روشنیوں کے شہر کی ایک اور روشنی بجھ گئی۔
شہر قائد کی ایک توانا آواز ہمیشہ کیلئے خاموش ہو گئی۔
وضعداری کی روشن روایتوں میں سے ایک روایت رخصت ہو گئی۔ پوری طاقت، مکمل اعتماد، بھرپور یقین، بلا خوف، شعور کیساتھ ہر مقام پر اس شہر، اس صوبے، اس ملک کی بہتری اور استحکام کیلئے صدا بلند کرنیوالا یحییٰ پولانی چلا گیا۔ آج کی نفرتوں، کشیدگی بدگمانی اور نفسا نفسی کے دور میں تو ایسی ہستیوں کی بہت ضرورت ہوتی ہے لیکن ایسے حلیم الطبع مگر دبنگ لوگ موجودہ منافقت مزاج ماحول سے بیزار بھی ہو جاتے ہیں۔ سچ کاشت کرنے والوں کیلئے جھوٹ کی فصل کاٹنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ میمن برادری میں ایک سناٹا ہے۔ کھارادر، میٹھادر، رنچھوڑ لائن، جوبلی، دھوراجی میں در و دیوار پر اداسی بال کھولے سو رہی ہے۔ رات کے تین بجے تھے ۔موبائل کی اسکرین پر روشنی جگمگائی۔ خواجہ جہاں زیب کے واٹس ایپ نے اطلاع دی کہ ٹریول دنیا کی ایک متحرک فعال ہستی دنیا سے ابدی سفر پر روانہ ہو گئی ہے۔ پھر سب اسکرینوں پر اندھیرا پھیلتا چلا گیا۔ بہت کچھ یاد آرہا تھا۔ صرف فضائی سفر کے حوالے سے نہیں بلکہ کراچی کو کراچی بنانیوالی برادریوں ،کاروباری حلقوں میں اتحاد پیدا کرنیوالوں ،کراچی چیمبر آف کامرس میں صنعتکاروں ،تاجروں میں قربتیں مستحکم کرنیوالوں کی میٹنگیں یاد آنے لگیں۔ آزادی اظہار کیلئے درد مندی کے واقعے بھی ذہن کے پردے پر لہرانے لگے۔ انکے دوپہر کے دسترخوان پر شہر کی منتخب روزگار ہستیاں مدعو بھی ہوتی تھیں اور یہ صلائے عام بھی تھا۔ دنیا بھر کے حالات پر کھل کر باتیں ہوتی تھیں۔ ملک میں سیاحت کے فروغ کیلئے بھی کتنی نشستیں رسمی غیر رسمی منعقد ہوتی رہتی تھیں۔
میری کم از کم چھ دہائیوں سے یہ کوشش بلکہ دلی خواہش رہی ہے کہ پاکستان میں سیاحت کے حوالے سے جتنے اثاثے اور امکانات ہیں اگر سرکار اور اہلِ کاروبار ملکر اس شعبے کو سنبھال لیں تو ہمارے سارے اقتصادی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان میں سب سے زیادہ فقدان لسانی نسلی اور قبائلی ہم آہنگی کا ہے۔ اسی لئے اب تک ہم ایک قوم نہیں بن پائے ۔پاکستانیت کا جذبہ ابھی تک پختگی حاصل نہیں کر سکا۔ موجودہ پاکستان میں جو چار صوبے اور دو وحدتیں شامل ہیں ان سب کا اپنا اپنا شاندار ماضی ہے۔ علم و حکمت ثقافت و ادب تصوف و تصرف کے بیشتر خزانے ہیں۔ ہر علاقے کی اپنی اپنی صدیاں ہیں۔سیاحت پاکستان میں تاریخی بھی ہے روحانی بھی،تفریحی بھی، علمی بھی، تحقیقی بھی اور کوہ پیمائی بھی۔ اگر ہم سب مل کر ملکی سیاحت کیلئے منصوبہ بندی کریں اور قواعد و ضوابط مرتب کریں اور یہ کوشش کی جائے کہ ہماری ہر نسل اپنا ملک دیکھے جس میں وہ چاہے اپنی مرضی سے شامل ہوئی ہے یا صرف پیدا ہونے سے وابستگی ہے۔ وہ اگر ملک کے ہر حسین گوشے کو دیکھے گی ،جانے گی ،چہروں کی مسکراہٹیں ملاحظہ کریگی تو صوبوں کے درمیان دوریاں محو ہو جائیں گی۔گریز کے بجائے نوجوانوں کو پاکستان سے وابستگی پر فخر ہوگا۔یحییٰ پولانی اس جذبے سے سرشار تھے۔ ہمارے بہت سے نوجوانوں کو اپنے خوابوں کی تعبیر ان کے ہاتھوں سے ملی۔ اردو سے اور اردو کے سب سے بڑے اخبار روزنامہ جنگ سے تو ان کی قلبی الفت تھی۔ یہ رشتہ نسل در نسل چلتا رہتا ہے۔ ان کے والد محترم صدیق پولانی کے ہاں بھی محبت اسی شدت کی تھی۔ امید ہے کہ اب یہی جذبہ آئندہ نسلوں میں بھی ملے گا۔ اردو زبان کیلئے احترام حد درجہ تھا۔ اپنی گفتگو میں بعض اشعار کا بھی ورد ہو جاتا تھا ۔یہاں ان کو یاد کرتے وقت ان کے عشق رسولﷺ کا حوالہ بھی ناگزیر ہے ۔
