ترجمان جماعتِ اسلامی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت فی لیٹر پیٹرول پر 85 روپے لیوی وصول کر رہی ہے جس کا پیٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ترجمان جماعتِ اسلامی نے کہا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں 80 روپے لیوی کے لیے جبکہ 5 روپے کاربن لیوی کے شامل ہیں یہ ٹیکس براہ راست وفاقی حکومت کے پاس جاتا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ شہباز حکومت ڈھائی سال میں لیوی کی مد میں 3 ہزار 137 ارب روپے وصول کر چکی ہے جبکہ صرف گزشتہ مالی سال میں حکومت نے 1 ہزار 567 ارب روپے پیٹرولیم لیوی کی مد میں وصول کیے ہیں۔
جماعتِ اسلامی کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ وصول کیا گیا لیوی ٹیکس اپنے اصل ہدف سے 99 ارب روپے زیادہ تھا، رواں سال پیٹرولیم لیوی کا ہدف 1 ہزار 676 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ حکومت 2010ء کے بعد سے پاکستانیوں سے ساڑھے 8 ہزار ارب روپے لیوی ٹیکس وصول کر چکی ہے۔
ترجمان جماعتِ اسلامی نے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت سے مذاکرات میں جماعتِ اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے 6 متبادل تجاویز دی ہیں۔