دانش کدہ انٹرنیشنل ڈیلس کے زیرِ اہتمام ایک تاریخی عالمی مشاعرہ منعقد ہوا جس کی صدارت پاکستان کے ممتاز شاعر شعیب بن عزیز نے کی۔
مشاعرے میں پاکستان اور امریکا کے مختلف شہروں سے معروف شعراء و شاعرات نے شرکت کی جبکہ ڈیلس فورٹ ورتھ کے مقامی شعراء نے بھی اپنا کلام پیش کیا۔
تقریب 2 ادوار پر مشتمل تھی، پہلے دور کی نظامت ڈاکٹر صالحہ سلیمان اور دوسرے دور کی نظامت دانش کدے کے روحِ رواں نادر درانی نے کی۔
پہلے دور میں ملیحہ درانی، ڈاکٹر صالحہ سلیمان، قمر عباس، غزالہ حبیب، نور امروہوی، رضوان حسنی، یونس اعجاز، طارق ہاشمی اور نادر درانی نے اپنا کلام پیش کیا۔
غزالہ حبیب کے کلام میں کشمیر، محبت، پھول، پتے اور بہار کے موضوعات نمایاں رہے جبکہ نور امروہوی، طارق ہاشمی اور سید یونس اعجاز نے بھی سامعین کی بھرپور توجہ حاصل کی، ڈیلس کے قدیم شعراء میں شمار ہونے والے سید یونس اعجاز جسمانی کمزوری کے باوجود اختتام تک محفل میں موجود رہے۔
مشاعرے کے دوسرے دور میں شعیب بن عزیز، باسط جلیلی، رخشندہ نوید، ڈاکٹر غنفر ہاشمی، خالد خواجہ خالد، اعجاز حسین بھٹی، نصرت یاب نصرت، فرح کامران، ڈاکٹر ریحانہ قمر، اویس راجہ، احمد شاہ غزالی اور نیلم تصور نے اپنا کلام پیش کیا۔
ابتدائی پروگرام میں وکیل انصاری اور شمسہ نجم کے نام بھی شامل تھے تاہم وہ مشاعرے میں شریک نہ ہو سکے۔
مشاعرے کی ایک نمایاں خصوصیت نادر درانی کی جانب سے مہمان شعراء کے لیے لکھے گئے خصوصی تعارفی قطعات تھے، ہر شاعر کو اسٹیج پر بلانے سے قبل اس کی شخصیت، ادبی سفر اور فکری مزاج کو منفرد قطعے کے ذریعے پیش کیا گیا۔
دانش کدے سے وابستہ عرفان علی اور نیلوفر عباسی نے اس روایت کو امریکا میں اردو مشاعروں کے حوالے سے منفرد اور قابلِ ذکر ادبی تجربہ قرار دیا۔
صدرِ مشاعرہ شعیب بن عزیز کی شرکت نے محفل کو خصوصی وقار بخشا، ڈاکٹر غنفر ہاشمی، فرح کامران، رخشندہ نوید، ڈاکٹر ریحانہ قمر، نیلم تصور، باسط جلیلی، خالد خواجہ خالد، احمد شاہ غزالی، اعجاز حسین بھٹی، اویس راجہ اور نصرت یاب نصرت نے اپنے منفرد اسلوب میں ہجرت، محبت، زندگی، وقت، تقدیر اور انسانی احساسات کو موضوع بنایا۔
مشاعرے کے انتظامات میں ملیحہ درانی، ڈاکٹر صالحہ سلیمان، طارق ہاشمی، شوکت محمد، آدم خان، خیام و مریم حسین، قمر عباس، سنداس جہانگیر، عمار عباس، ہمدان درانی اور عرفان علی نے اہم کردار ادا کیا، منتظمین اور رضاکاروں کی خدمات کو بھی سراہا گیا۔
دانش کدہ انٹرنیشنل کی جانب سے ایک یادگاری کتابچہ بھی شائع کیا گیا جس میں شعراء کی تصاویر، مختصر تعارف، تصانیف اور منتخب کلام شامل تھا۔
منتظمین کے مطابق کتابچے کا مقصد مشاعرے کو محض ایک تقریب تک محدود رکھنے کے بجائے ایک ادبی دستاویز کے طور پر محفوظ کرنا تھا۔
تقریب میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دیارِ غیر میں مشاعرے صرف تفریحی محافل نہیں بلکہ زبان، تہذیب اور قومی شناخت کے تحفظ کا اہم ذریعہ بھی ہیں۔
مقررین اور منتظمین نے کہا کہ امریکا میں پروان چڑھنے والی نئی نسل کو اردو ادب، شاعری اور اپنی تہذیبی جڑوں سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
شرکاء کا کہنا ہے کہ ایسی ادبی محافل سمندر پار پاکستانیوں کو اپنی زبان، وطن اور ثقافتی شناخت سے جوڑے رکھتی ہیں اور مختلف نسلوں کے درمیان تہذیبی پل کا کردار ادا کرتی ہیں۔
تقریب کے اختتام پر دانش کدہ انٹرنیشنل کی جانب سے صحافی اور صاحبِ مضمون راجہ زاہد اختر خانزادہ کی طویل صحافتی خدمات کے اعتراف میں انہیں تہنیتی ایوارڈ بھی پیش کیا گیا۔
مشاعرہ اس پیغام کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ اردو زبان صرف بولنے سے نہیں بلکہ اسے یاد رکھنے، اس کے لیے محفلیں سجانے اور نئی نسل تک منتقل کرنے سے زندہ رہتی ہے۔