• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا کی سیاست کبھی ایک جگہ نہیں ٹھہرتی۔ عالمی طاقتوں کے درمیان تعلقات،خطے میں بدلتی ہوئی صورتِ حال، معاشی مفادات، جنگیں، تجارتی معاہدے اور نئی جغرافیائی صف بندیاں ہر ملک کی خارجہ پالیسی کو مسلسل متاثر کرتی رہتی ہیں۔ پاکستان بھی ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان اور ایران جبکہ شمال میں چین موجود ہے۔ اس جغرافیائی حیثیت نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ہمیشہ غیر معمولی اہمیت دی ہے۔قیامِ پاکستان کے بعد سے آج تک ہماری خارجہ پالیسی مختلف ادوار سے گزری ہے۔ کبھی سیکورٹی اور دفاع بنیادی ترجیح رہے، کبھی عالمی طاقتوں سے قریبی تعلقات کو اہمیت دی گئی اور کبھی خطے کے ممالک کے ساتھ اقتصادی اور سیاسی روابط بڑھانے کی کوشش کی گئی۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو بدلتی ہوئی عالمی حقیقتوں کے مطابق ایک واضح اورطویل المدت حکمتِ عملی میں تبدیل کرے۔پاکستان کے ابتدائی برس انتہائی مشکل تھے۔ ملک کو دفاعی خطرات، محدود معاشی وسائل اور خطے کے سیاسی مسائل کا سامنا تھا۔ بھارت کے ساتھ کشمیر کا تنازع اور دیگر سیکورٹی معاملات نے پاکستان کی پالیسی سازی میں دفاع کو مرکزی حیثیت دی۔سرد جنگ کے دوران پاکستان نے امریکہ اور مغربی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کیے۔ ان تعلقات سے پاکستان کو دفاعی اور اقتصادی تعاون حاصل ہوا، لیکن وقت کے ساتھ یہ بحث بھی پیدا ہوئی کہ کیا پاکستان نے عالمی طاقتوں کے درمیان اپنے قومی مفادات کو ہمیشہ بہترین انداز میں ترجیح دی؟دوسری جانب چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مسلسل مضبوط ہوتے گئے۔ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، دفاعی اور اقتصادی تعاون نے ایک ایسے مضبوط رشتے کو جنم دیا جو آج پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔آج عالمی طاقتوں کا نظام بھی بدل رہا ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان معاشی اور اسٹرٹیجک مسابقت بڑھ رہی ہے، روس اور مغرب کے تعلقات میں کشیدگی موجود ہے، مشرقِ وسطیٰ مسلسل بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے اور افغانستان کی صورتحال پورے خطے کو متاثر کر رہی ہے۔ایسے ماحول میں پاکستان کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ کسی ایک طاقت کے ساتھ مکمل وابستگی کے بجائے متوازن اور قومی مفاد پر مبنی خارجہ پالیسی اختیار کرے۔پاکستان کیلئے امریکہ بھی اہم ہے، چین بھی، خلیجی ممالک بھی، ایران اور ترکی بھی، جبکہ وسطی ایشیا کے ممالک مستقبل میں پاکستان کیلئے بڑی اقتصادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اسلئے پاکستان کو عالمی تعلقات میں تصادم کے بجائے تعاون اور توازن کی پالیسی کو ترجیح دینی چاہئے۔آج کے دور میں کسی ملک کی طاقت صرف اس کی فوج یا سیاسی اثر و رسوخ سے نہیں بلکہ اسکی معیشت سے بھی طے ہوتی ہے۔ مضبوط معیشت ہی مضبوط سفارتکاری کو جنم دیتی ہے۔پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں اقتصادی سفارتکاری کو بنیادی حیثیت دینی چاہیے۔ پاکستانی سفارتخانوں کو صرف سیاسی رابطوں تک محدود رکھنے کے بجائے تجارت، برآمدات، سرمایہ کاری، سیاحت اور پاکستانی مصنوعات کے فروغ کیلئے فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔پاکستان کے پاس ٹیکسٹائل، زراعت، معدنیات، آئی ٹی، کھیلوں کا سامان، سرجیکل آلات اور دیگر شعبوں میں عالمی منڈی تک پہنچنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اگر سفارت کاری کو ان شعبوں کیساتھ جوڑ دیا جائے تو پاکستان کیلئے نئے معاشی دروازے کھل سکتے ہیں۔چین پاکستان کا دیرینہ دوست اور اہم اقتصادی شراکت دار ہے۔

