• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومت اپنے بہت سے فرائض سےدستبردار ہو کر انہیں پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کر رہی ہے ۔وہ ہمارے بچوں کی حفاظت سے بھی قاصر ہے۔ 60ء اور 70ء کی دہائی میں دنیا کے اکثر ممالک میں رو چلی ہوئی تھی نیشنلائزیشن کی۔ قومی تحویل میں صنعتیں لے لی گئیںمگر پھر خیال آیا کہ ابھی تو قوم ہی نہیں ہے اسلئے قومی تحویل کیسے۔ ان فیکٹریوں اور اداروں کو اسٹیٹ کنٹرولڈ کہا جانے لگا۔

پھر زمانہ آیا ۔کہا گیا کہ کاروبار چلانا حکومت کا کام نہیںہے۔ ستم ظریفی ہے کہ جن کا کاروبار تھا وہی حکمران بھی بنتے چلے گئے، اب حکمرانوں کی کتنی شوگر ملیں ہیں ۔ماشاء اللّٰہ۔ بہت اچھی چل رہی ہیں، اپنی ایئر لائنیں بھی بہت کامیاب ہیں۔ ترقی یافتہ مہذب ملکوں میں بھی ایسے فارمولے تراشے گئے لیکن کہیں بھی ریاست اور حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت سے دستبردار نہیں ہوئی ۔اب بھی ہم دیکھتے ہیں کہ کسی بھی ملک کاسیاح یا کوئی عام شہری لاپتا ہو جائے تو اس کا سفارتخانہ کیسے حرکت میں آجاتا ہے۔

کینیڈا امریکہ برطانیہ اپنےشہریوں کے بچوں کیلئے جتنے فکر مند ہوتے ہیں اتنے والدین بھی نہیں ہوتے۔ پاکستان اور دوسرے ایشیائی ملکوں کے تارکین وطن کو عجیب و غریب حالات کا سامنا ہوتا ہے کہ اس عمر تک کے بچے کیلئے کیسی سیٹ ہوگی۔ کچھ سال بڑا ہوگا تو کیسی ۔مائیں بچوں کو چلتی کار میں دودھ نہیں پلا سکتیں۔ اس کیلئےکسی محفوظ جگہ گاڑی پارک کریں۔ پھر یہ مامتا نبھائیں۔ پولیس ،سرکاری ادارے، عدالتیں، والدین کی غفلت کا سخت نوٹس لیتی ہیں۔ بچے یا بچی کو اپنی تحویل میں لے لیتی ہیں۔ یہ ہے ماں جیسی ریاستیں۔

ہمارے پاکستان میں بچے ریاست اور حکومت کے ہوتے ہوئے ماں باپ کی موجودگی میںبھی ایک لاوارثی کا شکار ہیں۔ اغوا کیے جاتے ہیں۔ زیادتی کی خبریں آتی ہیں۔ پولیس کے رویے کیسے ہیں ۔عدالتیں بڑی چھوٹی، بچے کو کتنی اہمیت دیتی ہیں۔ والدین بچے پیدا کرنے کا شوق تو بہت رکھتے ہیں لیکن ان کی حفاظت، پرورش، تربیت سے کتنے غافل ہیں۔ اور جب یہ سب عناصر مل جائیں تو ان کا شکار پھر ہمارا مستقبل ہوتا ہے ۔اسلام آباد کے بڑے اسپتال پمز میں 15 بچوں کے آگ میں زندہ جل جانے کا غم تو ہم سب جھیل چکے ۔دو تین روز تو ملک میں بچوں کی اہمیت کا غلغلہ رہا۔ اس کے بعد پھر وہی حالات۔راجدھانی میں اس صبح آگ بجھانے کیلئے پانی نہیں تھا اور اب اسلام آباد پنڈی میں اتنا پانی ہے کہ سڑکیں دریا بن رہی ہیں۔

ایک باپ ،ایک دادا، ایک نانا کی حیثیت سے میں بہت فکر مند ہوں ایک عرصے سے ہر اتوار کو لکھتا ہوں کہ آج ،بچوںکے ذہنوں میں موجود سوالات کے جوابات دیں ۔ان سے ان کے اسکولوں،کالجوں ،یونیورسٹیوں کے بارے میں پوچھیں دفتروں کے بارے میں بات کریں۔ آپ کو بہت سے لیڈر پسند نہیں ہیں اس لیے یہ بھی دیکھیں کہ کوئی بیٹا ،بیٹی آپ کے ناپسندیدہ لیڈر کو تو اپنا آئیڈیل نہیں بنا چکا۔

