• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل سے متعلق امریکی دعوے اور بحری اعداد و شمار مختلف کیوں؟

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

آبنائے ہرمز سے تیل اور تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے حوالے سے امریکا اور ایران کے دعوے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ امریکی بحریہ روزانہ تقریباً 30 جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزار رہی ہے جبکہ امریکی حکام کے مطابق منگل کو 40 تجارتی جہاز تقریباً 18 ملین بیرل تیل لے کر گزرے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بحری جہازوں کی نگرانی کرنے والے اداروں کے مطابق منگل کو صرف 11 جہاز آبنائے سے گزرے جبکہ گزشتہ 10 دن کی اوسط تقریباً 13 جہاز روزانہ رہی۔

واضح رہے کہ جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 100 جہاز اور 20 ملین بیرل تیل گزرتا تھا۔

ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے پرمز اب بھی اس کے مکمل کنٹرول میں ہے اور صرف پہلے سے منظور شدہ جہاز مخصوص راستوں سے گزر سکتے ہیں۔

عرب میڈیا کی رپورٹ میں شامل کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق امریکی اور بحری اعداد و شمار میں فرق کی وجہ جہازوں کی گنتی کا مختلف طریقۂ کار، چھوٹے اور امدادی جہازوں کی شمولیت اور بعض جہازوں کا نگرانی کا نظام بند کرنا ہو سکتا ہے۔

علاقائی بحری سلامتی کے مرکز نے بھی آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں کو معمول سے کہیں کم اور خطرے کی سطح کو شدید قرار دیا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید