کراچی کے علاقے کھارادر میں ڈاکوؤں نے بینک سے رقم لے کر نکلنے والے شہری کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا اور اس سے 10 لاکھ روپے لوٹ کر فرار ہوگئے۔ واقعے کے وقت مقتول کا 16 سالہ بیٹا بھی اس کے ہمراہ موجود تھا۔
وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے واقعے کا نوٹس لے لیا۔
کھارادر چریا چوک کے قریب بینک سے معین اختر نامی شہری اپنے بیٹے کے ہمراہ 10 لاکھ روپے لے کر نکلا ہی تھا کہ کچھ ہی دور موٹر سائیکل سوار ملزمان نے اس سے رقم چھیننا چاہی اس دوران اس نے مزاحمت کی جس پر ملزمان نے فائرنگ کی اور رقم چھین کر فرار ہوگئے۔
فائرنگ سے شہری شدید زخمی ہوا، بیٹے نے موقع پر موجود افراد کی مدد سے زخمی باپ کو اسپتال پہنچایا لیکن وہ سول اسپتال پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ گیا۔
واقعے کے بعد ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور واقعے سے متعلق معلومات حاصل کیں، ان کا کہنا تھا کہ بینک اور آس پاس لگے دیگر سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز حاصل کی جارہی ہیں جلد ہی ملزمان کو گرفتار کرلیا جائے گا۔
وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے بھی واقعے کا نوٹس لے کر قاتلوں کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔
مقتول کے رشتے داروں نے اسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معین تین بچوں کا باپ اور پرائیویٹ جاب کرتا تھا حکومت نے ٹریفک چالان کے لیے تو کیمرے لگائے ہوئے ہیں، اس کے قاتلوں کو بھی جلد از جلد گرفتار کرکے قانون کے مطابق انھیں سزا دی جائے۔
یاد رہے کہ بینک سے رقم لے کر نکلنے والے شہریوں پر فائرنگ کے متعدد واقعات ہوچکے ہیں چند روز قبل کلفٹن میں بھی ایسے ہی ایک واقعے میں معصوم شہری جان سے چلا گیا تھا۔
واضح رہے کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا۔ سی پی ایل سی کی رپورٹ کے مطابق اگست میں اسٹریٹ کرائم کی 5 ہزار 204 وارداتیں ہوئیں، اسلحے کے زور پر شہریوں سے 1884 موبائل فونز، 502 موٹر سائیکلیں اور 16 گاڑیاں چھینی گئیں۔
اگست میں قتل و غارت گری میں 44 افراد کی جان گئی، ریکارڈ کے مطابق رواں سال کےابتدائی 8 ماہ میں اسٹریٹ کرائم کی مجموعی وارداتوں کی تعداد 39 ہزار 98 تک جا پہنچی ہے۔