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
عشق نبی ﷺ کا ذکر مبارک ہو تو الحاج حنیف بلو کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔مفتی منیب الرحمن سے نیاز مندی بھی یاد آ جاتی ہے۔ سردار یاسین ملک بھی عشق نبیﷺ سے سرشار ان محفلوں میں شریک ہوتے رہے ہیں ۔حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سمندروں سے گہری عقیدت میمن برادری کا موروثی اثاثہ ہے۔یحییٰ پولانی بھی اس میں پیش پیش رہتے تھے۔
میمن برادری زیادہ تر کاروباری کہلاتی ہے۔ تاریخ پاکستان پر نظر رکھنے والے میمن برادری کی پاکستانی معیشت کے استحکام کیلئے بنیادی خدمات کو فراموش نہیں کر سکتے۔ اقتصادیات کے ہر شعبے میں بینکوں سے لے کر ٹیکسٹائل ڈیزائن فیشن، اب انفارمیشن ٹیکنالوجی، فارمیسی، ٹریول، آٹو انڈسٹری ، فوڈ انڈسٹری اور چھوٹے پیمانے کی صنعتوں میں یہ برادری سب سےآگےآگے رہتی ہے۔ فلاحی خدمات میں بھی ایدھی، چھیپا، عالمگیر اور بہت سے ادارےعلم بردار ہیں۔اسٹاک ایکسچینج میں عارف حبیب اور زیادہ تر میمن برادری کے نمایاں لوگ ہی ہیں۔ اب عارف حبیب صاحب قومی پرچم بردار ایئرلائن کی بھی عظمت بحال کرنا چاہتے ہیں۔
سندھ مدرسۃ الاسلام سے دیوار با دیوار ہمسایہ پولانی ٹریولز میں جب بھی جانا ہوتا تو ایک زندگی حرکت میں نظر آتی۔ اللہ تعالی کی طرف سے یہ کرم ہوتا ہے کہ ایک شخص اپنا حق عبودیت بھی ادا کر رہا ہو اسکے محبوب سے بھی وفا کر رہا ہو اور اللہ کے بندوں کے دکھ درد میں بھی شریک ہو۔ میمن برادری کے ہر قابلِ فخر فرزند کی طر ح یحییٰ پولانی بلا تخصیص برادری نادار اور مستحق خاندانوں کی کفالت بھی رضا کارانا سنبھالے ہوئے تھے۔ ادب، ثقافت سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات بتا سکتے ہیں کہ کتابوں کی رونمائی ،ضرورت مند اہل قلم اور فنکاروں کی مالی سرپرستی میں انکا خاموشی سے بہت اہم کردار تھا۔
ایک معاشرے کی درست سمت میں پیش قدمی میں کاروباری حلقوں کا اپنا ایک تعمیری حصہ نظر آتا رہا ہے۔ ٹریول کی دنیا میں مجھے الحاج فضل احمد کشمیر والا یاد آتے ہیں۔ ان کی تلوار بدست سفید لباس میں تصویریں۔ اخبارات میں ان کی جانب سے ہر اہم عالمی ملکی واقعے پر اشتہارات۔ وہ پاکستانی ٹریول کاروبار کے بانیوں میں سے تھے۔ جبار خمیسانی بھی یاد آتے ہیں۔ رفیق خان صاحب تو اب بھی یہ گراں قدر خدمات جاری رکھے ہوئے ہیں ۔یحییٰ پولانی ایک وضع دار اور قابل قدر روایات کے امین کے طور پر دلوں میں روشن شمع بن کر جگمگاتے رہیں گے۔ اللّٰہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے اور انکے ورثا کو ان کے راستے پر چلنے کی توفیق دے۔ المیہ یہ ہے کہ پاکستان کو مستحکم فلاحی معاشرہ دینے میںیحییٰ پولانی اور انکے ہم عصروں کا جو ہمہ جہت کردار رہا ہے۔ حالات کا جبران کی اولادوں کو انکے راستے پر پوری طرح چلنے نہیں دیتا ہے ۔اسی لئے پاکستان کا معاشرہ اب پہلے کی طرح دوست دارانہ، مشفقانہ اور حرف پرور نہیں رہا ہے۔