• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پبلک ریلیشنگ کا فن غالباً بہت پرانا ہے اور فرض کریں اگر یہ اتنا پرانا نہیں تو اسے ہونا چاہیے تھا۔ اگر یہ فن پرانے زمانے میں بھی اتنا ہی مقبول ہوتا جتنا ان دنوں ہے تو لوگ بہت سی قباحتوں سے بچ جاتے ۔ مثلاً سکندر اور پورس میں لڑائی کی نوبت ہی نہ آتی بلکہ اس کی جگہ یوں ہوتا کہ ان دونوں سورماؤں کے پبلک ریلیشنز آفیسر اپنی اپنی کارروائیوں کا آغاز کرتے ۔ پھر ان میں سے جو بول بچن کا زیادہ ماہر ہوتا وہ اپنے باس کو وکٹری سٹینڈ پر کھڑا کر دیتا اور اس کے صلے میں پبلک ریلیشن آفیسر کو بھی دو چار انکریمنٹس اکٹھی مل جاتیں اور خلق خدا بھی چین کی بانسری بجاتی ۔ اس سلسلے میں ایسٹ انڈیا کمپنی والے خاصے زیرک نکلے ، انہوں نے تاجروں کے روپ میں اپنے پبلک ریلیشن آفیسرز انڈیا بھیجے اس کے نتیجے میں کمپنی ہذا نے رفتہ رفتہ پورے برصغیر کو اپنا سب آفس بنالیا۔ اِس شعبے کی افادیت صرف یہیں تک محدود نہیں بلکہ سچ پوچھیں تو اس کے گن جلیبی کے چکروں سے بھی زیادہ ہیں۔ یہ اس فن سے نابلد ہونے یا اس کی افادیت سے کما حقہ آگاہ نہ ہونے ہی کا نتیجہ ہے کہ آج تاریخ کی بڑی بڑی شخصیتیں خواہ مخواہ منہ پر کالک ملے ہمارے سامنے پیش ہوتی ہیں ۔ مثلاً اعلیٰ حضرت چنگیز خاں اور اعلیٰ حضرت ہلا کو خاں کچھ ایسے برے بزرگ نہ تھے بلکہ اصل صورتحال یہ ہے کہ بد قسمتی سے انہیں اچھے پبلک ریلیشنز آفیسر نہ مل سکے ۔ اگر انہوں نے اس شعبے میں بہتر لوگ بھرتی کیے ہوتے تو آج تاریخ کے اوراق میں ان کا ذکر سنہری حروف میں درج ہوتا اس کام کےلیے ان بزرگوں کو صرف اس شعبے کی گرانٹ میں اضافہ کرنا ہوتا جس کے نتیجے میں ماہرین تعلقات عامہ کا کام آسان ہو جاتا ۔ وہ اپنے گھروں پر بڑی بڑی پارٹیاں دیتے جن میں اس زمانے کے علما، فضلاء ، صلحا، مورخ، دانشور، ادیب اور شاعر شریک ہوتے۔اس دور کے تذکرہ نگار ان محفلوں کو رونق بخشتے ۔ مورخ قسم کے سیاحوں کی خصوصی طور پر آؤ بھگت کی جاتی ۔ انہیں تحفے تحائف اور نذرانے پیش کیے جاتے اور ان طبقوں سے امتیازی سلوک برتا جاتا تو آج صورتحال مختلف ہوتی اور اس امر کا قوی امکان موجود ہے کہ اس دور کے ادبی تذکروں اور تاریخ کی کتابوں میں ان بزرگوں کے بارے میں کچھ اس قسم کی آراء درج ہوتیں کہ اعلیٰ حضرت چنگیز خاں یا اعلیٰ حضرت ہلاکو خاں بہت رعایا پرور تھے۔ رحمدلی میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ بہت علم دوست تھے اور ارباب فن کی بہت قدر فرماتے تھے۔ اس امر کا امکان بھی موجود ہے کہ پرانے مخطوطوں میں سے اس دور کے نامی گرامی شعراء کی مدحیہ نظمیں ان کی شان میں مل جاتیں جس سے ان لوگوں کا منہ کالا ہوتا جو آج تاریخ کی کالک ان بزرگوں کے چہروں پر مل کر خوش ہوتے ہیں۔ اس دور کے پبلک ریلیشنز آفیسر اپنی اعلیٰ کارکردگی ،لگن اور فرض شناسی کی بدولت صرف یہی نہیں بلکہ اس سے بھی بڑے کارنامے سرانجام دے سکتے تھے۔ مثلاً کئی بادشاہوں کے متعلق اس طرح کی باتیں معلوم ہوئی ہیں کہ وہ دن کو امور سلطنت انجام دیتے تھے اور رات کو ٹوپیاں سی کر بازار میں فروخت کر کے اپنی روزی کماتے تھے۔ کچھ کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ ساری رات بھیس بدل کر گلیوں محلوں اور بازاروں میں گھومتے تھے اور اپنی رعایا کا حال معلوم کرتے تھے۔ کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے ساری عمر اپنی رعایا کے لیے تیار شدہ فلاح و بہبود کے منصوبوں پر عملدرآمد میں صرف کر دی اور ظاہر ہے یہ سب کام بادشاہوں کے کرنے کے تو نہیں ہیں ان بیچاروں کو اپنی مشقت محض پبلک ریلیشنز آفیسروں کی عدم موجودگی یا ان کی نااہلی کی وجہ سے اُٹھاناپڑی۔ اگر انہوں نے محنتی ،فرض شناس اور اپنے کام کے ماہر تعلقات عامہ کے افسروں کی خدمات حاصل کی ہوتیں تو یہ بادشاہ اپنی زندگی بادشاہوں کی طرح گزار سکتے تھے اور جو نیک نامی انہیں عیش و عشرت کی قربانی دے کر اور رعایا کی فلاح و بہبود کے لیے دن رات محنت کرنے کے نتیجے میں ملی وہ اچھے تعلقات عامہ کے افسروں کی کوششوں کے نتیجے میں اس کے بغیر بھی حاصل ہو سکتی تھی ۔

ماضی میں کچھ اسی طرح کی غلطیاں ہمارے بعض ادیبوں، شاعروں سے بھی سرزد ہوئیں جن کا خمیازہ وہ آج تک بھگت رہے ہیں ۔ مثلاً اپنے میر درد تصوف میں پڑے رہے، اللّٰہ سے محبت کی ان کے بندوں سے محبت کی مگر ان اللہ کے بندوں سے محبت نہیں کی جو ڈھول گلے میں ڈال کر گلی گلی کوچے کوچے ان کی عظمت کی منادی کرتے یا ان لوگوں کے آستانے پر حاضری نہیں دی جو بڑے ادب پرور تھے اور جو ادیب کو اپنی چوکھٹ پر دیکھ کر از راہ لطف و کرم اپنے پاؤں ان کی طرف بڑھا دیتے تھے تا کہ وہ قدم بوسی کی سعادت حاصل کر سکیں ۔ اسی طرح غالبؔ کے مقابلے میں ذوقؔ کی پبلک ریلیشنگ کا سیل (Cell) بہت مضبوط تھا ۔ چنانچہ وہ اپنے عہد کے ملک الشعرا کہلائے ۔ یہ تو بعد میں ذوقؔ کے پبلک ریلیشنز آفیسر ڈھیلے نکلے ورنہ آج بھی ذوقؔ کا رتبہ غالبؔ سےبلند ہوتا۔لیکن جیسا کہ ہم نے شروع میں عرض کیا ماضی میں اس فن کی افادیت کا صحیح طور پر اندازہ نہ کیا جا سکا جسکے نتیجے میں آج تاریخ کے صفحات میں بہت سے سرکار بدلے بدلے نظر آتے ہیں۔ تاہم آج کی صورتحال ماضی سے قطعی طور پر مختلف ہے ۔ اب حکومتوں کو تو چھوڑیے کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جہاں پبلک ریلیشن افسر اپنی پوری افادیت کے ساتھ موجود نہ ہو بلکہ شعبوں کو چھوڑیے، کوئی اہم شخصیت ایسی نہیں جس کے ایک یا ایک سے زیادہ پبلک ریلیشن آفیسر نہ ہوں ۔ اب تو یہ علم با قاعدہ سائنسی بنیادوں پر استوار ہے۔ یونیورسٹیوں میں پڑھایا جاتا ہے، اس میں ایم اے کیا جاتا ہے۔ اس پر پی ایچ ڈی کی ڈگری ملتی ہے۔ صرف یہی نہیں ، بلکہ تمام علوم وفنون اس کے سامنے ماند پڑ گئے ہیں اور اب پوری دنیا کی سیاست ، معاشیات ، معاشرت، ادب اور ثقافت اس محور کے گرد گھومتے ہیں۔ خصوصاً سپر پاورز کا تو سارا کاروبار ہی ان پبلک ریلیشن آفیسرز کے دم قدم سے ہے ۔ ان ماہرین نے اپنے فرائض منصبی کی بجا آوری کے دوران دنیا کی ڈکشنریوں میں بہت خوبصورت لفظ بھی Coin کیے ہیں ۔ مثلاً لوٹ مار کا مال مل کر کھانے کو انہوں نے ” دیانت“ کا نام دیا ہے۔ جغرافیائی توسیع کو یہ نظریاتی توسیع کہتے ہیں اور ان کی لغات میں "ویٹو"کا مطلب امن عالم کو برقرار رکھنا ہے۔ ان بڑی طاقتوں کے ان ماہرین نے بہت اعلیٰ درجے کے غازے بھی تیار کیے ہیں جن سے ان کے بوسیدہ چہروں کی جھریاں اور ان منہدم ہونے والی عمارتوں کی دراڑئیں نظر نہیں آتیں۔جیسا کہ ہم نے شروع میں عرض کیا تھا کہ اگر چنگیز خاں اور ہلاکو خاں نے بھی تعلقات عامہ کے ماہرین کی خدمات حاصل کی ہوتیں تو آج ان کے چہرے بھیانک نظر نہ آتے ۔ ان بزرگوں کو آج کے دور میں پیدا ہونا چاہیے تھا اور یہ سب کچھ دیکھ کر ہمیں تو یقین ہو گیا ہے کہ انسان کو واقعی وقت سے پہلے نہیں پیدا ہونا چاہیے!

تازہ ترین