لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے استعفے سے قبل آخری فیصلہ جاری کر دیا۔
جسٹس راحیل کامران شیخ نے سگریٹ، پان اور تمباکو کی تشہیر سے متعلق فیصلہ جاری کیا۔
لاہور ہائی کورٹ نے تمباکو اور پان کی تشہیر کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کا تشہیر پر پابندی سے متعلق نوٹیفکیشن درست قرار دے کر درخواست خارج کر دی۔
جسٹس راحیل کامران شیخ نے آل پاکستان مرکزی یونین پان سگریٹ کی درخواست پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے مطابق تمباکو، سگریٹ اور پان کی تشہیر سے منفی نتائج سامنے آئیں گے، عوامی صحت کا تحفظ اور صحت مند ماحول کا قیام آئینی تقاضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تمباکو مصنوعات کی تشہیر کا کوئی مستقل آئینی حق موجود نہیں، اشتہارات پر پابندی سے غیر قانونی تجارت کا خدشہ موجود نہیں۔
لاہور ہائی کورٹ نے مشترکہ مفادات کونسل سے رجوع نہ کرنے کا آئینی اعتراض مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی نوٹیفکیشن میں غیر قانونی چیز نہیں پائی گئی، ہر شہری کو کاروبار اور تجارت کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔
عدالت نے کہا ہے کہ حکومت نے نان اسموکر ہیلتھ آرڈیننس 2002ء کے مطابق نوٹیفکیشن جاری کیا، قومی وزارتِ صحت نے 2010ء میں تمباکو اور سگریٹ کی تشہیر پر پابندی عائد کی، درخواست گزار کے مطابق حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے۔
فیصلے کے مطابق درخواست گزار کے مطابق نان اسموکر ہیلتھ آرڈیننس 2002ء میں تمباکو کے معاملے پر کمیٹی فیصلہ کرے گی، حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ تمباکو کی تشہیر سے متعلق کمیٹی نے نوٹیفکیشن جاری کیا۔