔ اگر اتحاد بہت تیزی سے وسیع کیا گیا تو اس کی فیصلہ سازی پیچیدہ ہوسکتی ہے، جبکہ محدود رکنیت اسے زیادہ مربوط اور مؤثر بنا سکتی ہے۔ اسی لیے فیدان کا یہ مؤقف قابلِ توجہ ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب بانی اور مرکزی ارکان کی حیثیت برقرار رکھیں، جبکہ ان کی منظوری سے دیگر ممالک کو شامل کیا جاسکے۔حاقان فیدان کا یہ کہنا کہ اتحاد کے نتیجے میں خطے میں غیر یقینی صورتحال کم اور استحکام میں اضافہ ہوگا، دراصل اس منصوبے کی بنیادی سیاسی منطق کو بیان کرتا ہے۔ تاہم یہ مقصد صرف اعلانات سے حاصل نہیں ہوگا۔ اس کیلئے مستقل ادارے، واضح قواعد، مشترکہ مشقیں، قابلِ اعتماد رابطہ نظام، دفاعی منصوبہ بندی، انٹیلی جنس تعاون اور مشترکہ صنعتی منصوبے درکار ہونگے۔چنانچہ استنبول کا پہلا اجلاس ایک نقطۂ آغاز ہے، اختتام نہیں۔ اگر طے کیے جانے والے ادارہ جاتی اصول عملی شکل اختیار کرتے ہیں، مستقل سیکریٹریٹ مؤثر ثابت ہوتا ہےاور تینوں ممالک سیاسی عزم کو عسکری و صنعتی تعاون میں تبدیل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں تو مکہ دفاعی اتحاد مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر مسلم دنیا میں علاقائی سلامتی کے تصور کو نئی سمت دے سکتا ہے۔مکہ سے استنبول تک کا سفر دراصل ایک معاہدے سے ایک ادارے اور ایک سیاسی عزم سے ایک عملی سلامتی کے نظام تک پہنچنے کا سفر ہے۔ اس اتحاد کی کامیابی کا فیصلہ آنے والے برسوں میں ہوگا، لیکن ایک حقیقت آج واضح ہے: ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب نے خطے کی سلامتی کو دوسروں کے فیصلوں کا محض موضوع بنانے کے بجائے اپنے مشترکہ مفادات اور علاقائی ذمہ داری کی بنیاد پر ایک نیا راستہ تلاش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اگر یہ راستہ ادارہ جاتی تسلسل، باہمی اعتماد اور عملی تعاون کے ساتھ آگے بڑھتا ہے تو مکہ دفاعی اتحاد صرف تین ممالک کا دفاعی بندوبست نہیں رہے گا بلکہ بدلتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں علاقائی ملکیت، اجتماعی سلامتی اور تعاون پر مبنی نئی تزویراتی سوچ کی ایک نمایاں مثال بن سکتا ہے۔