انگلینڈ میں ذہنی صحت کا بحران ہے، اس کی وجہ یہ ہےکہ اب ہر 10 میں سے ایک بچے میں ذہنی بیماری کی تشخیص ہو رہی ہے۔
اس حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ سال انگلینڈ بھر میں 10 لاکھ سے زائد بچوں اور نوجوانوں کو ذہنی صحت کے علاج کے لیے ریفر کیا گیا، جبکہ ایک نئی رپورٹ کے مطابق اب ہر 10 میں سے ایک بچے کو ذہنی بیماری کی تشخیص کا سامنا ہے۔
سال 25-2024 کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ذہنی صحت کی خدمات کے لیے ریفر کیے جانے والے بچوں اور نوجوانوں کی تعداد 2018 اور 2019 کے مقابلے میں تقریباً دُگنی ہو چکی ہے۔
اس رپورٹ کی سربراہ اور انگلینڈ میں چلڈرن کمشنر ڈیم ریچل ڈی سوزا نے کہا کہ ملک اس وقت نوجوانوں کی ذہنی صحت کے حوالے سے ایک بحران میں ہے۔
انکا کہنا تھا کہ اس حقیقت کو چھپایا نہیں جا سکتا کہ رپورٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار نہایت تشویش ناک ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ہی ریفرلز میں 10 فیصد اضافے کے باعث نظام پر شدید دباؤ پڑ گیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک تہائی سے زیادہ بچوں کو علاج کے لیے کئی کئی سال انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ان اعداد و شمار میں وہ بچے شامل نہیں ہیں جو پہلے سے زیرِ علاج ہیں۔ بے چینی نوجوانوں میں ذہنی صحت کی مدد حاصل کرنے کی سب سے عام وجہ رہی، جو تمام ریفرلز کا 16 فیصد بنتی ہے۔ اسی دوران آٹزم کے کیسز میں صرف ایک سال کے اندر تقریباً 50 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
واضح رہے کہ یہ اعداد و شمار این ایچ ایس (نیشنل ہیلتھ سروسز) سے لیے گئے ہیں۔
دوسری جانب ایک سرکاری ترجمان نےمیڈیا کو بتایا کہ اس سال این ایچ ایس کی ذہنی صحت کی خدمات کے لیے 16 اعشاریہ ایک ارب پاؤنڈ کی ریکارڈ سرمایہ کاری سے بوجھ کم کرنے میں مدد ملے گی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو وہ مدد مل سکے جس کی انہیں ضرورت ہے۔