• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پمز اسلام آباد جسکا پورا نام پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ہے، اسکے ایم سی ایچ یعنی نرسری میں آگ لگنے کے نتیجے میں 14/15/17بچے جل گئے یہ مختلف اعداد و شمار ہیں۔ تاحال آگ لگنے کے بارے میں کوئی حتمی بات سامنے نہیں آئی۔ کوئی اے سی پھٹنے کی بات کرتا ہے تو کوئی کمپریسر پھٹنے کی۔ کوئی وائرنگ میں شارٹ سرکٹ ہونے کی بات کر رہا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اسلام آباد جو وفاقی دارالحکومت ہے وہاں آج تک کوئی اسپتال اسٹیٹ آف دی آرٹ نہیں بن سکا۔ ظاہر ہے حکمرانوں نے تو اپنا علاج غیر ممالک میں جا کرکرانا ہوتا ہے رہی بات سفارت کاروںاور سفارت خانے کے عملے کی وہ بھی اپنا چھوٹا موٹا علاج کسی پرائیویٹ اسپتال سے کرا لیتے ہیں۔ ابھی منگل کے روز لاہور کے جنرل اسپتال میں شارٹ سرکٹ سے خوفناک آگ لگ گئی وہ تو خیر بروقت کارروائی کر کے گائنی وارڈ میں داخل80 سے 90حاملہ خواتین کو لکڑی کی سیڑھی لگا کر اوپر والی منزل سے نیچے اتارا گیا۔ کچھ خواتین کو ڈرپس لگی ہوئی تھیں ۔کتنی عجیب اور مضحکہ خیز بات ہے کہ پورے ملک کے کسی سرکاری اسپتال میں آگ بجھانے کا خود کار سسٹم ہی نصب نہیں۔ پچھلے 79برس سے بس دعوے ہی دعوے ہیں۔ ہم نےکوئی سرکاری اسپتال اسٹیٹ آف دی آرٹ کیوں نہیں بنایا؟ موجودہ وزیر داخلہ محسن نقوی جب پنجاب کےنگران وزیراعلیٰ تھے تو انہیں جوش چڑھا کہ پنجاب کے تمام سرکاری اسپتالوں کی ری ویمپنگ کی جائے پتہ نہیں کس نے مشورہ دیدیا کہ گرینائٹ ،ماربل اور چند سال پہلے لگی ہوئی ٹائلوں کو اکھاڑ پھینکا۔ ارے اللہ کے بندو گرینائٹ اور ماربل زندگی بھر خراب نہیں ہوتا بلکہ انہیں تھوڑا سا پالش کریں تو کام کے قابل بن جاتا ہے۔ کسی نے ان کو یہ نہیں بتایا کہ صاحب ری ویمپنگ کر رہےہیں اور سارےاسپتال اکھاڑ دیئے ہیں تو اسپتالوں میں فائر الارمنگ سسٹم اور آگ بجھانے کے آلات اور خود کار نظام بھی لگا دیں۔اصل میں ہو کیا رہا ہے آپ نے ٹھیکہ داروںسے بجلی کی ناقص تاریں ڈلوائی ہیں کاپر کی جگہ سلور کی تاریں ڈالی گئی ہیں اب اگر ایک تار 7/29،7/46 یا کوئی بھی تارایک یا دو اے سی کا لوڈ برداشت کرنے کیلئے ہے تو اس پر چار چار اے سی چلا دیے۔ اب تاریں گرم ہو کر آگ نہیں پکڑیں گی تو کیا اور کیا ہو گا؟دوسری طرف آپ نے فال سیلنگ کر دی کہ اس سے لگ بھگ اسپتال کی ظاہری خوبصورت نظر آتی ہے یہ فال سیلنگ جس میٹریل سے بنائی جاتی ہے وہ فوراََ آگ پکڑ لیتی ہے پھر آئی سی یو، بچوں کی نرسری میں آکسیجن کے سلنڈر یا سینٹرلی آکسیجن کا سسٹم یا دیگر گیسیں ہوتی ہیں۔ آگ کو ادھر سے آکسیجن مل گئی اوپر سے فال سیلنگ نے آگ پکڑ لی۔ تیسری طرف سے شارٹ سرکٹ کی وجہ سے تاریں مسلسل جل رہی ہوتی ہیں پھر نرسری میں بچوں کےفوم والے گدے، تکیے، چادریں، پلاسٹک کی بوتلیں۔ ارے اللہ کے بندو آگ کو بھڑکانے کا پورا پورا انتظام توآپ نے خود بچوں کی نرسری میں کر رکھا ہے تو پھرذرا سےشعلے سے شدید آگ کیسے نہ لگے۔ بچوں کو باہر کی گندی ہوا سے بچانے کے لئے آپ نے کھڑکیاں تک تو بند کی ہوئی ہیں۔ سونے پر سہاگہ کے بچے نرسری سے کوئی غائب نہ کر لے آپ نے نرسری کو اندر سے تالے لگائے ہوئے تھے۔ کتنے دکھ کی بات ہے کہ آج بھی اسپتالوں سے بچے اٹھانے والی بدذات عورتیں پہنچ جاتی ہیں۔ یا تو فائل سیلنگ جپسم یا کسی اور مٹیریل کی ہو۔ یہ بھی سوچا جائے کہ بچوں کو نرسریوں میں رکھنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟ اب بچوں کو اتنے ٹیکے لگانے کی ضرورت کیوں ہے؟۔ پنجاب کے کئی اسپتالوں کی نرسریوں میں اب تک آگ لگنے کے کئی واقعات ہوئے ہیں، ساہیوال ٹیچنگ اسپتال جس میں 11 بچے جل گئے تھے۔ سروسز اسپتال جس میں غالباً پانچ یا اس سے زائد بچے جل گئے تھے۔ لاہور جنرل اسپتال، سرگنگار رام اسپتال، میواسپتال، چلڈرن اسپتال۔آپ یہ دیکھیں ساہیوال ٹیچنگ اسپتال میں بچوں کے جلنے کا واقعہ بہت بڑا تھا جس میں حسب روایت کئی لوگوں کیخلاف کارروائی ہوئی اور بعد میں پھر کچھ نہ ہوا۔ حکومت کے ارباب اختیار وہ بیوروکریٹس جو اپنی ذہانت اور قابلیت کے قصے جم خانہ کلب میں ریٹائرمنٹ کے بعد سناتے تھکتے نہیں انہوں نے اس وقت کیوں نہیں کسی سرکاری اسپتال میں آگ بجھانے کیلئے اقدامات کئے۔؟ عزیز قارئین آپ کو یاد ہوگا آج سے چند برس قبل لاہور میں ایل ڈی اے پلازہ جس میں ایل ڈی اے کا ہیڈآفس تھا وہاں پر آگ لگ گئی تھی یا ریکارڈ کو غائب کرنے کیلئے لگائی گئی تھی وہاں پر کوئی ایمرجنسی ایگزٹ یعنی ایمرجنسی سیڑھیاں ہی نہیں تھیں چنانچہ کئی لوگ کئی منزلہ عمارت سے چھلانگیں لگا کر زمین پر گر کے مر گئے ۔وہ ایل ڈی اے جو لاہور میں شہریوں کے مکانات کے نقشے پاس کرتا ہے اس کا اپنا یہ حال تھا، اسی طرح لاہور کے کئی ہوٹلوں میں ایمرجنسی سیڑھیاں ہی نہیں تھیں جو ایل ڈی اے کے واقعے کے بعد لگائی گئیں۔ لاہور میں ڈی ایچ اے میں کسی گھر کا نقشہ اس وقت تک پاس نہیں ہو سکتا جب تک اس گھر کے اندر سینٹرلی یعنی مرکزی آگ بجھانے کا سسٹم اور کیمرے نہ لگے ہوں اور نہ اس گھر کو کمپلیشن سرٹیفکیٹ مل سکتا ہے۔ جب تک اس گھر میں آگ بجھانے کا سسٹم نہ لگا ہو اب آپ دیکھیں 10مرلہ ،ایک کنال اور دو کنال کے گھروں میں ڈی ایچ اے نے یہ سسٹم لازمی کر رکھا ہے تو پھر ہماری حکومت کے ماہرین سوئے ہوئے تھے۔ پمز کا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں اور حکومت صرف اسکی انتظامیہ کو معطل کرنے کی بجائے انکی پنشن اور گریجویٹی تک ضبط کرے اور وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال کا رویہ اور لوگوں سے انہوں نے جس طرح بات کی وہ قابل افسوس ہے اور یہ کہنا کہ ملک کے سرکاری اسپتالوں میں ویسے بھی دورانِ پیدائش یا نرسریوں میں ڈیڑھ سے دو ہزار بچے روزانہ مر جاتے ہیں، انتہائی افسوسناک ہے۔ وہ جو ڈیڑھ ہزار بچے روزانہ مر جاتے ہیں اس کی ذمہ داری بھی حکومت پر ہے۔ بین الاقوامی معیار کے مطابق دو یا تین بچوں پر ایک نرس اور ڈاکٹر ہوتا ہے یہاں تو ایک نرس 20بچے سنبھالتی ہے۔پمزکی بجلی کی وائرنگ کو کبھی کسی نے چیک کیا ؟ وہ الیکٹریشن کہاں ہے جس کا کام تھا کہ وہ بجلی کے سارے سرکٹ بریکر بند کرتا؟ انگریزکے دور میں ہر وارڈ کے باہر فیوز لگے ہوتے تھے جو ہم نے خود دیکھے ہیں اور میو اسپتال کے اے وی ایچ کے باہریہ فیوز لگے ہوتے تھے۔ جب بھی بجلی میں خرابی آتی فیوز اڑ جاتا اور بجلی بند ہو جاتی۔ (جاری ہے)

تازہ ترین