• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خیبرپختونخوا کے سابق گورنر شاہ فرمان کی یہ بات وزن رکھتی ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد ہم نے چار صوبوں کی شکل میں چار ملک بنادئے ہیں۔ وفاق جو محصولات جمع کرتا ہے ، اس کا بیشتر حصہ نیشنل فنانس کمیشن کی رو سے صوبوں کے پاس چلاجاتا ہے جبکہ مرکز کنگال رہ جاتا ہے ۔ اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کو چونکہ این ایف سی میں حصہ نہیں ملتا اس لئے ان کی ضرورت بھی بعدازاں مرکز نے پوری کرنی ہوتی ہے۔ اسی لئے گزشتہ بجٹ کے دوران مرکز کو منت ترلہ کرکے صوبوں سے تھوڑی سی رقم واپس لینی پڑی لیکن پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اس معاملے میں بالکل قارون بنی ہوئی ہے ۔ 2018ءمیں جب فاٹا کا پختونخوا کے ساتھ انضمام ہورہا تھا تو سرتاج عزیز کمیٹی نے اپنی رپورٹ (جو پرنٹڈ شکل میں موجود ہے) میں یہ سفارش کی تھی کہ دس سال تک ڈویزیبل پول کی تین فی صد رقم فاٹا کو دی جائیگی تاکہ وہ ملک کے باقی حصوں کے کسی حد تک برابر آسکے۔ اسکے بعد ہم بار بار عمران خان حکومت کے عہدیداروں کو متوجہ کرتے رہے کہ وہ اس مقصد کیلئےاین ایف سی کا اجلاس بلائیں تو ان کی طرف سے جواب ملتا کہ سندھ نہیں مان رہا۔ اسی طرح شہباز شریف کی حکومت میں بھی ہمیں یہی جواب ملتا ہے کہ سندھ تیار نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا سندھ، بلوچستان یا خود خیبرپختونخوا سے زیادہ غریب ہے؟ ۔ گویا اگر پچھلے آٹھ سال میں خیبرپختونخوا کو فاٹا کے حصے کے تین فی صد (ڈویزیبل پول) کے نہیں مل سکے تو مرکزی حکومتوں کیساتھ ساتھ اس کی ذمہ دار سندھ کی پیپلزپارٹی کی حکومت بھی ہے۔ علاوہ ازیں جب فاٹا کی ڈیڑھ کروڑ آبادی پختونخوا کیساتھ شامل ہوگئی ہے تو اس حساب سے قابل تقسیم محاصل کی تقسیم کا کلیہ بھی تبدیل ہونا چاہئے اور پختونخوا کا حصہ اس حساب سے بڑھنا چاہئے لیکن اس حوالے سے بھی کوئی ٹس سے مس نہیں ہورہا اور پختونخوا کو اس حساب سے حصہ مل رہا ہے جس حساب سے فاٹا انضمام سے قبل ملا کرتا تھا۔

پاکستان کے چاروں صوبے اپنے اپنے وسائل کے حوالے سے قارون بن کر نہ تو اوپر منتقل کرنے کو تیار ہیں اور نہ نیچے۔ جس آئین کی رو سے انہیں قابل تقسیم محاصل سے کھربوں روپے ملتے ہیں اور جس کا ایک روپیہ وہ اپنی دسترس سے باہر کرنے کو تیار نہیں، اسی آئین کی رو سے پاکستان کی حکومت کے تین درجے ہیں۔ ایک وفاقی، ایک صوبائی اور ایک مقامی حکومتیں یا ضلعی حکومتیں۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کو پاس ہوئے سولہ سال ہوگئے لیکن اس دوران کسی بھی صوبے نے مقامی حکومتیں نہیں بنائیں۔ عدالتوں کے حکم پر انہوں نے کبھی کبھار بلدیاتی انتخابات کرائے لیکن انہیں مالی اور انتظامی اختیارات نہیں دیئے۔ ضلع کونسل یا تحصیل کونسل اور ضلعی حکومت اور تحصیل حکومتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ہماری صوبائی حکومتیں زیادہ سے زیادہ کونسلوں کا انتخابات کراتی ہیں حالانکہ انہیں نہ صرف مقامی حکومتیں منتخب کروانی چاہئیںبلکہ وفاقی فنانس کمیشن کی طرز پر صوبائی فنانس کمیشن بنا کر مرکز سے ملنے والی رقم کو ایک فارمولے کے تحت اضلاع میں تقسیم کرنا چاہئے لیکن تماشہ یہ ہے کہ ہر وزیراعلیٰ بادشاہ بنا ہوا ہے ۔ وہ اگر ایک ضلع کو سو ارب دے اور دوسرے کو ایک ارب بھی نہ دے تو ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صوبوں کے وسائل بے تحاشہ بڑھ جانے کے باوجود لوگوں کے معیار زندگی میں کوئی فرق نہیں آیا۔

