• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

راچڈیل ریپسٹ جرائم میں ملوث افراد کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں: پیر حسان حسیب

لندن: پاکستان کے ممتاز عالم دین و روحانی پیشوا پیر محمد حسان حسیب الرحمٰن نے گرومنگ گینگز اور بچوں کے جنسی استحصال کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ راچڈیل کے ریپسٹ شبیر احمد جیسے جرائم میں ملوث افراد کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، انہیں قانون کے تحت سخت ترین سزا دی جانی چاہیے۔

انہوں نے یہ بات جیو نیوز کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ انہوں نے برطانیہ میں تقریباً 50 بڑے اجتماعات سے خطاب کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مسلمانوں کو ان تمام افراد کی مذمت کرنی چاہیے اور پولیس کو اطلاع دینے والوں میں سب سے آگے ہونا چاہیے جو گرومنگ، جنسی استحصال، منشیات، جرائم یا انتہاپسندی میں ملوث ہوں۔ خواہ مجرم کا مذہب، نسل یا خاندانی پس منظر کچھ بھی ہو۔

پیر حسان حسیب الرحمٰن راولپنڈی کی معروف صوفی مذہبی مرکز عیدگاہ شریف سے وابستہ ہیں اور پاکستان و بیرونِ ملک مذہبی و روحانی اجتماعات سے خطاب کے حوالے سے وسیع شہرت رکھتے ہیں۔ برطانیہ میں اس مرکز کے ہزاروں پیروکار ہیں۔

دوران انٹرویو میں پیر حسان نے بتایا کہ انہوں نے تقریباً چھ ہفتوں کے دوران لندن، مڈلینڈز، یارکشائر اور اسکاٹ لینڈ میں منعقد ہونے والے تقریباً 43 مذہبی اجتماعات میں گرومنگ گینگز کے مسئلے پر بار بار گفتگو کی۔ ان کے مطابق برطانوی مسلم کمیونٹی گرومنگ گینگز کے مجرموں سے متعلق خبروں اور اس کے وسیع تر کمیونٹی پر ممکنہ اثرات کے بارے میں شدید تشویش میں مبتلا ہے۔

پیر حسان حسیب نے کہا کہ کمیونٹی نے ان سے درخواست کی کہ وہ کم عمر بچوں کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کے برے اور مجرمانہ کردار کو اجاگر کریں۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے اجتماعات میں شرکت کرنے والوں کی اکثریت نوجوان برطانوی مسلمانوں پر مشتمل تھی، اس لیے علما کے لیے ضروری ہے کہ وہ روایتی مذہبی موضوعات کے ساتھ ساتھ ان ذمہ داریوں پر بھی بات کریں جو مسلمان ان ممالک کے شہری کی حیثیت سے ادا کرتے ہیں جہاں وہ رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے اور اہم بات یہ ہے کہ مسلمانوں کو گرومنگ گینگز کی مذمت کرنی چاہیے، ہم ان کی سخت مذمت کرتے ہیں، ان کا اسلام کی تعلیمات سے قطعاً کوئی تعلق نہیں۔ جو بھی بچوں کا جنسی استحصال کرے، اس کی مخالفت اور اسے سزا دی جانی چاہیے، خواہ وہ مسلمان ہو، پاکستانی ہو یا کسی بھی دوسرے پس منظر سے تعلق رکھتا ہو۔

پیر محمد حسان حسیب الرحمٰن نے کہا کہ اگر ہماری اپنی کمیونٹی کے افراد غلط کاموں میں ملوث ہوں تو ان کی مخالفت کی جانی چاہیے، غلط کام کے سامنے خاموش رہنا درحقیقت اس میں شریک ہونے کے مترادف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گرومنگ اور جنسی زیادتی اسلام، انسانیت اور قانون کے خلاف ہیں اور زور دیا کہ اسلامی تعلیمات بچوں کے استحصال یا ان سے بدسلوکی کے لیے کسی قسم کا جواز فراہم نہیں کرتیں۔

