• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انگلینڈ: ذہنی بحران کے شکار اسپتال لائے جانیوالے بچوں میں 36 فیصد اضافہ

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

انگلینڈ میں ذہنی صحت کے بحران کا شکار بچوں اور نوجوانوں کی اسپتالوں کے ایمرجنسی شعبوں میں آمد میں تشویش ناک اضافہ سامنے آیا ہے۔

رائل کالج آف پیڈیاٹرکس اینڈ چائلڈ ہیلتھ کے نئے تجزیے کے مطابق 2025ء میں 6 سے 17 سال کی عمر کے 75,000 سے زائد بچے اور نوجوان ذہنی صحت سے متعلق مسائل کے باعث ایمرجنسی شعبوں میں پہنچے، یہ تعداد 2019ء کے مقابلے میں 36 فیصد زیادہ ہے۔

قومی ادارۂ صحت سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق سب سے زیادہ اضافہ 6 سے 9 سال کی عمر کے بچوں میں ہوا۔

جذباتی بحران، خود کو نقصان پہنچانے اور کھانے  پینے سے متعلق عوارض کے باعث ایمرجنسی میں آنے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ مجموعی عمومی ایمرجنسی آمد کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہا جبکہ اسی عرصے میں ایمرجنسی شعبوں میں مجموعی مریضوں کی تعداد صرف 8 فیصد بڑھی۔

رپورٹ کے مطابق 6,200 سے زائد یعنی تقریباً 8 فیصد بچے ایمرجنسی میں مناسب ذہنی صحت کی مدد یا محفوظ جگہ ملنے کے لیے 12 گھنٹے سے زیادہ انتظار کرتے رہے، بعض بچوں کو نفسیاتی مدد یا بستر دستیاب ہونے تک 72 گھنٹے سے بھی زائد انتظار کرنا پڑا۔

ماہرین کے مطابق ڈاکٹر، پولیس، والدین اور نگہداشت کرنے والے افراد اکثر ایسے بچوں کو ایمرجنسی شعبوں میں لانے پر مجبور ہوتے ہیں کیونکہ کمیونٹی سطح پر بروقت مدد فراہم کرنے والا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔

رائل کالج آف پیڈیاٹرکس اینڈ چائلڈ ہیلتھ کے ذہنی صحت سے متعلق عہدیدار ڈاکٹر سیم جونز نے کہا ہے کہ ایمرجنسی شعبے ایسے بچوں کو کئی دن تک رکھنے کے لیے بنائے ہی نہیں گئے۔

ذہنی صحت کی فلاحی تنظیم مائنڈ کی جیما برن نے بھی طویل انتظار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایمرجنسی کا ماحول پہلے ہی ذہنی بحران سے گزرنے والے بچوں کے لیے خوفناک ہوتا ہے اور گھنٹوں تک مدد کا انتظار ناقابلِ قبول ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام میں اکثر بچوں کو اس وقت تک علاج نہیں ملتا جب تک ان کی حالت انتہائی سنگین نہ ہوجائے جس کے باعث ابتدائی مرحلے میں مدد فراہم کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

محکمۂ صحت و سماجی نگہداشت نے مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بچے کو بھی مدد حاصل کرنے سے پہلے اس حد تک پہنچنا نہیں چاہیے کہ وہ ذہنی طور پر ٹوٹ جائے۔

حکام کے مطابق اسکولوں میں ذہنی صحت کی ٹیموں سمیت مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کی جاری ہے جبکہ 150 سے زائد نئے کمیونٹی مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں۔

انگلینڈ کی حکومت کی جانب سے رواں سال کے آخر میں ذہنی صحت سے متعلق ایک جامع حکمتِ عملی بھی جاری کیے جانے کا امکان ہے جس کا مقصد ابتدائی مرحلے میں مدد فراہم کرنا اور ذہنی صحت کے بحران میں مبتلا بچوں کے لیے ایمرجنسی شعبوں پر انحصار کم کرنا ہے۔

صحت سے مزید
برطانیہ و یورپ سے مزید