ایک طرف پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی سڑکیں کھنڈرات بن گئی ہیں اور وہاں کے باسی فریاد کررہے ہیں کہ اندرون سندھ کی نمائندہ پیپلزپارٹی انہیں جائز حق نہیں دے رہی ہے جبکہ دوسری طرف پنجاب کے جنوبی اضلاع کو شکایت ہے کہ ان پر ان کے حصے کی رقم کا نصف بھی خرچ نہیں کیا جارہا۔ اس اکیسویں صدی میں چاروں صوبوں میں آج بھی ایسے اضلاع پائے جاتے ہیں جہاں پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔ مظفرگڑھ کے آدمی کو معمولی دفتری کام کیلئے یا پھراسپتال کیلئے سینکڑوں کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے لاہور آنا پڑتا ہے تو دوسری طرف کشمور اور جیکب آباد کے باسیوں کو سینکڑوں کلومیٹر کے فاصلے پر واقع کراچی جانا پڑتا ہے۔ بلوچستان میں تو رقبہ اتنا زیادہ ہے کہ ساحل سمندر پر واقع یا پھر چاغی جیسے اضلاع کے لوگوں کو کوئٹہ آنے کیلئے پورا دن بھی کم پڑجاتا۔ پختونخوا میں چترال کے لوگوں کو اسی صورت حال کا سامنا پشاور آنے کیلئے کرنا پڑتا ہے بلکہ سردی کے موسم میں تو اکثر اوقات ان کا رابطہ بھی پشاور سے منقطع ہوجاتا ہے۔ دوسری طرف وزرائے اعلیٰ ملنے والی رقم کو بے دردی سے خرچ کرتے ہیں۔ کوئی قیمتی جہاز خریدتا ہے تو کوئی چارٹر جہازوں میں پھرتا ہے۔ کوئی دبئی اربوں منتقل کررہا ہے تو کوئی مغرب میں محلات خرید رہا ہے ۔ جبکہ بنیادی سہولیات سے محروم عوام دن بدن نظام سے مایوس ہوتے جارہے ہیں۔

صوبوں کی موجودہ ہیئت قرآن میں نازل نہیں ہوئی۔ ماضی میں بھی ان میں رد و بدل ہوتا رہا۔ بہاولپور ماضی میں الگ ریاست تھی لیکن پھر اسے پنجاب کا حصہ بنا دیا گیا ۔ اسی طرح سوات اور دیر کی ریاستیں پختونخوا میں ضم ہوئیں۔ایک وقت میں تو ان چاروں صوبوں کو ون یونٹ میں بدل دیا گیا ۔ یہ صوبے لسانی بنیادوں پر نہیں بنے ۔ پنجاب میں پنجابیوں کے ساتھ سرائیکی اور پوٹھوہاری بستے ہیں ۔ بلوچستان میں صرف بلوچ نہیں بستے بلکہ پختون اور براہوی بھی اس کا حصہ ہیں۔ سندھ میں سندھیوں کے علاوہ اردواسپیکنگ، پختون ، پنجابی اور دیگر قومیتوں کے لوگ بڑی تعداد میں بستے ہیں ۔ پختونخوا میں پختونوں کے ساتھ ہندکو بولنے والے ہزارہ اور سرائیکی، چترالی اور دیگر زبانیں بولنے والے بڑی تعداد میں مقیم ہیں ۔تفصیل کا موقع نہیں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ یہ صوبے تاریخ کی بنیاد پر بھی نہیں بنے ۔ اب جب یہ صوبے نہ لسانی بنیادوں پر بنے ہیں اور نہ تاریخی بنیادوں پر تو عوام کی بہتری کیلئے ان کی مزید تقسیم میں کیا حرج ہے؟ ہاں اگر کچھ لوگ ان کی موجودہ ساخت سے جذباتی وابستگی رکھتے ہیں اور مزید صوبوں کے قیام کو کسی بھی وجہ سے کفر سمجھتے ہیں تو پھر انہیں ڈویژن کی سطح پر مالی اور انتظامی لحاظ سے خودمختار ایسے انتظامی یونٹس کو قبول کرنا ہوگا کہ جنہیں صوبائی ڈویزیبل پول سے متعین فارمولے کے مطابق رقم ملتی ہو۔ ان میں سے کونسا آپشن ہو؟ وہ میری مرضی سے ہوگا نہ کسی اور کی مرضی سے بلکہ اس کیلئے عوام سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ وہ اگر مزید صوبوں کے حق میں رائے دیں تو ان کی مرضی اور اگر صوبوں کے اندر بااختیار انتظامی یونٹس کو بہتر آپشن قرار دیں تو بھی ان کی مرضی۔ لیکن جیسے ہم چل رہے ہیں، اگر ویسے ہی چلتے رہے تو خاکم بدہن ایک روز ملک سے ہاتھ دھولیں گے۔ جو پہلے اربوں کھربوں بیرون ملک منتقل کر چکے ہیں وہ تو ادھر چلے جائیں گے لیکن ہم نے تو یہیں رہنا ہے۔

تازہ ترین