چاہے زمانہ قدیم کا رومن اکھاڑہ ہو یا دورِ جدید کی اکیسویں صدی، کھیلوں کے مقابلے ہمیں سکھلاتے ہیں کہ زندگی میں کامیابی کا تعلق عزم و حوصلےسے ہوتا ہے، بعض اوقات ایک ایسا کھلاڑی جو زندگی کے مشکل ترین حالات کا سامنا کر رہا ہوتا ہے، جب کھیل کے میدان میں قدم رکھتا ہے تو وہ اپنے حوصلے سےمدمقابل کو شکست دیکر سب کو حیران کردیتا ہے۔ پریم نگر دی لینڈ آف لونے کراچی اور حیدرآباد میں میوزیکل کنسرٹس میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کے بعد اسلام آباد میں خصوصی بچوں کیلئےایک ایسے منفرد اسپورٹس اور چیریٹی میوزک پروگرام کا اہتمام کیاہےجہاں کھیل، موسیقی اور انسانیت ایک ہی مقصد کیلئے یکجا ہوکر نئی تاریخ رقم کردیں گے، رواں ہفتے12 ستمبر کو پاکستان اسپورٹس کمپلیکس اسلام آباد میں منعقد ہونے والی اس یادگاری تقریب میں اسلام آبادکے مختلف سرکاری و نجی تعلیمی اداروں، خصوصی بچوں کے مراکز اور سماجی اداروں سے تعلق رکھنے والے خصوصی بچوںکے مابین مختلف کھیل، تفریحی سرگرمیاں اور دیگر مقابلے منعقد کیے جائیں گےجنکا مقصد خصوصی بچوں کو اعتماد، حوصلہ اور اپنی صلاحیتوں کے بھرپور اظہارکا موقع فراہم کرنا ہے،جب یہ بچے اسپورٹس کمپلیکس کے میدان میں اُتریں گےتو وہاں موجود ہر تماشائی انہیں داد دینے پر مجبور ہوجائے گا، ان بچوں میں کوئی دیکھ نہیں سکتا مگر اس کی آواز میں ایسا سُر ہے جو ِدلوں کو چھو لیتا ہے، کوئی بچہ ہاتھوں سے محروم ہے لیکن اپنے پاؤں سے ایسی خوبصورت مصوری کرتا ہے کہ صحت مند ہاتھ رکھنے والے بھی حیران رہ جاتے ہیں، ان میں کسی بچے کی ٹانگیں نہیں لیکن وہ وہیل چیئر ریس کے ذریعے آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتا ہے، ایسے بچے بھی موجود ہیں جو نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں، جنہیں انکے اپنوں نے تنہا چھوڑ دیا ہے، مگر وہ زندگی سے شکوہ نہیں کرتے۔پریم نگر کے زیراہتمام چیئرٹی اسپورٹس ایونٹ کا سب سے دلچسپ مرحلہ تقسیم انعامات کی رنگارنگ تقریب کی صورت میں سامنے آئے گا جب مقابلے جیتنے والے بچوں کو انعامات دینے کیلئے اسٹیج پر مدعو کیا جائیگا، یہ خصوصی بچےتالیوں کی گونج میں اپنے ہاتھوں میں ٹرافیاں اُٹھائے عزم، حوصلے اور جدوجہد کی جیتی جاگتی تصویر پیش کریں گے ،اختتامی تقریب کے موقع پر پریم نگر کے برانڈ ایمبسڈرز کوئین آف صوفی میوزک عابدہ پروین اور استاد راحت فتح علی خان لائیو پرفارمنس دینے کیلئے پہلی مرتبہ ایک ساتھ اسٹیج پر آئیںگے، وہاں موجود شایقین موسیقی کیلئےایک اور دلچسپی کا امر مقبول گلوکار ابرار الحق کو اپنے درمیان پانا ہوگا جو استاد راحت فتح علی خان کے ہمراہ خصوصی پرفارم کرکے ایک گانا پریم نگر کے ننھے فرشتوں کے نام کریں گے۔صوفی گلوکارہ عابدہ پروین جب شاہ عبداللطیف بھٹائی، بلھے شاہ، بابا فرید، سلطان باہو اور سچل سرمست جیسے عظیم صوفی شعرا کا کلام پیش کریں گی تو انکی آواز میں سندھ دھرتی کا صدیوں پرانا محبت اور بھائی چارے کا درس گونجے گا جو ہرانسان کو مذہبی، لسانی اور سماجی اختلافات سے بلند ہو کر محبت اور انسانیت کیلئے سوچنے پر مجبور کردیگا۔