سی پیک نے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو ایک نئی سمت دی ہے۔ گوادر، توانائی، انفراسٹرکچر اور صنعتی تعاون پاکستان کیلئے اہم مواقع فراہم کرتے ہیں۔تاہم مستقبل میں پاکستان کو صرف بیرونی سرمایہ کاری کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنی صنعتی اور برآمدی صلاحیت بھی بڑھانا ہوگی۔ چین کے ساتھ تعلقات کو تجارت، ٹیکنالوجی، زراعت، صنعت اور ہنرمندی کی ترقی کے شعبوں تک مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے جس میں قربت بھی رہی اور اختلافات بھی۔ مستقبل میں ان تعلقات کو صرف سیکورٹی کے تناظر میں دیکھنا پاکستان کے مفاد میں نہیں ہوگا۔امریکہ ایک بڑی عالمی اقتصادی منڈی ہے۔ پاکستان کو تجارت، آئی ٹی، تعلیم، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور پاکستانی کمیونٹی کےذریعے تعلقات کو ایک نئی معاشی بنیاد فراہم کرنی چاہئے۔پاکستان کو امریکہ اور چین کے درمیان انتخاب کرنے کے بجائے دونوں کیساتھ اپنے قومی مفادات کے مطابق تعلقات برقرار رکھنے کی حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہئے۔سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر خلیجی ممالک پاکستان کیلئے معاشی اور سفارتی اعتبار سے انتہائی اہم ہیں۔ لاکھوں پاکستانی ان ممالک میں روزگار حاصل کرتے ہیں اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔پاکستان کو مسلم دنیا میں بھی اپنا سفارتی کردار مزید مؤثر بنانا چاہیے۔ سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ تعلقات، ایران کے ساتھ ہمسائیگی اور دیگر مسلم ممالک کے ساتھ روابط پاکستان کو خطے میں ایک متوازن سفارتی کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ایران اور افغانستان پاکستان کے دو ایسے ہمسایہ ممالک ہیں جن کے ساتھ تعلقات براہِ راست پاکستان کی سلامتی، تجارت اور علاقائی استحکام سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایران کےساتھ پاکستان کو تجارت، سرحدی تعاون، توانائی اور باہمی اقتصادی روابط بڑھانے چاہئیں، جبکہ افغانستان کے ساتھ امن، سرحدی انتظام، تجارت اور ٹرانزٹ کے معاملات کو مستقل سفارتی رابطوں کے ذریعے آگے بڑھانا ضروری ہے۔افغانستان میں امن پاکستان کیلئے صرف سیکورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ وسطی ایشیا تک تجارت اور اقتصادی رسائی کا بھی ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بھارت ایک اہم اور پیچیدہ مسئلہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کشمیر سمیت کئی بنیادی تنازعات موجود ہیں۔ کشیدگی نے دونوں ممالک کی معیشت اور خطے کے امن کو بھی متاثر کیا ہے۔پاکستان کو اپنے قومی مفادات اور سلامتی پر سمجھوتہ کیے بغیر مذاکرات اور سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھنے چاہئیں۔ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں، جبکہ مضبوط معیشت، مؤثر سفارت کاری اور عالمی سطح پر قانونی و سیاسی مؤقف زیادہ دیرپا راستہ فراہم کر سکتے ہیں۔

تازہ ترین