انہوں نے کہا کہ مجرموں کو ان کے کیے کی سزا ملنی چاہیے اور یہ واضح پیغام دیا جانا چاہیے کہ نہ مذہبی شناخت اور نہ ہی کمیونٹی سے تعلق مجرموں کو قانون سے بچانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پیر محمد حسان حسیب الرحمٰن کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب برطانیہ میں اجتماعی بنیادوں پر بچوں کے جنسی استحصال کے معاملے پر وسیع قومی بحث جاری ہے۔ برطانوی حکومت نے گرومنگ گینگز کے بارے میں ایک قانونی حیثیت رکھنے والی آزادانہ تحقیقات کی ہیں، جس کا مقصد ایسے واقعات سے متعلق ادارہ جاتی ناکامیوں کا جائزہ لینا ہے، جن میں نسل، مذہب اور ثقافت سے متعلق سوالات بھی شامل ہیں۔

پیر حسان نے گرومنگ گینگز کے مجرموں کو اسلام، مسلمانوں یا پاکستانیوں کے نمائندوں کے طور پر پیش کرنے کی کوششوں کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے جرائم میں ملوث مسلمان اپنے مذہب اور کمیونٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں لیکن وہ اسلامی تعلیمات کے خلاف کام کرنے والے مجرم ہیں نہ کہ وسیع تر مسلم آبادی کے نمائندے۔ انہوں نے کہا کہ گرومنگ گینگز، منشیات فروشوں، مجرموں اور انتہاپسندوں نے، خواہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہوں، مسلمانوں اور ہماری کمیونٹی کی بدنامی کا باعث بنے ہیں۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ مجرمانہ رویہ کسی ایک مذہبی یا نسلی گروہ تک محدود نہیں ہے، انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی کمیونٹی کے اندر جرائم کے خلاف فعال کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ اگر وہ کسی دوست یا رشتہ دار کو ایسی سرگرمیوں میں ملوث دیکھیں، خواہ وہ جرم ہو، انتہاپسندی ہو یا گرومنگ گینگز سے متعلق معاملہ، تو انہیں ذاتی طور پر اس شخص کی پولیس کو اطلاع دینی چاہیے۔

پیر حسان نے برطانوی مسلم نوجوانوں کے لیے بھی سخت پیغام دیا اور ان پر زور دیا کہ وہ برطانوی قانون کا احترام کریں، انتہاپسند اور مجرمانہ نیٹ ورکس سے دور رہیں اور برطانیہ میں حاصل مذہبی اور شہری آزادیوں کی قدر کریں۔ برطانیہ میں مسلمانوں کو عبادت کی وسیع آزادی حاصل ہے، جس میں مساجد کا قیام، مذہبی اجتماعات منعقد کرنا اور میلاد النبیﷺ کی تقریبات کا اہتمام کرنا بھی شامل ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کو ان آزادیوں کا جواب ذمہ دار، پُرامن اور قانون کی پابندی کرنے والے شہری بن کر دینا چاہیے۔ 

پیر حسان نے کہا کہ برطانوی مسلمانوں کو اپنے آپ کو اپنے مذہب کا سفیر سمجھنا چاہیے، کیونکہ ان کا ذاتی رویہ اس بات پر لازماً اثر انداز ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ اسلام کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ اسلام انتہاپسندی کو مسترد کرتا ہے، مسلمانوں کو اپنے کردار اور عمل سے بھی اس اصول کو ثابت کرنا ہوگا۔

پیر محمد حسان حسیب الرحمٰن کا کہنا تھا کہ چند افراد کی جانب سے کیے گئے مجرمانہ اعمال کو کبھی بھی پوری کمیونٹی کو بدنام کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، تاہم انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ جب ان کی اپنی کمیونٹی کے افراد غلط کاموں میں ملوث ہوں تو اس حقیقت سے انکار کے ذریعے ردِعمل ظاہر نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ اسلاموفوبیا کا سب سے مؤثر جواب یہ ہے کہ مسلمان ایمانداری، اچھے کردار، پڑوسیوں کے احترام اور قانون کی پابندی کے ذریعے اپنے عمل سے مثال قائم کریں۔

پیر حسان نے کہا کہ مسلمانوں کو غیر مسلموں کے ساتھ احترام اور حسنِ سلوک سے پیش آنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ان کا روزمرہ کا طرزِ عمل امن، انسانیت، امانت داری اور اخلاقی ذمہ داری جیسی اسلامی اقدار کی عکاسی کرے۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے اپنے پورے دورے کے دوران ان کا مرکزی پیغام یہی رہا کہ نوجوان مسلمان ہر قسم کے جرم اور انتہاپسندی کو مسترد کریں اور جس معاشرے میں وہ رہتے ہیں اس کے مثالی شہری بنیں۔

برطانیہ و یورپ سے مزید