پاکستان بھر سے آنے والی خبروں سے محسوس ہوتا ہے کہ بچے بچیاں ریاست کی نظر اندازی کا شکار تو ہیں ہی لیکن ساتھ ساتھ والدین کی غفلت کی سزا بھی بھگت رہےہیں۔ پہلے کی طرح محلوں میں بیٹیوں کو سانجھی نہیں سمجھا جا رہا۔ محلے داری رخصت ہو گئی ہے ۔اپنے قریبی رشتوں میں بھی زر کی ہوس بڑھ گئی ہے۔ بوا لہوس زیادہ ہوتے جا رہے ہیں۔ اسکولوں میں ماحول آلودہ ہو گیا ہے۔ کالجوں یونیورسٹیوں میں حفاظت حرمت عفت بے معنی ہو چکے ہیں۔ ماحول ایسا کیوں ہوا ہے۔ اس کے کیا اسباب ہیں۔ اس زبوں حالی کا ذمہ دار کون ہے ۔یہ کن سماجی رجحانات کا نتیجہ ہے ۔یہ تنازعات چل رہے ہیں ریاست کو ایسی کوئی فکر نہیں ہے بلکہ وہ چاہتی ہے کہ 25 کروڑ انہی بحثوں میں الجھے رہیں۔ وہ اپنے مقاصد اور مفادات سکون سے حاصل کرتی رہے۔ ایسے میں والدین کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے ۔آج کا میرا موضوع یہی ہے مجھے تو یہ تسکین ہے کہ میں اس طرف برسوں سے توجہ دلاتا رہا ہوں۔

آج بھی اتوار ہے۔ اپنے بیٹے بیٹیوں ،پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں، بہوؤں، دامادوں کے ساتھ دوپہر کے کھانے پہ اکٹھے ہونے کا دن۔ اپنے گھر کو مستحکم متحد اور محفوظ رکھنے کے لمحات۔ ساتھ یہ درخواست بھی کہ نماز عصر کے بعد محلے داری کا اہتمام کریں۔ اب جو ہوائیں چل پڑی ہیں اندھیرے بڑھ رہے ہیں مغرب ہمارے مشترکہ خاندان کے تمدن کو کاروبار کے ذریعے ختم کرنے پر تلا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا سے ایسی کہانیاں سنائی اور دکھائی جاتی ہیں۔ پھر ڈالروں کا سیلاب بھی ایسی ٹک ٹاک اور ریلز پر آ رہا ہے۔ کون دیکھتا ہے کہ اس میں کتنے کاروبار مثبت ہیں اور کتنے صرف ڈالرز کمانے کیلئے اور اس کے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ہمارے علماء کرام ان خطرناک رویو ں پر تفکر نہیں کر رہے ہیں۔نہ ہی ماہرین نفسیات و جنسیات تجزیہ کرتے ہیںکہ جنس کی بھوک درندگی کی حد تک کیوں چلی گئی ہے۔ پہلے بچیوں بہنوں ماؤں کی عزت پامال کی جاتی ہے پھر انہیں قتل بھی کر دیا جاتا ہے۔ سماج میں ایسے بھیانک رحجانات کیوں فروغ پا رہے ہیں۔یہ جرائم کن علاقوں میں زیادہ ہیں۔ کیا یہ معاشی ناہمواریوں کا نتیجہ ہے، ایک فرد ایک ووٹ نہ ہونے کے سبب ہے ۔آئین کی ناقدری اس کی وجہ ہے۔ یہ ساری بحثیں ہونی چاہئیں۔ ہوتی رہیں گی۔ لیکن میری ہر ماں سےہر باپ سے گزارش ہے کہ ایک تو اولاد اتنی پیدا کریں جتنی آپ سنبھال سکیں۔ جتنوں کی عزت، جان اور عفت کی حفاظت کر سکیں۔جائزہ لیں کہ آپ اپنے بچے ،بچی کے اسکول میں مہینے میں کتنی بار جاتے ہیں ۔کیا انہیں خود چھوڑ کر آتے ہیں ۔خود لینے جاتے ہیں۔ ہر روز ان کی آنکھوں میں جھانکتے ہیں۔ وہاں کوئی خوف تو نہیں پل رہا۔ اگر بچہ وین سے یا بس سے جاتا ہے تو اس وین یا بس کے ڈرائیور کنڈکٹر کے بارے میں آپ کچھ جانتے ہیں ۔وین والا آپ کے بچے کو سب سے پہلے لیتا ہے یا کب اور کیا سب سے آخر میں چھوڑتا ہے۔ اسکول کے اندر کیا ماحول ہے ۔ٹیچرز کیسے ہیں، اسکول کا مالک کون ہے۔ محکمہ تعلیم سے کوئی افسر اسکول کی انسپکشن کے لیے آتا ہے۔ صرف اسکول جانے والے بچوں سے نہیں دینی مدرسے والے بچوں، بچیوں کے ماحول پر بھی والدین نظر رکھیں۔

ایک ضروری توجہ یہ کہ اگر آپ غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنے بچوں، بچیوں کو کہیں کسی گھر یا دفتر میں محنت کے لیے بھیجتے ہیں تو وہاں بھی ماحول کا جائزہ لیں ۔یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہم حکومت اور حکمرانوں کی تو اصلاح نہیں کر سکتے کیونکہ ملک میں ایسے سب میکانزم گویا ختم کر دئیے گئے ہیں۔ہماری اپنی جو ذمہ داریاں ہیں والدین کی حیثیت سے، ایک مملکت کے شہری ہونے کے ناطے، انہیں ہم پوری سنجیدگی اور حساسیت کے ساتھ نبھائیں۔ وقت بہت نازک ہے۔ ہم سب کو خبردار رہنا ہوگا۔

تازہ ترین