کچھ حادثے تاریخ کے صفحات پر چند سطریں بن کر نہیں اترتے۔یہ انسانی حافظے کی دیوار پر ایک ایسا سیاہ نقش چھوڑ جاتے ہیں جسے وقت کی کوئی بارش دھو نہیں سکتی۔ نیپال کے پہاڑوں سے اترنے والی قیامت بھی ایسا ہی ایک سانحہ ہے۔پانی کا ایک طوفانی ریلا، ملبے کا ایک بے کراں سمندر اور ان کے درمیان انسان اپنے گھر، اپنے عزیز، اپنی امید اور اپنی زندگی کی آخری ڈور تھامے ہوئے۔ ہمالیہ کے یہ پہاڑ صدیوں سے خاموش کھڑے ہیں۔ برف ان کے ماتھے پر تاج کی مانند جمی اورسجی رہی۔ دریاؤں نے ان کے دامن سے جنم لیاقدرت کبھی کبھی اپنی خاموشی کا پردہ چاک کر دیتی ہے۔ پھر وہی پہاڑ جنہیں انسان حسن، تقدس اور عظمت کی علامت سمجھتا ہے۔اچانک خوف کی ایک ایسی زبان بولنے لگتے ہیں جس کے سامنے انسانی تدبیر کے تمام دفتر بند ہو جاتے ہیں۔نیپال میں آنے والی اس تباہی نے ایک بار پھر یہ سوال ہمارے سامنے رکھ دیا ہے کہ آخر انسان اپنی ترقی کے نشے میں قدرت کی تنبیہ کب تک نظرانداز کرتا رہے گا؟ ہم نے پہاڑوں کے سینے چیر کر سڑکیں نکالیں، دریاؤں کے کناروں پر بستیاں آباد کیں اور پھر یہ سمجھ لیا کہ شاید ہم نے فطرت کو مسخر کر لیا ہے۔ ایک لمحہ آتا ہے، آسمان کا رنگ بدلتا ہے، پہاڑ کے دامن سے پانی اترتا ہے، دریا اپنی حدود بھول جاتا ہے اور انسان کی برسوں کی محنت چند لمحوں میں کیچڑ، پتھر اور ملبے کے نیچے دفن ہو جاتی ہے۔ تب انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ جسے وہ استحکام سمجھ رہا تھا وہ دراصل ایک عارضی قیام تھا۔سب سے بڑا المیہ شاید عمارتوں کا گرنا نہیں۔انسانوں کا بچھڑ جانا ہے۔ ایک گھر کی چھت تو دوبارہ تعمیر ہو سکتی ہے، ایک پل دوبارہ بنایا جا سکتا ہے، ایک سڑک پھر بچھائی جا سکتی ہے مگر وہ شخص جو گھر سے نکلا اور واپس نہ آیا اس کی جگہ دنیا کی کوئی تعمیر پُر نہیں کر سکتی۔نیپال کا یہ سانحہ ہمیں یہ بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ترقی کا مطلب صرف بلند عمارتیں، کشادہ شاہراہیں اور جدید شہر ہیں؟ اگر ان منصوبوں کے ساتھ انسان کی جان محفوظ نہیں تو پھر ترقی کی یہ تمام چمک کس کام کی؟ ایک ایسی سڑک جو سیلاب کے پہلے ریلے میں بہہ جائے، ایک ایسا پل جو پہاڑ کے ملبے کے سامنے ٹھہر نہ سکے اور ایک ایسی بستی جو ہر سال خطرے کی زد میں آتی ہو اسے ترقی کا نمونہ کہنا شاید اپنے آپ سے فریب ہے۔
ہمالیہ کی برف میں ہونے والی تبدیلیاں، گلیشیئرز کا پگھلاؤ، بے ترتیب بارشیں اور بڑھتا ہوا درجہ ءحرارت پورے خطے کیلئے ایک خاموش انتباہ ہیں۔ پاکستان بھی اسی پہاڑی اور دریائی نظام کا حصہ ہے۔ ہمارے شمال میں پھیلے ہوئے گلیشیئر، ہمارے پہاڑی درے، ہمارے دریا اور ان کے کناروں پر آباد بستیاں ہمیں مسلسل یہ بتا رہی ہیں کہ آنے والا زمانہ صرف ترقی کے منصوبوں کا نہیں، بقا کی منصوبہ بندی کا زمانہ بھی ہے۔ہمیں اب صرف سڑکیں نہیں بنانی۔ محفوظ سڑکیں بنانی ہیں۔ صرف پل نہیں بنانے، ایسے پل بنانے ہیں جو غیر معمولی سیلاب کا مقابلہ کر سکیں۔ صرف موسم کی خبر نہیں دینی، بروقت خطرے کی اطلاع ان لوگوں تک پہنچانی ہے جنکے گھر خطرے کی لکیر پر واقع ہیں۔ حکومتوں کو قدرتی آفات کے بعد امداد دینے سے آگے بڑھ کر آفات سے پہلے تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ملبے کے نیچے زندگی تلاش کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ زندگی کو پہلے ہی ملبے کے نیچے جانے سے بچا لیا جائے۔قدرت کے سامنے انسان بے اختیار ضرور ہے، بے عقل نہیں۔ وہ تباہی کو مکمل طور پر روک نہیں سکتا لیکن اس کے اثرات کم کر سکتا ہے۔ جدید نگرانی، ابتدائی انتباہ، سائنسی منصوبہ بندی، محفوظ تعمیرات اور مقامی آبادی کی تربیت بہت سی جانوں کو بچا سکتی ہے۔ دنیا کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ موسمیاتی بحران کسی ایک ملک کی سرحد پر رکنے والا طوفان نہیں ۔
شاید قدرت کا سب سے بڑا سوال یہی ہے:
ہمیں اور کتنی تباہیاں درکار ہیں کہ ہم اپنی بقا کو اپنی ترجیح سمجھنا شروع کریں؟نیپال کا بے رحم طوفان گزر گیا، مگر اس کی گونج ابھی باقی ہے۔ یہ گونج پہاڑوں سے نہیں، انسان کے ضمیر سے آ رہی ہے۔ یہ ہمیں پکار رہی ہے کہ زمین کو فتح کرنے کے خبط سے نکل کر اس کے ساتھ جینا سیکھو۔دریا کو قید کرنے سے پہلے اس کی فطرت سمجھو۔ پہاڑ کو کاٹنے سے پہلے اس کی خاموشی میں چھپی تنبیہ سنو۔کیونکہ قدرت انتقام نہیں لیتی صرف اپنے قوانین یاد دلاتی ہے۔ اور جب انسان ان قوانین کو مسلسل فراموش کرتا رہے تو کبھی کبھی ایک طوفان آتا ہے، جو صرف بستیاں نہیں بہاتا، انسان کے غرور کی بنیادیں بھی اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