دوسری جانب استاد راحت فتح علی خان نے صوفی موسیقی کو پاکستان سے دنیا بھر تک پہنچانے میں ایک نمایاں کردار ادا کیا ہے،انکی آواز محبت اور روحانیت کی اُس عظیم روایت کی نمائندگی کرتی ہے جو ہمارے خطے کی پہچان ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ دردِ انسانیت رکھنے والے ایسےعظیم فنکاروں کا ہمارے فلاحی مشن کے ساتھ کھڑا ہونا خود اس بات کا ثبوت ہے کہ اگرکھیل جسم کے حوصلے کی نمائندگی کرتے ہیں توموسیقی روح سے مخاطب ہوتی ہے،کھیل ہمیں ٹیم ورک، نظم و ضبط اور برداشت کا سبق دیتے ہیں، جبکہ صوفیانہ کلام محبت، امن، رواداری، بھائی چارے اور انسانیت کواجاگرکرتا ہے۔جب پریم نگر سے وابستہ عظیم فنکار خصوصی بچوں کو داد دینے ایک نیک مقصد کے تحت اسٹیج پر آئیں گے تو یہ منظر یقیناً ایک یادگار تاریخی لمحہ بن جائے گا۔تھرپارکر کے صحراؤں میں 150ایکڑ زمین پر محیط پریم نگر دی لینڈ آف لوَ ایک ایسے ماڈل ویلفیئر ویلج کے قیام کی مخلصانہ کوشش ہے جہاں خصوصی بچوں، یتیم بچوں ، بے سہارا خواتین، بزرگ شہریوں، معذور افراد اور دیگر محروم طبقات کیلئے تعلیم، صحت، بحالی، رہائش اور ہنرمندی کے مواقع پیدا کیے جارہے ہیں، تاہم ایسے منصوبے صرف خوابوں سے مکمل نہیں ہوتے بلکہ ان کو چلانے کیلئے بہت زیادہ وسائل، تعاون اور اجتماعی ذمہ داری درکار ہوتی ہے،میں نے موسیقی اور کھیل کو فلاحی خدمت کے ساتھ یہی سوچ کر جوڑا ہے تاکہ اسلام آباد کے لوگ ایک خوبصورت اور یادگار تقریب میں شریک ہونے کے ساتھ ساتھ کسی ضرورت مند کی زندگی میں بھی مثبت تبدیلی لانے کا باعث بنیں، آپکی معاونت فلاحی منصوبے کو آگے بڑھا سکتی ہے، آپ کی ڈونیشن کسی بچےکیلئے تعلیم کا ذریعہ بن سکتی ہے،آپ کا تعاون کسی مستحق فرد کو سہارا دے سکتا ہے اور آپ کا خریدا ہوا ایک ٹکٹ کسی بچے کے چہرے پر مسکراہٹ لا سکتا ہے۔میں اسلام آباد راولپنڈی اور گردونواح میں بسنے والوں سے خصوصی اپیل کرتا ہوں کہ وہ 12 ستمبر کوپاکستان اسپورٹس کمپلیکس میں خصوصی بچوں کے کھیلوں کے مقابلوں میںدل کھول کر داد دیں ، بچوں کی حوصلہ افزائی کیلئے آپ کی ایک تالی، ایک مسکراہٹ اور ایک لمحے کی توجہ بھی اِن معصوم فرشتوں کوخوشیوں سے مالامال کرسکتی ہے۔آئیے، پریم نگر کے اس خواب کو پورا کرنے میں میرا ساتھ دیں کہ کوئی بچہ اپنی محرومی کی وجہ سے پیچھے نہ رہ جائے ، کوئی انسان بے سہارا نہ ہو اور معاشرہ کسی فرد کو اس کی کمزوری کی بنیاد پر تنہا نہ چھوڑے۔ ہمیں یہ ثابت کرنا ہے کہ کوئی جسمانی یا ذہنی کمزوری کسی انسان کی صلاحیتوں کو ختم نہیں کرتی،خصوصی بچوں کی کامیابیوں کی داستان ہمارے معاشرے میں بکِھرے ان بے شمار انسانوں کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دے گی جنہیں ہم حالات کے جبر سے لڑنے کیلئےدھتکار کر اکیلا چھوڑ دیتے ہیں ۔مجھے یقین ہے کہ 12ستمبر کواسلام آباد میں کھیل کے میدان میں حوصلہ، اسٹیج پر موسیقی اور دل میں انسانیت کا درد معاشرے میں مثبت تبدیلی کا بڑا محرک بن جائیگا۔